علاقائی

UP News: بدایوں میں مدرسہ ڈائریکٹر کے گھر پر ای ڈی کا چھاپہ، خواتین نے چھت سے کھیتوں میں پھینکے زیورات

UP News: جب انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کی ٹیم نے اتر پردیش کے بدایوں ضلع کے قادرچوک علاقے کے لوہاٹھیر گاؤں میں مدرسہ کے ڈائریکٹر ساحل عزیز کے ٹھکانے پر چھاپہ مارا تو گھر میں افراتفری مچ گئی۔ عجلت میں خواتین اپنے زیور بچانے کے لیے چھت پر چڑھ گئیں اور کھیتوں میں پھینکنے لگیں۔ یہ دیکھ کر اہل علاقہ بھی حیران رہ گئے۔ بتایا جا رہا ہے کہ ای ڈی کو یہ زیورات نہیں مل سکے۔

یہ بھی پڑھیں- سروے میں یو پی کے 60 اضلاع میں 8496 مدارس غیر تسلیم شدہ

موصولہ اطلاعات کے مطابق لوہاٹھیر گاؤں کا ساحل عزیز تقریباً دس سال سے فرضی مدرسہ چلا رہا ہے۔ اس کے مدرسوں میں سینکڑوں فرضی بچے بھی رجسٹرڈ ہیں۔ ان بچوں کا وظیفہ یہاں سے نکالا جا رہا تھا۔ مدرسہ چلانے والا اب تک حکومت کو کروڑوں روپے کا دھوکہ دے چکا ہے۔ اس رقم سے وہ کئی گاؤں میں جائیداد بھی خرید چکا  ہے۔ اسی سلسلے میں تین سال قبل بھی دو مقدمات درج ہو چکے ہیں۔ میڈیا ذرائع کے مطابق جس عمارت میں عزیز مدرسہ چلانے کا دعویٰ کر رہا تھا، وہاں صرف دیواریں کھڑی ہوئی ہیں اور سرکاری نل لگا ہوا ہے۔ واضح رہے کہ تین سال قبل اسکالرشپ گھوٹالے کے حوالے سے سول لائنس تھانے میں ایف آئی آر درج کی گئی تھی۔ اس میں تمام فرضی مدرسہ چلانے والوں اور بینک منیجروں کے نام شامل تھے۔ چونکہ یہ معاملہ بہت بڑا تھا اس لیے لکھنؤ کی سطح سے اس کی تحقیقات جاری ہے۔

دیر رات ای ڈی کی ٹیم نے کی کاروائی

لکھنؤ سے آئی انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کی ٹیم جمعرات کی دوپہر دو بجے کے قریب قادرچوک تھانہ علاقے کے لوہاٹھیر گاؤں پہنچی۔ ریپڈ ایکشن فورس اور خواتین ٹیم کا ساحل عزیز کے گھر پر چھاپہ مارا۔ رات دیر گئے تک جاری رہنے والی تفتیش کے دوران تمام دستاویزات کو ضبط کرلیا گیا۔ کچھ نقدی بھی سامنے آئی ہے۔ ٹیم نے ریکارڈ میں مذکور مدارس کی جگہوں کا بھی دورہ کیا لیکن وہاں کوئی مدرسہ کام نہیں کرتا۔ معلومات سامنے آئی ہیں کہ بھموئیا، گورمئی اور رمضان پور میں بھی مدرسہ کے نام پر زمین خریدی گئی تھی۔ اس نے دو جگہوں پر کچھ عمارتیں بھی بنوائی ہیں لیکن وہاں کبھی پڑھائی نہیں ہوئی۔ ان تمام چیزوں کو دیکھ کر آپریٹر کا نام حکومت کی فہرست میں شامل ہو چکا تھا۔

بدایوں میں 90 غیر تسلیم شدہ مدارس کام کرتے پائے گئے

میڈیا ذرائع کے مطابق گزشتہ سال ضلع میں چلنے والے مدارس کی ریاستی سطح پر تحقیقات کی گئی تھیں۔ اس دوران 90 غیر تسلیم شدہ مدارس ملے۔ اگرچہ 214 تسلیم شدہ مدارس کام کر رہے ہیں، لیکن سب سے زیادہ مدارس ککرالہ میں 30، سہسوان میں 26، بسولی میں 18، بلسی میں پانچ، تحصیل صدر میں 19 اور داتا گنج کے علاقے میں 22 مدارس ہیں۔

-بھارت ایکسپریس

Bharat Express

Recent Posts

Thackeray Brothers Rally Against EC: ایس آئی آر کے خلاف پھر ایک ہوئے راج اور ادھو ٹھاکرے، 4 اکتوبر کو نکالیں گے بڑا احتجاجی مارچ

مہاراشٹر میں ووٹر لسٹ کی خصوصی نظرثانی کے خلاف ایم این ایس اور شیوسینا (یو…

7 minutes ago

Football Player Kajra Murmu Dies: فٹبال میدان میں خوفناک حادثہ! میچ کے دوران ٹکر سے بے ہوش ہوا کھلاڑی، علاج کے دوران موت

بوکارو میں میچ کے دوران 37 سالہ کھلاڑی کجرا مرمو دوسرے کھلاڑی سے ٹکرانے کے…

2 hours ago

Rahul Gandhi Attacks BJP: گیانیش کمار کو پہلے امپائر بنایا، پھر ’میچ فکسنگ‘ کی ذمہ داری بھی دے دی؟ راہل گاندھی کا بی جے پی پر حملہ

کیرالہ کے سابق چیف سیکریٹری جیجی تھامسن کے دعوے کے بعد کانگریس رکن پارلیمنٹ راہل…

2 hours ago

Kunal Ghosh Car Attack: ’مجھے واپس لوٹنے کے لیے کہا جا رہا تھا‘، ٹی ایم سی رکن اسمبلی کونال گھوش کی گاڑی پر حملہ، ممتا بنرجی نے کی مذمت

سابق وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کی مجوزہ عوامی ریلی سے قبل سیاسی کشیدگی دیکھنے کو…

2 hours ago