علاقائی

India secures record 1.02 lakh crore deals in food processing MoUs at World Food India 2025: بھارت نے ورلڈ فوڈ انڈیا 2025 میں فوڈ پروسیسنگ کے شعبے میں 1.02 لاکھ کروڑ روپے کی تاریخی سرمایہ کاری کے معاہدے

ورلڈ فوڈ انڈیا 2025 کا کامیاب اختتام ہو گیا، جس میں بھارت نے 1.02 لاکھ کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کے معاہدے حاصل کیے۔ یہ فوڈ پروسیسنگ کے شعبے میں اب تک کی سب سے بڑی مالی سرمایہ کاری ہے، جو کہ ملکی و غیر ملکی کمپنیوں کے ساتھ کیے گئے 26 اہم معاہدوں کے ذریعے ممکن ہوئی۔

یہ عالمی سطح کی چار روزہ نمائش بھارت کی وزارت برائے خوراک و فوڈ پروسیسنگ انڈسٹریز (MoFPI) کے زیر اہتمام منعقد کی گئی۔ اس ایونٹ کا مقصد ملک میں خوراک سے متعلق مختلف شعبوں جیسے ڈیری، گوشت، پیکیجڈ فوڈ، مشروبات، مسالہ جات اور ریڈی ٹو ایٹ اشیاء میں سرمایہ کاری کو فروغ دینا تھا۔

وزارت کے مطابق ان معاہدوں کے نتیجے میں ملک بھر میں 64,000 سے زائد براہِ راست ملازمتیں پیدا ہوں گی، جب کہ 10 لاکھ سے زائد افراد کو بالواسطہ روزگار کے مواقع حاصل ہوں گے، جس سے دیہی و زرعی معیشت کو بڑی تقویت ملے گی۔

معاہدے کرنے والی اہم کمپنیوں میں شامل ہیں:
ریلائنس کنزیومر پراڈکٹس، کوکا کولا، نیسلے انڈیا، ٹاٹا کنزیومر پراڈکٹس، کارلسبرگ انڈیا، پتانجلی فوڈز، اور امول۔
ان کمپنیوں نے خوراک کی مختلف اقسام جیسے مشروبات، خوردنی تیل، مٹھائیاں، مصالحہ جات اور پھلوں و سبزیوں کی پروسیسنگ پر بھاری سرمایہ کاری کا عہد کیا ہے۔

یہ سرمایہ کاری بھارت کی 20 ریاستوں میں کی جائے گی، جن میں گجرات، مہاراشٹرا، اتر پردیش، پنجاب، تمل ناڈو، آسام، اڈیشہ، اور جموں و کشمیر شامل ہیں۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ ہر خطے کے کسان، دیہی کاروباری اور مقامی افراد کو ترقی کے ثمرات پہنچ سکیں۔

وزارتِ خوراک کے ترجمان نے کہا:”یہ معاہدے بھارت کی زرعی و خوراکی معیشت کے ایک نئے دور کا آغاز ہیں۔ ہمارا ہدف ہے کہ بھارت کو عالمی سطح پر فوڈ پروسیسنگ کا مرکز بنایا جائے، اور اس کے ساتھ ساتھ جامع ترقی و اختراع (Innovation) کو بھی فروغ دیا جائے۔”

اس سلسلے میں Invest India، جو کہ حکومت کا قومی سرمایہ کاری پروموشن ادارہ ہے، نے وزارت کے ساتھ مل کر ان معاہدوں کی تشکیل اور حتمی شکل دینے میں اہم کردار ادا کیا۔

دیگر بڑی کمپنیوں جیسے حلدرام، ڈابر انڈیا، گودریج ایگروویٹ، لولو گروپ، اور اولم فوڈ انگریڈینٹس نے بھی مختلف منصوبوں جیسے فوڈ پارکس کی تعمیر، سپلائی چین کی بہتری اور فوڈ ویسٹ کو کم کرنے کے لیے معاہدے کیے ہیں۔ یہ منصوبے دیہی روزگار بڑھانے اور ویلیو ایڈیشن کو فروغ دینے میں مددگار ثابت ہوں گے۔

MoFPI نے یہ بھی کہا کہ وہ ان منصوبوں کے مؤثر نفاذ کو یقینی بنانے کے لیے تمام اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ قریبی تعاون کرے گا، تاکہ بھارت کو عالمی فوڈ سسٹم میں ایک مرکزی کردار دلایا جا سکے۔

بھارت ایکسپریس اردو

Abu Danish Rehman

Recent Posts

PM Modi Boosts Morale of Para-Athletes: وزیراعظم مودی نے پیرا ایتھلیٹس کا حوصلہ بڑھایا، کہا-عزم ہو تو کوئی بھی ہدف ناممکن نہیں

وزیر اعظم مودی نے کہا کہ عالمی کھیلوں کے میدان میں ہندوستان کی شناخت مسلسل…

4 hours ago

PM Modi to visit Vaishali: بہار میں این ڈی اے حکومت کا ایک سال مکمل، 21 نومبر کو وزیر اعظم مودی کا ویشالی دورہ ممکن، بڑے جشن کی تیاریاں

وزیر اعظم کے مجوزہ بہار دورے اور پروگرام کی تیاریوں کے سلسلے میں جمعرات کو…

4 hours ago

Nepal’s Prime Minister Balen Shah Praises PM Modi: نیپال کے وزیر اعظم بالیندر شاہ نے پی ایم مودی کی ستائش کی، بھارت کے تعاون پر ادا کیا شکریہ

نیپال کے دارالحکومت کھٹمنڈو میں جمعرات کے روز بھارت کے خارجہ سکریٹری وکرم مسری نے…

5 hours ago