نئی دہلی – ایک وقت میں “گبّر سنگھ ٹیکس” کے نام سے بدنام گڈز اینڈ سروسز ٹیکس (جی ایس ٹی) نے اب عام آدمی کے لیے “گریٹ سیونگز ٹیکس” کا روپ دھار لیا ہے۔ مودی حکومت کی جانب سے جی ایس ٹی میں بڑے پیمانے پر کی گئی اصلاحات نے روٹی سے لے کر کپڑے اور مکان تک — زندگی کی بنیادی ضروریات — کو سستا بنا دیا ہے۔
جی ایس ٹی کا سب سے بڑا ری سیٹ
22 ستمبر سے نافذ العمل ہونے والی جی ایس ٹی کونسل کی نئی اسکیم میں 12 فیصد اور 28 فیصد کے ٹیکس سلیب ختم کر دیے گئے ہیں۔ ان کی جگہ اب زیادہ تر عام استعمال کی اشیاء کو 5 فیصد یا 18 فیصد کے سلیب میں شامل کر دیا گیا ہے۔
کھانے پینے کی روزمرہ اشیاء جیسے یو ایچ ٹی دودھ، پنییر، پیزا بریڈ، روٹیاں اور پراٹھے اب مکمل طور پر ٹیکس فری ہو چکی ہیں، جبکہ مکھن، گھی، پنیر، جام، سوس، خشک میوہ جات، بسکٹ، چاکلیٹ، کارن فلیکس، سوپ اور آئس کریم پر جی ایس ٹی کو کم کر کے 5 فیصد کر دیا گیا ہے (پہلے 12 سے 18 فیصد تھا)۔
گھر کے بجٹ میں واضح کمی
ماہرین کے مطابق ان تبدیلیوں کے باعث شہری علاقوں میں اوسط ماہانہ خرچ میں 7-8 فیصد اور دیہی علاقوں میں 5-6 فیصد تک کی کمی متوقع ہے۔ ابھیشیک جین، پارٹنر و نیشنل ہیڈ – انڈائریکٹ ٹیکس، کے پی ایم جی انڈیا کے مطابق، “پیک شدہ کھانے پینے کی اشیاء جیسے نمکین اور بسکٹ پر جی ایس ٹی کو 18 فیصد سے کم کر کے 5 فیصد کر دیا گیا ہے، جس سے 100 روپے کی گروسری تقریباً 11 روپے سستی ہو جائے گی۔”
اسی طرح، شیمپو اور ٹوتھ پیسٹ جیسے ذاتی استعمال کی اشیاء پر بھی ٹیکس کم ہونے سے خاندانوں کو کچھ بچت حاصل ہو گی، جس کا اثر مجموعی ماہانہ بجٹ پر پڑے گا۔
کپڑے بھی ہوئے سستے
اب 2,500 روپے تک کے کپڑوں اور کپڑے کے سامان پر صرف 5 فیصد جی ایس ٹی لاگو ہوگا، جو پہلے 12 فیصد تھا۔ تاہم 2,500 روپے سے زیادہ قیمت والے ملبوسات پر اب 18 فیصد جی ایس ٹی لاگو کیا گیا ہے، جس پر انڈسٹری کی جانب سے تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے، خاص طور پر سردیوں کے ملبوسات کے حوالے سے۔
مکان بنانا بھی آسان
سیمنٹ اور پینٹ جیسے ہاؤسنگ ان پٹس پر جی ایس ٹی کو 28 فیصد سے کم کر کے 18 فیصد کر دیا گیا ہے۔ ریئل اسٹیٹ ماہرین نے اسے “فیسٹیو بونانزا” قرار دیا ہے۔ اس سے خاص طور پر ٹائر 2 اور 3 شہروں میں سستی رہائش کی تعمیر کو فروغ ملنے کی امید ہے۔
معاشی اشاریے بھی حوصلہ افزا
جولائی 2025 میں صارف قیمت اشاریہ (CPI) مہنگائی کی شرح 1.55 فیصد تک گر گئی — جون 2017 کے بعد سب سے کم۔ خوراک کی مہنگائی منفی زون میں داخل ہو گئی ہے (-1.76فیصد)، جو کہ مہنگائی پر قابو پانے کا اشارہ ہے۔
ساتھ ہی، مالی سال 2025-26 کی پہلی سہ ماہی میں جی ڈی پی کی شرح نمو 7.8 فیصد رہی، جس نے معاشی ماہرین کو حیرت میں ڈال دیا۔ وزارت خزانہ کے مطابق، نجی کھپت کا حصہ مجموعی قومی پیداوار (GDP) میں 60.2 فیصد سے بڑھ کر 61.4 فیصد ہو گیا ہے — جو کہ گزشتہ 20 برسوں میں دوسرا سب سے بڑا تناسب ہے۔
پالیسیوں کی تکون: ٹیکس میں کمی، شرح سود میں نرمی، اور جی ایس ٹی ریفارمز
آمدنی ٹیکس میں کمی، قرضوں پر شرح سود میں نرمی، اور جی ایس ٹی میں اصلاحات — یہ تینوں اقدامات مل کر نہ صرف عام شہری کے بجٹ کو سہارا دیتے ہیں بلکہ مجموعی معاشی سرگرمیوں کو بھی تحریک دیتے ہیں۔
دیوالی کا تحفہ یا بولی وڈ اسٹائل انٹری؟
ایسے میں جب مہنگائی کم، آمدنی بڑھتی ہوئی، اور ٹیکس کے بوجھ میں واضح کمی دیکھنے کو مل رہی ہے، عام آدمی اس تہوار کے موسم میں زیادہ پیسوں اور زیادہ انتخاب کے ساتھ قدم رکھتا دکھائی دے رہا ہے۔ لیکن ماہرین کہتے ہیں، فلم کا “کلائمکس” تب ہی مکمل ہوگا جب انڈین انڈسٹری اس فائدے کو حقیقی طور پر صارفین تک منتقل کرے گی۔
بھارت ایکسپریس اردو
پنجاب کے سابق وزیر اعلیٰ اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے لیڈر کیپٹن…
آئچی-ناگویا ایشین گیمز 2026 میں بھارتی ایتھلیٹس نے ٹریک اینڈ فیلڈ میں دو سلور اور…
وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعہ کی شام دہلی کے دین دیال اپادھیائے پارک پہنچ…
انتخابی کمیشن کی کارروائی اور ووٹر فہرست کی نظرثانی سے متعلق اپوزیشن کا احتجاج، کانگریس…
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس سے خطاب میں ایرانی صدر نے امریکہ…
آئی بی سی کے ذریعے ممبئی کے ٹیک ٹین بی کے سی اور بھارت نگر…