الہ آباد ہائی کورٹ نے یوپی میں 5000 اسکولوں کے انضمام کے خلاف داخل عرضی خارج کردی۔
الہ آباد: الہ آباد ہائی کورٹ نے موتی لال نہرو میڈیکل کالج، پریاگ راج سے منسلک ایس آر این (سورپ رانی نہرو) اسپتال کی صورتحال کا غیر جانبدارانہ جائزہ لینے کے لیے دو وکلا کو عدالتی معاون مقرر کرتے ہوئے اسپتال کے پرائیویٹ اور جنرل وارڈز کی تصویری رپورٹ طلب کی ہے۔
اسپتال کے پرنسپل کی جانب سے داخل کردہ حلف نامے میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اسپتال میں تمام طبی سہولیات دستیاب ہیں۔ اس پر عدالت نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ اگر واقعی ایس آر این اسپتال میں تمام سہولیات موجود تھیں تو پھر ایک سرکاری ڈاکٹر نے مریض کا علاج کسی نجی نرسنگ ہوم میں کیوں کروایا؟
جسٹس روہت رنجن اگروال نے یہ احکامات ڈاکٹر اروند گپتا کی ایک عرضی پر سماعت کے دوران دیے، جو انہوں نے ریاستی صارف تنازعات حل کمیشن کے ایک فیصلے کے خلاف دائر کی تھی۔ گزشتہ سماعت کے حکم کے مطابق، پریاگ راج کے موتی لال نہرو میڈیکل کالج اور کانپور کے جی ایس وی ایم میڈیکل کالج کے پرنسپلز نے عدالت میں حلف نامے داخل کیے تھے۔ خاص طور پر موتی لال نہرو میڈیکل کالج کی جانب سے ایس آر این اسپتال کی صاف ستھری تصاویر بھی پیش کی گئیں، جن میں اسپتال کے مختلف شعبوں کی حالت دکھائی گئی تھی۔ عدالت نے ان تصاویر کو دیکھ کر ابتدائی طور پر رائے دی کہ اسپتال میں سہولیات مناسب ہیں اور نظام قابو میں دکھائی دیتا ہے۔
تاہم، عدالت نے زور دے کر کہا کہ اگر سہولیات واقعی بہتر تھیں تو مریض کو نجی نرسنگ ہوم میں لے جانے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ عدالت نے اس تضاد کو کاغذی دعوؤں اور زمینی حقائق کے درمیان فرق قرار دیا۔
اس فرق کی حقیقت جاننے کے لیے عدالت نے ایڈووکیٹ ایشان دیو گری اور پربھوتی کانت تریپاٹھی کو عدالتی معاون مقرر کرتے ہوئے ہدایت دی ہے کہ وہ ایس آر این اسپتال کا دورہ کرکے ایک غیر جانبدار رپورٹ بمع تصاویر عدالت میں پیش کریں۔ کیس کی اگلی سماعت 20 مئی کو ہوگی۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
امت شاہ نے ودیا ساگر کی تعلیمی خدمات کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ انہوں…
راجہ رام موہن رائے نے ان برائیوں کے خلاف بھرپور آواز اٹھائی۔ ان کی سب…
کانگریس رہنما پرینکا گاندھی نے بھی سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ کو یاد کرتے ہوئے…
بل گیٹس نے این بی سی کی کرسٹن ویلکر سے انٹرویو میں کہا، ’’اے آئی…
29 جون کو سی بی ایس ای نے تین زبانوں کی پالیسی کے حوالے سے…
کے سی وینوگوپال نے مرکزی حکومت کو بھی نشانہ بنایا۔ انہوں نے حکومت اور اس…