لکھنؤ: ایمار گومتی گرین کے رہائشیوں نے کلب ہاؤس کو مبینہ طور پر غیرقانونی طریقے سے بیرونی ایجنسی کو فروخت کیے جانے کے خلاف زبردست احتجاجی مظاہرہ کیا۔ احتجاج میں بڑی تعداد میں مقامی خواتین نے بھی شرکت کی اور ہاتھوں میں بینر اور پوسٹر اٹھا کر اپنی ناراضگی ظاہر کی۔
رہائشیوں کا الزام ہے کہ ایمار انڈیا کی جانب سے سوسائٹی کے رہائشیوں کی سہولت کے لیے تعمیر کیا گیا کلب ہاؤس من مانے طریقے سے ایک بیرونی ایجنسی کو فروخت کر دیا گیا، جہاں اب تجارتی سرگرمیاں شروع ہو چکی ہیں۔ رہائشیوں کے مطابق اس فیصلے سے ایک طرف سوسائٹی کی سیکیورٹی متاثر ہو رہی ہے تو دوسری جانب رات دیر تک جاری رہنے والے پروگراموں کی وجہ سے بچوں کی تعلیم متاثر ہو رہی ہے اور رہائشیوں کے آرام و سکون میں بھی خلل پڑ رہا ہے۔
مظاہرین نے کلب احاطے کے ساتھ ساتھ ایمار انڈیا کے دفتر کے باہر بھی علامتی احتجاج کیا۔ رہائشیوں نے بتایا کہ سوسائٹی میں بجلی، پانی اور سیور جیسی بنیادی سہولیات کے مسائل بھی مسلسل برقرار ہیں، جس کے باعث لوگ روزانہ مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔
رہائشیوں نے حکومت اور لکھنؤ ڈیولپمنٹ اتھارٹی (ایل ڈی اے) کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر مقررہ وقت کے اندر کلب ہاؤس دوبارہ رہائشیوں کے حوالے نہیں کیا گیا اور بنیادی مسائل حل نہ کیے گئے تو آئندہ سخت اور بڑے پیمانے پر احتجاج کیا جائے گا۔
احتجاج میں آر ڈبلیو اے صدر راج کشور راکیش سمیت شویتا سریواستو، پوجا احمد، نیلم پانڈے، بھارتی برنوال، تارا سنگھ، شویتا گوتم، انیتا موریہ، پارل جیسوال، سادھنا چودھری، گیانیشور پانڈے، کیپٹن جنید، کرنل سیمانت، وجے گپتا، سدھا چک، وویک، سنتوش یادو، اُجول ترپاٹھی، راجیو سنگھ اور ایس ڈی موریہ سمیت متعدد رہائشی موجود رہے۔
بھارت ایکسپریس۔
بھارت کے سابق نائب وزیراعظم لال کرشن اڈوانی کو جمعہ کے روز اسپتال میں داخل…
بس میں اسکولی بچے سوار تھے، جو واٹر پارک میں تفریح کے بعد اپنے گھروں…
امریکی عہدیدار نے کہا کہ سب سے بڑے مسائل پہلے ہی حل کیے جا چکے…
عدالت نے علاج اور پولیس سکیورٹی کا پورا خرچ خود برداشت کرنے کو کہا، طبی…
دہلی کی ایک عدالت نے جمعہ کو 2020 کے دہلی فسادات سے متعلق ایک معاملے…
سونے کی درآمد میں بھاری گراوٹ کے باوجود گھریلو اور عالمی بازار میں تیزی، ملٹی…