تحریر: کریتکا شرما
تکشلاانسٹی ٹیوشن کے نائب ڈائریکٹرپرنے کوٹاستھانے ٹیکنالوجی جیوپالٹکس(عالمی سیاست اور ٹیکنالوجی کے درمیان تعلق کو بیان کرنے والی ایک جدید اصطلاح) اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیوں کے میدان میں ایک معتبر نام ہے۔2023 میں انہوں نے امریکہ محکمہ خارجہ سے مالی امداد یافتہ” کواڈلیڈرس لیڈ آن۔ڈیمانڈ پروگرام “میں شرکت کی۔اس پروگرام کے دوران انہوں نے عالمی سطح پر اعتماد شدہ ٹیکنالوجی ایکو سسٹم(ایک جدید اصطلاح جو اس پورے نظام کی بات کرتی ہے جہاں مختلف ٹیکنالوجیاں، کمپنیاں، صارفین، سافٹ ویئر، ہارڈ ویئر، ضوابط اور سہولتیں باہم مربوط ہوکر ایک دوسرے کی ترقی اور بقا کا باعث بنتے ہیں) ، ہندوستان کی اختراعی صلاحیت کو مضبوط بنانا اور مضبوط ہند۔بحرالکاہل خطہ بنانے پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ کوٹاستھانے ایک کتاب” وہن دی چِپس آر ڈاؤن: اے ڈیپ ڈائیو اِن ٹو اے گلوبل کرائسس “کے بھی مصنف ہیں۔
اسپَین کے ساتھ اپنی گفتگو میں کوٹاستھانے نے امریکہ۔ہند ٹیکنالوجی اشتراک اوراہم ٹیکنالوجیوں کی نئی نسل کے متعلق عالمی قواعد وضع کرنے میں کواڈ کے کردارکے بارے میں روشنی ڈالی۔ واضح رہے کہ 2025 کے امریکہ۔ہند سربراہانِ مملکت کے مشترکہ بیان میں اہم ٹیکنالوجیوں پر بہت زور دیا گیا تھا۔
پیش خدمت ہیں ان سے انٹرویو سے چند اقتباسات:
آپ نے 2023میں کواڈ تھنک ٹینک تبادلہ پروگرام میں شرکت کی۔ اس پروگرام سے ٹیکنالوجی پالیسی کے بین الاقوامی اشتراک کے متعلق آپ نے کیا سیکھا؟
میں امریکہ میں منعقد ہونے والے پہلے کواڈ ٹھنک ٹینک تبادلہ پروگرام کا حصہ تھا۔اس میں میرے علاوہ کواڈ کے ہر ملک سے پانچ ۔پانچ شرکاء اور بھی تھے۔یہ انتہائی کارآمدثابت ہو اکیوں کہ کواڈ کا نہ تو اب تک کوئی اپنا سکریٹیریٹ ہے اور نہ ہی کوئی مستقل دفتر جہاں سے اس کے مستقبل کی راہیں متعین ہوں۔
مجھے اس پروگرام میں شرکت سے دیگر کواڈ ممالک کا قومی لائحہ عمل جاننے کا موقع ملا اوراس کا بھی ادراک ہوا کہ کواڈ ممالک کواڈ کو اپنی خارجہ پالیسی فریم ورک میں کس طرح دیکھتے ہیں۔مجھ پر اس امر کا انکشاف ہوا کہ چاروں ممالک کواڈکو ہند۔بحرالکاہل خطے کی ترقی کےلیے ایک اہم ستون تصور کرتے ہیں۔
اس تناظر میں تھنک ٹینکس اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔حالیہ برسوں میں قومی طاقت کے اہم جزو کی حیثیت سے ٹیکنالوجی جیو پالیٹکس کی اہمیت میں بہت اضافہ ہوا ہے۔ ٹیکنالوجی تعاون میں بڑھتے امکانات اور مسابقہ آرائی کے نتیجہ میں نئے نئے فریم ورکس کی ضرورت پڑ رہی ہے۔تھنک ٹینکس اور تعلیمی ادارے بین سرحد ی اشتراک کو آسان بنانے کے لیے لائحہ عمل تیار کرسکتے ہیں جس سے نجی کمپنیوں کو تعاون کرنے میں آسانی پیدا ہوسکتی ہے۔
آپ کی رائے میں سیمی کنڈکٹر پالیسی میں امریکہ ۔ہند اشتراک کس طرح پروان چڑھ رہاہے؟
اب تک دنیا کے کسی بھی ملک نے امریکہ سے ٹیکنالوجی حاصل کیے بغیر یا امریکی اعانت کے بغیر سیمی کنڈکٹر صنعت نہیں کھڑی کی۔ اس لیے ہندوستان کا اس سلسلے میں امریکہ کے ساتھ تعاون ناگزیر ہے۔ خیال رہے کہ ٹیکساس انسٹرومنٹس اوّلین کثیر ملکی کمپنی ہے جس نے بینگالورومیں پہلی سیمی کنڈکٹر کمپنی قائم کی تھی۔ اس وقت دنیا کی سرکردہ 25 سیمی کنڈکٹر ڈیزائن کمپنیاں ہندوستان میں موجود ہیں ۔ان میں بھی اکثریت امریکی کمپنیوں کی ہے۔ جہاں تک ڈیزائن کا معاملہ ہے تو اس محاز پر بھی امریکہ اور ہندوستان کے رشتے کافی گہرے اور مضبوط ہیں۔
اب تک پیداوار ، خاص کر ڈھانچہ سازی اور اجزاء کی تنصیب کے عمل میں خاصی کمی محسوس کی جارہی تھی۔ مگر خوش قسمتی سے اس نقص کا بھی ازالہ ہو گیا۔ مثلاً مائکرون اپنی فیکٹری گجرات میں لگا رہاہے جہاں پیداوار2026سے شروع ہونے کی امید ہے۔ اگر یہ تجربہ کامیاب رہا تو اس سے مزید سرمایہ کاری کی راہ ہموار ہونے کے قوی امکانات ہیں۔ اپلائڈمیٹیریلس اور لام ریسرچ جیسی امریکی کمپنیاں بھی ہندوستان میں اپنا کام شروع کررہی ہیں۔
اس طرح کے تعاون سے امریکہ اورہندوستان دونوں ملکوں کو بہت فائدہ ہوگا۔جدید ترین چِپ کی پیداوار کے لیے ہندوستان میں امریکہ کے مقابلے سستا خام مال دستیاب ہے۔ مجوزہ کمپاؤنڈ سیمی کنڈکٹر تیارکرنے والا پلانٹ، جس کا مطمح نظر قومی سلامتی ہے اور جس میں امریکی خلائی فوج بھی ایک حصہ دار کے طور پر شامل ہے، ایک سنگ میل ثابت ہوگا۔
امریکہ۔ہند اشتراک کو عالمی مسابقہ آرائی کے لیے کون سا پالیسی فریم ورک درکار ہے؟
اوّل تو یہ کہ مسابقہ آرائی ضرور ہونی چاہیے۔ اجارہ داری سے متبادل کم رہ جاتے ہیں اور اختراع پردازی بھی اثر اندازہوتی ہے۔دوم یہ کہ ہمیں ماضی کی ان حکومتوں سے بھی صرف نظر کرناہوگا جنہوں نے دوست ممالک کے درمیان ٹیکنالوجی کے پھیلاؤپر روک لگائی۔اس قسم کی رکاوٹوں سے اشتراکات میں غیر یقینی صورت حال پیدا ہوتی ہے۔
میرے نزدیک امریکہ ۔ہند تعلقات کے تین اہم ستون ہیں: عوام سے عوام کے درمیان مضبوط تعلقات، حکومتی سطح پر تعاون اور دونوں ملکوںمیں عوامی نظریہ۔ میرا خیال ہے کہ اوّل الذکر دو توتقریباًمستحکم یا مزید بہتر ہوتے جارہے ہیں۔جبکہ تیسرا ستون یعنی عوامی نظریہ پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ٹیکنالوجی اشتراک اس معاملہ میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔دفاعی تعاون جیسے سیمی کنڈکٹرس پر قومی سلامتی اقدام یا دفاعی ٹیکنالوجی کا تبادلہ مثلاً جی ای ایف 414جیٹ انجن منصوبہ دیر پا اعتماد بنانے میں معاون ہوسکتے ہیں۔
ہندوسستان کے ساتھ ٹیکنالوجی ایکو سسٹم بنانے کے لیے امریکی کاوشوں کو سمجھنے میں کواڈ تھنک ٹینک تبادلہ پروگرام کس طرح آپ کےلیے مفید ثابت ہوا؟
اس تبادلہ پروگرام کی ایک خاص بات یہ رہی کہ ہم محض واشنگٹن ڈی سی تک ہی محدود نہیں رہے۔بلکہ ہم نے سان فرانسسکو میں واقع سلیکون ویلی اور برکلے میں واقع یونیورسٹی آف کیلیفورنیا کا بھی دورہ کیا جہاں ہمیں سیمی کنڈکٹر کے ماہرین کے ساتھ گفت و شنید کا موقع میسر آیا۔ اس گفتگو سے ہمیں پالیسی سے ماوراء تکنیکی بصیرتیں حاصل ہوئیں۔
اگلا کواڈ تبادلہ پروگرام ہندوستان میں منعقد ہواجس میں اسکالرس نے نئی دہلی اور بینگالورو کا دورہ کیا ۔ ان دوروں سے شرکاء کو بخوبی اندازہ ہواکہ تعلیمی ادارے، کمپنیاں اور اختراع پرداز کس طرح سوچتے ہیں۔یہ” پورا کا پورامعاشرہ “ والا لائحہ عمل نےہندوستان میں ٹیکنالوجی ایکوسسٹم کے طریقہ کار کوسمجھنے میں اہم کردار ادا کیا۔
سول سوسائٹی اور تعلیمی تبادلہ ۔ جیسے کواڈ تھنک ٹینک تبادلہ ۔طویل مدتی امریکہ ۔ہند پالیسی تعاون میں کیا کردار ادا کرتے ہیں؟
بدقسمتی سے اس کو اکثر کم کرکے آنکا جاتا ہے۔ دفاعی ٹیکناوجیوں اور ٹرسٹ) ٹرانسفارمنگ دی ریلیشنشپ یوٹلائزنگ اسٹریٹیجک ٹیکنالوجی (فریم ورک پر مرکوزاقدامات حکومتوں، تعلیمی اداروں اور نجی شعبوں کے درمیان اشتراک کو فروغ دیتے ہیں۔ مگر بہر کیف تعلیمی اشتراک کو مضبوطی فراہم کرنے کے لیے ابھی بہت کچھ کیا جانا باقی ہے۔
تکنیک کے اہم شعبوں میں مشترکہ کیمپس قائم کرنا یا پی ایچ ڈی پروگرام شروع کرنے سے اس شعبہ میں کامیا بی حاصل ہوسکتی ہے۔اس طرح کے اقدامات سے ہندوستان کے اساتذہ ہند۔ امریکی تدریسی طبقات سے تعلقات قائم کرسکتے ہیں جس کے نتیجے میں بہتر مشترکہ تحقیق ممکن ہو سکے گی۔
سول سوسائٹی تبادلہ جات تکمیلی کردار ادا کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر انڈس۔ایکس کے تحت کمپنیاں سرحدوں کے پار اپنے خیالات پیش کرتی ہیں تاکہ ایک دوسرے کے ایکو سسٹم کو آپس میں ضم کیا جا سکے۔بہت ساری ہندوستانی کمپنیاں امریکی کمپنیوں سے خاص طور پر خلائی اور دفاعی شعبہ میں براہ راست معاملا ت طے کررہی ہیں۔
مستقبل کی جانب دیکھتے ہوئے آپ کون کون سی پالیسیوں کو ترجیح دینا چاہیں گے تاکہ ابھرتی ٹیکنالوجیوں میں کواڈ کا قائدانہ کردار قائم رہے؟
ٹیکنالوجی کواڈ مرکوز ہی رہے تو زیادہ بہتر ہے۔اصل مسئلہ پوزیشننگ (موقع یا محل وقوع کا تعین)کی حکمت عملی سے تعلق رکھتا ہے۔کواڈ ہند۔بحرالکاہل خطے میں مثبت تبدیلی لانے کے مقصد سے قائم کیا گیا تھا جیسے کواڈ ٹیکا پروگرام۔اب نئے نئے اقدامات کی اشد ضرورت ہے جن سے ٹیکنالوجی کے اہداف صاٖ ف صاف ظاہر ہوں ، چنداہم شعبوں کی نشاندہی کی جائے تاکہ قابل پیمائش نتائج حاصل کیے جاسکیں۔اور طویل مدتی اہداف کو حاصل کرنے کے لیے کواڈ کو ایک سکریٹیریٹ کی اشد ضرورت ہے جس کی نشاندہی میں پہلے بھی کرچکا ہوں۔ اس سے کواڈ کو بہت سےفوائد حاصل ہوں گے۔مثلاً سکریٹیریٹ سے مسلسل تازہ ترین معلومات حاصل ہوتی رہیں گی اورتعاون میں مزیدبہتری آئے گی۔
بشکریہ اسپَین میگزین، امریکی سفارت خانہ، نئی دہلی
بھارت ایکسپریس اردو
اتر پردیش میں پیر کی دیر رات بڑا انتظامی ردوبدل کیا گیا۔ حکومت نے 34…
دہلی کے دیش بندھو گپتا روڈ تھانہ علاقے کے کشن گنج میں 7 سالہ بچی…
صدر جمہوریہ مختلف زمروں کے فاتحین کو دیں گی قومی فلم ایوارڈ، تقریب میں بالی…
فلم ’ہنومان انش‘ کی کامیابی کے بعد پروڈیوسر انوپریا ناگر ایودھیا پہنچیں، جہاں انہوں نے…
’ہندی میری جان 2026‘ کے دوسرے ایڈیشن میں 22 ستمبر کو انڈیا اسلامک کلچرل سینٹر…
راؤز ایونیو کورٹ کے پرانے حکم کو منسوخ کرکے معاملہ دوبارہ مجسٹریٹ عدالت بھیجا گیا،…