علاقائی

Ratan Tata Health Update: رتن ٹاٹا کی طبیعت ہوئی خراب، ممبئی کے اسپتال میں ہوئے داخل

ٹاٹا سنز کے اعزازی چیئرمین رتن ٹاٹا کی حالت تشویشناک ہے اور انہیں ممبئی کے ایک اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔ روئٹرز نے بدھ کو دو ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ رتن ٹاٹا کی حالت تشویشناک ہے۔ پیر کو بھی ایسی ہی خبریں آئی تھیں کہ انہیں اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔ تاہم، چند گھنٹے بعد رتن ٹاٹا نے ایک بیان میں کہا کہ ان کی عمر اور متعلقہ طبی حالات کی وجہ سے ان کا باقاعدگی سے طبی معائنہ کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی صحت بالکل ٹھیک ہے۔ اب ایک بار پھر ان کی صحت کے حوالے سے یہ خبر سامنے آئی ہے۔

پیر کے روز، تجربہ کار صنعت کار نے کہا تھا کہ ان کی صحت کے بارے میں فکر کرنے کی کوئی بات نہیں ہے اور وہ عمر سے متعلق بیماریوں کے لیے ٹیسٹ کروا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا تھا کہ میری عمر سے متعلق بیماریوں کی وجہ سے اس وقت میرا طبی معائنہ کرایا جا رہا ہے۔ پریشان ہونے کی کوئی بات نہیں ہے۔ میں مکمل طور پر صحت مند ہوں۔ انہوں نے لوگوں سے بھی اپیل کی کہ وہ “غلط معلومات پھیلانے” سے گریز کریں۔

1991 میں چیئرمین بنے۔

قابل ذکر ہے کہ رتن ٹاٹا کو 1991 میں 21 سال کی عمر میں ٹاٹا گروپ کا چیئرمین بنایا گیا تھا، جو آٹو سے اسٹیل تک کے کاروبار میں شامل ہے۔ چیئرمین بننے کے بعد رتن ٹاٹا نے ٹاٹا گروپ کو ایک نئی بلندی پر پہنچا دیا۔ انہوں نے اس گروپ کی قیادت کی، جس کی بنیاد ان کے پردادا نے ایک صدی قبل  تک رکھی تھی۔ 1996 میں، ٹاٹا نے ٹیلی کام کمپنی Tata Teleservices قائم کی اور 2004 میں، Tata Consultancy Services (TCS) کو مارکیٹ میں درج کیا گیا۔

چیئرمین کے عہدے سے سبکدوش ہونے کے بعد ٹاٹا کو ٹاٹا سنز، ٹاٹا انڈسٹریز، ٹاٹا موٹرز، ٹاٹا اسٹیل اور ٹاٹا کیمیکلز کے اعزازی چیئرمین کے خطاب سے نوازا گیا۔

ارب پتی تاجر اور سخی انسان

ارب پتی تاجر اور انتہائی سخی انسان رتن ٹاٹا کی عمر اب 86 برس ہے، وہ 28 دسمبر 1937 کو پیدا ہوئے۔ وہ 1991 سے 2012 تک ٹاٹا گروپ کے چیئرمین رہے اور اس دوران انہوں نے کاروباری شعبے میں بہت سے ریکارڈ قائم کیے اور ٹاٹا گروپ کو، جو ملک کے سب سے پرانے کاروباری گھرانوں میں سے ایک ہے، کو بلندیوں تک پہنچایا۔ اگر ہم رتن ٹاٹا کی شخصیت  پر نظر ڈالتے ہیں تو وہ نہ صرف ایک تاجر ہیں بلکہ ایک سادہ، شریف اور سخی انسان، ایک رول ماڈل اور لوگوں کے لیے تحریک کا ذریعہ ہیں۔ وہ اپنے گروپ سے وابستہ چھوٹے سے چھوٹے ملازم کو بھی اپنا خاندان سمجھتے ہیں اور ان کا خیال رکھنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے، اس کی بہت سی مثالیں موجود ہیں۔

بھارت ایکسپریس۔

Amir Equbal

Recent Posts

G20 Voice Of Global: عالمی سطح پر ’سوراج‘: گلوبل ساؤتھ کی آواز بن کر کیسے ابھرا بھارت؟ جی 20 سے وائس سربراہی اجلاس تک مکمل تجزیہ

وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں بھارت نے ’تزویراتی خودمختاری‘ اور ’سوراج‘ کے تصور…

33 minutes ago

Trade in Local Currencies: ڈالر کا دباؤ ختم اور مقامی کرنسی میں تجارت، برکس سربراہی اجلاس میں بھارت کی قیادت میں بنا نیا عالمی روڈمیپ

برکس (BRICS) کی 18ویں سربراہی کانفرنس میں، بھارت نے ایران اور متحدہ عرب امارات کے…

1 hour ago

Women Rights International Law: نصف آبادی، مکمل شناخت: کیا خواتین کو باہر رکھ کر طالبان کو جائز حکومت مانا جا سکتا ہے؟

افغانستان میں طالبان کے دور حکومت میں خواتین اور لڑکیوں کی تعلیم، روزگار اور عوامی…

1 hour ago

Rajbhar’s Sharp Reaction: اکھلیش یادو کے بیان پر راج بھر کا سخت ردعمل، کہا -ہمت ہے تو مسلم وزیر اعلیٰ بنانے کا کریں اعلان

اکھلیش یادو کے یونیفارم سول کوڈ والے بیان پر سیاسی ہنگامہ مچا ہوا ہے، اوم…

2 hours ago

Trump 100 Percent Tariff: امریکی 100 فیصد ٹیرف کی دھمکی کے بیچ بھارت کا دوٹوک پیغام، توانائی پالیسی پر نہیں بدلے گا مؤقف

اب سب کی نظریں امریکی ایوانِ نمائندگان میں ہونے والی ووٹنگ پر ہیں۔ اس کے…

2 hours ago