علاقائی

Delhi Sleeper Bus Gangrape Case: دہلی میں چلتی سلیپر بس میں طالبہ سے اجتماعی زیادتی، فنگر پرنٹس سے کھلا راز ڈی این اے رپورٹ کا انتظار

دہلی میں چلتی سلیپر بس کے اندر 11ویں جماعت کی طالبہ کے ساتھ پیش آئے خوفناک اجتماعی زیادتی کے معاملے کی تفتیش جیسے جیسے آگے بڑھ رہی ہے، اہم انکشافات سامنے آ رہے ہیں۔ پولیس کو تفتیش کے دوران ٹھوس فارینسک شواہد ملے ہیں، جس سے ملزمان کے خلاف کیس مزید مضبوط ہو گیا ہے۔ فارینسک  ٹیم نے بس کی سیٹوں، ہینڈلز، پردوں اور اسٹیئرنگ وہیل سے متعدد نمونے حاصل کیے تھے۔ اس کے علاوہ گرفتار بس ڈرائیور کلدیپ اور کنڈکٹر سندیپ کے کپڑے بھی ضبط کرکے جانچ کے لیے بھیجے گئے ہیں۔ پولیس افسران کے مطابق فنگر پرنٹ رپورٹ کے بعد اب صرف DNA جانچ رپورٹ کا انتظار ہے۔ DNA رپورٹ موصول ہوتے ہی فارینسک  شواہد کی کڑی مزید مضبوط ہو جائے گی، جس کے بعد عدالت میں معاملے کی چارج شیٹ داخل کی جائے گی۔

گھر والوں سے ناراض ہو کر نکلی تھی طالبہ، بارش اور اندھیرے میں بھٹکی

اصل میں اتر پردیش کے مین پوری ضلع کی رہنے والی 11ویں جماعت کی طالبہ کسی بات پر اپنے اہل خانہ سے ناراض ہوکر بغیر بتائے گھر سے نکل گئی تھی۔ وہ نوئیڈا میں رہنے والے اپنے کزن کے پاس جا رہی تھی۔ تاہم 4 اگست کی رات شدید بارش اور گھنے اندھیرے کے باعث وہ راستہ بھٹک گئی اور غلطی سے گریٹر نوئیڈا کے پری چوک پر اتر گئی۔ سنسان مقام پر بے یار و مددگار کھڑی طالبہ بس کا انتظار کر رہی تھی کہ اسی دوران وہاں سے ایک خالی سلیپر بس گزری۔

نوئیڈا چھوڑنے کا جھانسہ دے کر بس میں بٹھایا

طالبہ نے جب بس کو رکنے کا اشارہ کیا تو ڈرائیور اور کنڈکٹر نے بس روک دی۔ متاثرہ نے جب ان سے نوئیڈا سیکٹر-63 جانے کا راستہ پوچھا تو دونوں ملزمان نے اسے اسی راستے پر چھوڑنے کا یقین دلایا اور بس میں بٹھا لیا۔

طالبہ کو لگا کہ وہ محفوظ طریقے سے اپنی منزل تک پہنچ جائے گی، لیکن اسے اندازہ نہیں تھا کہ وہ مبینہ طور پر ملزمان کے چنگل میں پھنس چکی ہے۔

47 کلومیٹر کے سفر میں مبینہ درندگی، پردے بنے ڈھال اور CCTV بھی بند تھے

بس کے پری چوک سے آگے بڑھتے ہی الزام ہے کہ کنڈکٹر نے طالبہ کے ساتھ چھیڑ چھاڑ اور نازیبا حرکات شروع کر دیں۔ اس کے بعد ڈرائیور اور کنڈکٹر نے باری باری چلتی بس میں اس کے ساتھ مبینہ زیادتی کی۔ مخالفت کرنے پر اسے جان سے مارنے کی دھمکی بھی دی گئی۔ یہ پوری واردات پری چوک سے کشمیر ی گیٹ کے درمیان تقریباً 47 کلومیٹر کے راستے کے دوران پیش آئی۔ بس سلیپر زمرے کی تھی اور اس کی کھڑکیوں پر گہرے پردے لگے تھے، جس کی وجہ سے باہر سے گزرنے والے کسی شخص کو اندر ہونے والے جرم کی خبر نہیں ہو سکی۔مزید یہ کہ بس میں حفاظتی مقصد کے لیے نصب CCTV کیمرے بھی واردات کے وقت بند پائے گئے۔

تیمارپور پارکنگ سے گرفتار ہوئے ملزمان

واردات کے بعد دونوں ملزمان نے مبینہ طور پر دیر رات طالبہ کو دہلی کے کشمیر ی گیٹ بس اڈے کے قریب رنگ روڈ پر بدحواس حالت میں چھوڑ دیا اور بس لے کر فرار ہو گئے۔ طالبہ نے ہمت کرکے کشمیر ی گیٹ پولیس اسٹیشن پہنچ کر پولیس کو پوری واردات کی اطلاع دی۔ معاملے کی حساسیت کو دیکھتے ہوئے پولیس فوری طور پر حرکت میں آئی اور دونوں ملزمان کو تیمارپور علاقے کی ایک بس پارکنگ سے گرفتار کر لیا۔ تفتیش میں سامنے آیا کہ بس میں کچھ خرابی پیدا ہونے کے بعد ملزمان اسے سورج پور کی ایک ورکشاپ میں مرمت کے لیے لے گئے تھے۔ وہاں سے خالی بس لے کر وہ تیمارپور واپس جا رہے تھے، اسی دوران راستے میں مبینہ طور پر انہوں نے طالبہ کو بس میں بٹھایا اور واردات کو انجام دیا۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Abul Kalam

Recent Posts

Dharavi Redevelopment Project: دھاراوی کے لوگوں کے لیے بڑی شروعات، 10,432 نئے مکانات کی تعمیر شروع، اڈانی گروپ نے کیا بھومی پوجن

اڈانی گروپ نے ممبئی کے ماٹونگا میں دھاراوی بازآبادکاری منصوبے کے تحت 10,432 بازآبادکاری مکانات…

14 minutes ago

INDIA Alliance Big Rally Plan: ووٹ چوری کے معاملے پر انڈیا اتحاد کی بڑی تیاری، دسمبر میں رام لیلا میدان سے طاقت دکھانے کا منصوبہ

دسمبر کے پہلے ہفتے میں دہلی میں بڑی ریلی منعقد کرنے کی تیاری، ملک بھر…

52 minutes ago

INDIA Alliance Massive Protest Against Vote Chori: ووٹ چوری کا معاملہ، سڑک سے سپریم کورٹ تک عوامی سیلاب، کب کیا ہوا؟ جانیے مکمل ٹائم لائن

ایس آئی آر اور الیکشن کمیشن کے خلاف انڈیا اتحاد کا دہلی میں زبردست احتجاج،…

1 hour ago