علاقائی

Indigenous SODAR innovation boosts India forecasting & Atmanirbhar Bharat vision: بھارت میں مقامی طور پر تیار کردہ “سوڈر” ٹیکنالوجی کا افتتاح، موسم کی پیش گوئی میں انقلاب اور خود کفالت کی جانب اہم قدم

بھارت نے ماحولیاتی سائنس میں ایک بڑی کامیابی حاصل کرتے ہوئے “SODAR” (ساؤنڈ ڈیٹیکشن اینڈ رینجنگ) نامی جدید آلہ خود تیار کر لیا ہے، جو ملک کی سائنسی خود انحصاری یعنی “آتم نربھر بھارت” کے وژن کو مضبوط کرتا ہے۔ یہ سہولت کونسل آف سائنٹفک اینڈ انڈسٹریل ریسرچ (CSIR) کی بھوپال میں واقع ایڈوانسڈ مٹیریلز اینڈ پراسیسز ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (AMPRI) نے تیار کی ہے۔ اس کا باضابطہ افتتاح انڈیا میٹرولوجیکل ڈیپارٹمنٹ (IMD) کے دہلی میں ہیڈکوارٹرز پر کیا گیا۔

اس موقع پر ملک کی سائنسی برادری کی اہم شخصیات شریک ہوئیں، جن میں وزارت ارضیات کے سیکریٹری ڈاکٹر ایم روی چندرن، IMD کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر مرتیونجے موہاپاترا اور CSIR-AMPRI کے ڈائریکٹر پروفیسر تھلادا بھاسکر شامل تھے۔

تقریب میں CSIR-AMPRI اور IMD کے درمیان ایک مفاہمتی یادداشت (MoU) پر دستخط بھی کیے گئے، جس کا مقصد موسمیاتی سائنس میں مشترکہ تحقیق، ڈیٹا کا تبادلہ اور ان معلومات کو قدرتی آفات سے بچاؤ جیسے عملی شعبوں میں استعمال کرنا ہے۔ CSIR کی ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر این کلائی سلوی نے آن لائن خطاب میں اس منصوبے کو بھارت کی ٹیکنالوجی پر خود انحصاری کی علامت قرار دیا۔

“SODAR” دراصل زمین پر نصب ایک ایسا آلہ ہے جو آواز کی لہروں کے ذریعے فضا میں ہوا کی رفتار، سمت اور درجہ حرارت کے ڈھانچے کا تجزیہ کرتا ہے۔ یہ بالکل ریڈار کی طرز پر کام کرتا ہے، لیکن ریڈیو ویوز کی بجائے آواز کی لہروں کا استعمال کرتا ہے۔ یہ آلہ نہ صرف موسم کی درست پیش گوئی کے لیے ضروری معلومات فراہم کرتا ہے، بلکہ ماحولیات کی نگرانی، توانائی کی منصوبہ بندی، اور قدرتی آفات سے نمٹنے جیسے اہم شعبوں میں بھی کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔

اب تک بھارت کو ایسے آلات کے لیے درآمدات پر انحصار کرنا پڑتا تھا، جو نہ صرف مہنگے ہوتے تھے بلکہ ان کی مرمت اور حسب ضرورت تبدیلیاں کرنا بھی مشکل ہوتا تھا۔ سوڈر کی مقامی تیاری سے بھارت کو مالی فائدہ تو ہوگا ہی، ساتھ ہی قومی سطح پر موسم سے متعلق حساس ڈیٹا بھی محفوظ رہے گا۔ مستقبل میں اس نظام کا نیٹ ورک پورے ملک میں پھیلایا جائے گا، خاص طور پر ان علاقوں میں جہاں موسم کا ڈیٹا دستیاب نہیں ہوتا۔

AMPRI، جو 2007 سے پہلے ریجنل ریسرچ لیبارٹری کہلاتی تھی، اب سائنسی تحقیق کے کئی میدانوں میں نمایاں ہو چکی ہے۔ یہ ادارہ نہ صرف اسمارٹ مٹیریلز اور نینوٹیکنالوجی میں تحقیق کر رہا ہے بلکہ فضلہ سے دولت (waste-to-wealth) جیسی ٹیکنالوجیز بھی تیار کر رہا ہے۔ صنعتی فضلہ سے ریڈی ایشن شیلڈنگ مٹیریلز کی تیاری اور بین الاقوامی پیٹنٹس حاصل کرنا اس کی صلاحیتوں کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اب SODAR ٹیکنالوجی کے ذریعے یہ ادارہ ماحولیاتی سائنس میں قدم رکھ رہا ہے۔

مستقبل میں IMD اور AMPRI کا مشترکہ منصوبہ ہے کہ SODAR سسٹمز کو ان علاقوں میں نصب کیا جائے جہاں موسمی ڈیٹا کی کمی ہے۔ یہ نظام زراعت، شہری منصوبہ بندی، صحت عامہ، اور آفات سے بچاؤ کے شعبوں میں اہم کردار ادا کرے گا۔ خاص طور پر کسان، شہر کی انتظامیہ، اور ساحلی علاقوں کے مکین اس سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔

یہ منصوبہ صرف ایک سائنسی کامیابی نہیں بلکہ بھارت کے اس عزم کا اظہار ہے کہ وہ جدید تحقیق کو مقامی ضروریات سے ہم آہنگ کر کے ایک خود کفیل اور محفوظ مستقبل کی طرف بڑھ رہا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو

Abu Danish Rehman

Recent Posts

PM Modi Attends ‘Bhajan Clubbing’: پنڈت دین دیال اپادھیائے کی جینتی پر ’بھجن کلبنگ‘ میں شریک ہوئے پی ایم مودی، کھنجری بجاتے آئے نظر

وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعہ کی شام دہلی کے دین دیال اپادھیائے پارک پہنچ…

4 hours ago

Opposition Protest Against CEC Gyanesh Kumar: سی ای سی گیانیش کمار کے خلاف سڑک پر اپوزیشن، پٹنہ میں آر جے ڈی کا احتجاج، کانگریس نے مانگا استعفیٰ

انتخابی کمیشن کی کارروائی اور ووٹر فہرست کی نظرثانی سے متعلق اپوزیشن کا احتجاج، کانگریس…

4 hours ago