ایک عام مالا بیچنے والا اپنی غیر متوقع دلکشی سے لوگوں کا دل چرا رہی ہے یہ لڑکی۔ اندور کی یہ لڑکی جسے لوگ پیار سے مونالیسا کے نام سے پکار رہے ہیں۔ مونالیسا نے اپنی خوبصورتی اور خاص انداز کی وجہ سے 2025 کے مہاکمبھ سے انٹرنیٹ پر دھوم مچا رکھی ہے۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ اپنی خوبصورتی کی وجہ سے انہیں مہا کمبھ 2025 چھوڑ کر واپس اپنے گھر اندور جانا پڑا۔
سوانلی جلد، عنبر کی آنکھوں اور تیکھی نین نقش والی اس مالا بیچنے والی لڑکی نے لاکھوں عقیدت مندوں میں اپنی الگ پہچان بنائی ہے۔ ان کی ویڈیوز اور تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل ہو چکی ہیں، جس میں انہیں گھاٹ پر موتیوں کے ہار بیچتے اور لوگوں سے بات کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ بہت سے یوزرنے اس کا موازنہ مونا لیزا کے لازوال دلکشی سے کیا ہے۔
وائرل ویڈیو میں انہوں نے کہا کہ لوگ دن بھر مجھ سے ملنے آتے ہیں اور تصاویر لیتے ہیں، اس سے میری روزمرہ کی زندگی اور مالا بیچنے کا کام متاثر ہو رہا ہے۔
مونالیسا جو مدھیہ پردیش کے اندور کے مہیشور سے اپنے خاندان کے ساتھ مہا کمبھ میں مالا بیچنے آئی تھیں، کچھ ہی منٹوں میں انٹرنیٹ پر وائرل ہوگئی۔ اس کے بعد ان کا مالا بیچنا مشکل ہوگیا۔ ہر طرف لوگ ان کے ساتھ تصویریں لے رہے تھے اور ویڈیو بنا رہے تھے۔ اس سے پریشان ہو کر مونالیسا کے والد نے انہیں گھر واپس بھیج دیا ہے۔ مونالیسا کی دونوں بہنیں اب بھی مالا بیچ رہی ہیں۔ ان کی بہن ودیا نے بتایا کہ لوگ مونالیسا کے پیچھے بھاگتے تھے۔ وہ مالا بیچنے سے قاصر تھی۔ اس سے پریشان ہو کر ان کے والد نے ا نہیں مدھیہ پردیش واپس بھیج دیا ہے۔
وہ اندور سے اپنے خاندان کے ساتھ مالا بیچنے آئی تھی، لیکن اپنے کام پر توجہ دینے کے بجائے، لوگ اس کی خوبصورتی سے مسحور ہو گئے۔ سوشل میڈیا پر مونالیسا کی اچانک مقبولیت کی وجہ سے ان کی کئی ویڈیوز منظر عام آئیں ہیں ۔ اس کی خوبصورتی بحث کا موضوع بن گئ، مسلسل توجہ اور ویڈیو ریکارڈنگ مونالیسا کے لیے پریشانی بنی ہوئی ہے، جس کی وجہ سے انہوں نے مہا کمبھ میلہ 2025 کو درمیان میں چھوڑنے کا فیصلہ کیا۔
مونالیسا کی خوبصورتی کی وجہ سے لوگوں نے ویڈیوز بنانا شروع کر دیں
جب مونالیسا سے اس کی خوبصورتی پر لوگوں کی تعریف کرنے کے بارے میں پوچھا گیا تو ان کی بہن نے واضح کیا کہ تعریف کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ مسائل اس وقت پیدا ہوئے جب لوگوں نے خفیہ ویڈیوز بنانا شروع کیں اور ان کی کاروباری سرگرمیوں میں خلل ڈالا۔ اس مداخلت کی وجہ سے مونالیسا کو وہاں سے نکل کر مہیشور میں پناہ لینی پڑی۔
یونیورسٹی کے 10 فیکلٹیز کے طلبہ کو مجموعی طور پر 2,320 ڈگریاں دی گئیں، جن…
ہندوستان کی ثابت شدہ ٹیکنالوجی اب دنیا تک پہنچنے کے لیے تیار، ترقی یافتہ ممالک…
دہلی میں مظاہروں کے بعد زیر بحث آنے والی قانونی اصطلاحات کو سمجھیں، نئے فوجداری…
پرشانت بھوشن کے اقتدار کی تبدیلی سے متعلق بیان پر وجیتا دہیا نے کہا، ’’انہوں…
منیشا کوئرالا نے خواتین سمیت سبھی لوگوں سے صحت مند طرزِ زندگی اپنانے کی اپیل…
ڈاکٹر شالنی علی کا کہنا ہے کہ پارلیمنٹ کو خواتین کے ریزرویشن اور حد بندی…