علاقائی

NDA 3.0 Government: نئی حکومت کے پہلے بجٹ میں نتیش-نائیڈو کے بڑے مطالبات… کیا پورا کر پائے گی حکومت ؟

آندھرا پردیش کے وزیر اعلی چندرابابو نائیڈو اور بہار کے وزیر اعلی نتیش کمار کو وزیر اعظم  مودی کی قیادت والی این ڈی اے حکومت کے پہلے بجٹ سے بڑی امیدیں ہیں۔ اس حوالے سے دونوں لیٹروں  نے اپنی ترجیحات سے متعلق فہرست وزیر خزانہ کو بھیج دی ہے۔ ٹی ڈی پی اور جے ڈی (یو) نے مبینہ طور پر 23 جولائی کو پیش کیے جانے والے بجٹ 2024 سے قبل 5.7 بلین ڈالر (تقریباً 48,000 کروڑ روپے) کا مطالبہ بھیجا ہے۔

انفراسٹرکچر کے اخراجات کے لیے بڑے پیکج کا مطالبہ!

روئٹرز کی رپورٹ میں ذرائع کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ آندھرا پردیش  اور بہار کے وزراے اعلی نے وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت والی این ڈی اے حکومت کے سامنے کئی مطالبات رکھے ہیں۔ ان میں دونوں ریاستیں مرکز سے بنیادی ڈھانچے پر خرچ کرنے کے لیے مختص غیر مشروط طویل مدتی قرض کو تقریباً دوگنا کرکے ایک لاکھ کروڑ روپے کرنے کا مطالبہ کر رہی ہیں۔ تاہم، آج تک ایسے دعووں کی کوئی تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔

وزیر خزانہ سے پی ایم مودی کی ملاقات

اسی طرح کے مطالبات کا ذکر ایک اور رپورٹ میں بھی کیا گیا ہے۔ بلومبرگ کے مطابق، اکیلے چندرا بابو نائیڈو نے 1 لاکھ کروڑ روپے ($ 12 بلین) سے زیادہ کی مالی مدد مانگی ہے۔ یہ دعوی کیا گیا تھا کہ انہوں نے اس ہفتے کے شروع میں اس سلسلے میں پی ایم مودی اور وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن سے ملاقات کی تھی۔ قابل ذکر ہے کہ حالیہ لوک سبھا انتخابات میں، دونوں ٹی ڈی پی-جے ڈی (یو) کنگ میکر کے طور پر ابھرے ہیں اور نئی مخلوط حکومت میں 16 ارکان پارلیمنٹ چندرابابو نائیڈو کی پارٹی سے ہیں، جب کہ 12 ایم پی نتیش کمار کی پارٹی سے ہیں۔

کیا ہیں نائیڈو اور نتیش کے مطالبات؟

اگر ہم چندرابابو نائیڈو کی خواہش کی فہرست میں شامل مطالبات پر نظر ڈالیں تو انہوں نے مبینہ طور پر آندھرا پردیش کے دارلحکومت  امراوتی اور پولاورم آبپاشی پراجیکٹ، وجئے واڑہ، وشاکھاپٹنم اور امراوتی میں میٹرو ریل پروجیکٹوں کے علاوہ وندے سے وجئے واڑہ تک کی ترقی کے لیے کہا ہے۔  دوسری طرف، انہوں نے ریاست کے پسماندہ اضلاع، رامایا پٹنم بندرگاہ اور کڈپہ میں ایک اسٹیل پلانٹ کے لیے گرانٹ کا مطالبہ کیا ہے۔ جبکہ رپورٹ کے مطابق اگر بہار کی بات کریں تو نتیش کمار نے ریاست میں نو نئے ہوائی اڈوں، دو بجلی کے پروجیکٹ، دو دریائی پانی کے پروجیکٹ اور 7 نئے میڈیکل کالجوں کے قیام کے لیے گرانٹ کا مطالبہ کیا ہے۔

بجٹ سیشن 22 جولائی سے شروع ہو رہا ہے۔

واضح رہے  کہ اس سال یکم فروری کو پارلیمنٹ میں پیش کیے گئے عبوری بجٹ کے دوران حکومت نے سرمایہ کاری کے لیے ریاستوں کو خصوصی امدادی اسکیم کے تحت تقریباً 1.3 لاکھ کروڑ روپے مختص کیے ہیں۔ اس رقم کا نصف کچھ اقتصادی اصلاحات کو نافذ کرنے کی شرط پر مختص کیا گیا تھا۔ قابل ذکر ہے کہ مرکز کی نئی این ڈی اے حکومت 23 جولائی کو مرکزی بجٹ پیش کرنے جارہی ہے اور پارلیمنٹ کا بجٹ اجلاس 22 جولائی سے شروع ہوگا اور 12 اگست تک جاری رہے گا۔

بھارت ایکسپریس۔

Amir Equbal

Recent Posts

Air India Flight Suspension: سکیورٹی خدشات کے پیش نظر ایئر انڈیا کی سعودی عرب آنے اور جانے والی پروازیں 14 نومبر تک معطل

یہ تازہ ایڈوائزری اس اعلان کے صرف چھ دن بعد سامنے آئی ہے، جس میں…

6 hours ago

The BJP’s New Balance in UP: یوگی کی زمین، مودی کا آسمان: یوپی میں بی جے پی کا نیا سیاسی توازن

امت شاہ کے لکھنؤ دورے اور ریاستی ایگزیکٹو کمیٹی کی میٹنگ کے بعد 2027 اور…

6 hours ago

CM Yogi’s leadership in UP: کیا امت شاہ نے یوپی میں یوگی آدتیہ ناتھ کی قیادت پر مہر لگا دی؟ 2027 اور 2029 کے سیاسی فارمولے کا پورا حساب

لکھنؤ میں بی جے پی کی ریاستی ایگزیکٹو کمیٹی کی میٹنگ کے بعد قیاس آرائیاں…

6 hours ago

Supreme Court on UP SIR: اتر پردیش ایس آئی آر معاملے میں سپریم کورٹ سخت، الیکشن کمیشن کو تحقیقات کی ہدایت

سپریم کورٹ نے اتر پردیش میں ووٹر لسٹ سے نام حذف کرانے کے لیے بڑی…

7 hours ago