علاقائی

Who Gains From GST 2.0? Middle Class: جی ایس ٹی 2.0 سے فائدہ کس کو؟ مڈل کلاس، کسان اور صحت مند بھارت کا خواب

نئی دہلی– جی ایس ٹی 2.0 صرف ٹیکس میں اصلاح نہیں، بلکہ ایک مضبوط سیاسی پیغام ہے۔ مڈل کلاس سے لے کر کسانوں تک، بھارت کے بالواسطہ ٹیکس نظام میں کی گئی یہ بڑی تبدیلی آئندہ بہار انتخابات سے قبل اہم ووٹر طبقات کو خوش کرنے کی حکومتی حکمتِ عملی معلوم ہوتی ہے۔

جی ایس ٹی کی پرانی چار سطحوں — 5فیصد 12فیصد, 18فیصد, اور 28فیصد — کو اب صرف دو بنیادی سلیبز میں بدل دیا گیا ہے: 5فیصد اور 18فیصد، جبکہ 40 فیصد کا نیا ٹیکس سلیب متعارف کرایا گیا ہے، جو کہ لگژری اور ‘گناہ’ کی اشیاء پر نافذ ہوگا۔

مڈل کلاس: اقتصادی فائدے اور سیاسی اہداف

ملک کی آبادی کا تقریباً 31 فیصد مڈل کلاس پر مشتمل ہے، جو نہ صرف معیشت کی اہم قوت ہے بلکہ انتخابی لحاظ سے بھی ایک فیصلہ کن طبقہ ہے۔ بجٹ میں ٹیکس چھوٹ کے بعد، جی ایس ٹی 2.0 کے ذریعے حکومت نے اس طبقے کو مزید فائدہ پہنچایا ہے۔

چھوٹی کاریں، ایل ای ڈی ٹی وی، ایئر کنڈیشنرز، سینما ٹکٹ، چاکلیٹس، پنسلز، جیومیٹری باکس وغیرہ پر اب صرف 18 فیصد ٹیکس لاگو ہوگا، جو پہلے 28 فیصد تک تھا۔ جبکہ روزمرہ کی استعمال کی اشیاء — جیسے صابن، شیمپو، تیل، ٹوتھ پیسٹ، ٹوتھ برش، پاؤڈر، موم بتی، شیونگ کٹس، ماچس، اسٹیشنری اور کھلونے — پر ٹیکس کو کم کر کے 5 فیصد کر دیا گیا ہے۔

صحت کے شعبے میں بڑی راحت

صحت کے بڑھتے ہوئے اخراجات کو مدِنظر رکھتے ہوئے، حکومت نے لائف اور ہیلتھ انشورنس پریمیم پر جی ایس ٹی مکمل طور پر ختم کر دیا ہے۔ اس کے علاوہ، کینسر اور دیگر نایاب بیماریوں کے علاج میں استعمال ہونے والی 33 جان بچانے والی دوائیں بھی اب مکمل طور پر ٹیکس فری ہیں۔ ڈائیگنوسٹک کٹس، تھرمومیٹر اور بیشتر ادویات پر ٹیکس کو 5 فیصد کر دیا گیا ہے۔

کسان اور دیسی صنعت کے لیے بھی نفع بخش قدم

حکومت کے “آتم نربھر بھارت” (خود کفیل بھارت) مشن کے تحت، دیسی صنعتوں کو فروغ دینے کے لیے ٹیکس ڈھانچے کو مقامی مصنوعات کے لیے سازگار بنایا گیا ہے۔ ہاتھ سے بنے کپڑے، دیسی کاسمیٹکس اور ہینڈی کرافٹس پر ٹیکس میں نرمی، چھوٹے کاروباروں اور دستکاروں کے لیے بڑا ریلیف ہے۔

یہ اقدامات نہ صرف دیسی صنعت کی مدد کریں گے بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی یہ پیغام دیں گے کہ بھارت اپنی اقتصادی خود مختاری کو سنجیدگی سے لے رہا ہے۔

تہواروں کا تحفہ یا انتخابی چال؟

جی ایس ٹی 2.0 کا نفاذ ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب دیوالی اور دیگر تہوار قریب ہیں۔ حکومت اس ریفارم کو ایک تہوار کے موقع پر دیا گیا تحفہ قرار دے رہی ہے، جو گھریلو بجٹ کو ریلیف دے گا، دیسی صنعت کو توانائی بخشے گا، اور ایک سیاسی طور پر اہم سہ ماہی کے لیے زمین ہموار کرے گا۔

ماہرین کے مطابق، بہار انتخابات کے پیش نظر یہ قدم نہایت اہم ہے، جہاں مڈل کلاس ووٹرز حکومت کے حق یا مخالفت میں نتیجہ بدل سکتے ہیں۔

بھارت ایکسپری اردو

Abu Danish Rehman

Recent Posts

PM Modi Attends ‘Bhajan Clubbing’: پنڈت دین دیال اپادھیائے کی جینتی پر ’بھجن کلبنگ‘ میں شریک ہوئے پی ایم مودی، کھنجری بجاتے آئے نظر

وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعہ کی شام دہلی کے دین دیال اپادھیائے پارک پہنچ…

7 hours ago

Opposition Protest Against CEC Gyanesh Kumar: سی ای سی گیانیش کمار کے خلاف سڑک پر اپوزیشن، پٹنہ میں آر جے ڈی کا احتجاج، کانگریس نے مانگا استعفیٰ

انتخابی کمیشن کی کارروائی اور ووٹر فہرست کی نظرثانی سے متعلق اپوزیشن کا احتجاج، کانگریس…

7 hours ago