جب ہندی فلمی دنیا میں گیتوں کا ذکر آتا ہے، تو نغمہ نگار گوپال داس نیرج کا نام بڑے احترام سے لیا جاتا ہے۔ ان کے قلم نے نہ صرف نظموں کو گیتوں کی شکل دی بلکہ ان گیتوں کو لوگوں کے دلوں میں ہمیشہ کے لیے بسا دیا۔ آپ کو بتاتے چلیں کہ 19 جولائی کو ان کی ساتویں برسی ہے۔
شاعر گوپال داس ’نیرج‘ کی پیدائش 4 جنوری 1925 کو ضلع اٹاوہ کے گاؤں پوراولی میں ہوئی تھی۔ ہندی سنیما میں ان کے لکھے گیت جیسے “لکھے جو خط تجھے” (فلم: پریم پجاری)، “اے بھائی! ذرا دیکھ کے چلو” (فلم: میرا نام جوکر)، اور “کال کا پہیہ گھومے رے بھئیا” (فلم: چندا اور بجلی) آج بھی بہت مقبول ہیں۔ گوپال داس ’نیرج‘ کو 1991 میں پدم شری، 2007 میں پدم بھوشن، اور 1994 میں یش بھارتی ایوارڈ سے نوازا گیا۔ نیرج کا انتقال 19 جولائی 2018 کو ہوا تھا۔ آئیے ان کے چند یادگار فلمی نغموں پر ایک نظر ڈالتے ہیں جو آج بھی اتنے ہی تروتازہ محسوس ہوتے ہیں جیسے اپنی ریلیز کے وقت تھے۔
- لکھے جو خط تجھے
1968 کی فلم “کنیا دان” کا یہ نغمہ بےحد مشہور ہوا۔ اس گیت میں ایک عاشق کے جذبات کو محبت نامے کے ذریعے نرمی اور لطافت سے پیش کیا گیا ہے۔ محمد رفیع کی جذباتی آواز اور نیرج کے دل میں اتر جانے والے بول آج بھی سننے والوں کے دل کو چھو لیتے ہیں۔ - اے بھائی! ذرا دیکھ کے چلو
1970 کی فلم “میرا نام جوکر” کا یہ نغمہ زندگی کو ایک اسٹیج یا سرکس کے روپ میں دکھاتا ہے۔ نیرج کو اس نغمے کے لیے 1972 میں فلم فیئر ایوارڈ کی نامزدگی بھی ملی تھی۔ - شوخیوں میں گھولا جائے
فلم “پریم پجاری” (1970) کا یہ نغمہ ایس ڈی برمن کی دھن، لتا منگیشکر کی آواز اور نیرج کی شاعری کا حسین امتزاج ہے۔ یہ گیت محبت کی معصومیت اور اس کے شہد جیسی مٹھاس کو خوبصورتی سے بیان کرتا ہے۔ - پھولوں کے قلم سے، دل کی قلم سے
اسی فلم “پریم پجاری” کا ایک اور نغمہ، جسے نیرج نے لکھا، ایس ڈی برمن کی موسیقی میں اور کشور کمار کی آواز میں ریکارڈ کیا گیا تھا۔ - کال کا پہیہ گھومے بھئیا
1969 کی فلم “چندا اور بجلی” کا یہ نغمہ مَنّا ڈے نے گایا تھا، موسیقی شَنکر-جئےکشن کی تھی، اور اسے سنجیو کمار پر فلمایا گیا تھا۔ نیرج کا یہ نغمہ بھی بہت مقبول ہوا۔ - کارواں گزر گیا، غبار دیکھتے رہے
1965 کی فلم “نئی عمر نئی فصل” کا یہ نغمہ نیرج کے لازوال گیتوں میں شمار ہوتا ہے۔ موسیقی روشن کی تھی، آواز محمد رفیع کی تھی، اور شاعری نیرج کی تھی – ایک ناقابلِ فراموش امتزاج۔ - بس یہی اپرادھ میں ہر بار کرتا ہوں
1970 کی فلم “پہچان” کا یہ گیت محبت میں بار بار ہونے والی غلطیوں کو ہلکے پھلکے مگر گہرے انداز میں بیان کرتا ہے۔ اسے 1971 میں فلم فیئر ایوارڈ کے لیے نامزد کیا گیا تھا۔ - کھلتے ہیں گل یہاں… مل کے بکھرنے کو
1971 کی فلم “شرمیلی” کا یہ نغمہ آج بھی لوگوں کے دل کو بھاتا ہے۔ نیرج کے لکھے بول، کشور کمار کی آواز، اور ایس ڈی برمن کی موسیقی نے اسے یادگار بنا دیا۔ اس گیت کو ششی کپور اور راکھی پر فلمایا گیا تھا۔ - دل آج شاعر ہے، غم آج نغمہ ہے
1971 کی فلم “گیمبلر” کا یہ نغمہ کشور کمار نے گایا، ایس ڈی برمن نے دھن دی، اور نیرج نے اسے لکھا۔ یہ گیت بھی دیو آنند پر فلمایا گیا تھا اور آج بھی شوق سے سنا جاتا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو