علاقائی

Policeman Accused of Harassing Woman: بنگلورو میں خاتون کو ہراساں کرنے کا الزام، پولیس انسپکٹر کے آڈیو اور میسج وائرل

بنگلورو: بنگلورو میں ایک پولیس انسپکٹر پر خاتون کو مبینہ طور پر ہراساں کرنے اور اپنے ساتھ وقت گزارنے پر مجبور کرنے کا الزام سامنے آیا ہے۔ مبینہ آڈیو کلپس اور پیغامات سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد معاملہ سرخیوں میں آ گیا ہے۔

کوناناکنٹے تھانے کا پولیس انسپکٹر ملزم

اطلاعات کے مطابق بنگلورو کے کوناناکنٹے پولیس اسٹیشن میں تعینات انسپکٹر پاپنّا اس معاملے میں ملزم بتائے جا رہے ہیں۔ متاثرہ خاتون نے بنگلورو پولیس کمشنر کو شکایت درج کراتے ہوئے متعلقہ پولیس اہلکار کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

شکایت کے باوجود کارروائی نہ ہونے کا الزام

متاثرہ خاتون نے الزام لگایا کہ ملزم انسپکٹر کے خلاف پولیس میں شکایت درج کرائی گئی، مگر اس پر کوئی توجہ نہیں دی گئی۔ خاتون کا کہنا ہے کہ ملزم پولیس اہلکار دعویٰ کرتا ہے کہ اس کی بیوی سدارامیا کی قریبی رشتہ دار ہے، اس لیے اس کا کوئی کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔ خاتون کے مطابق پولیس نے حال ہی میں ان کے خلاف کارروائی شروع کی، لیکن ملزم انسپکٹر کے خلاف کوئی اقدام نہیں کیا جا رہا، جبکہ تمام ثبوت فراہم کیے جا چکے ہیں۔

واٹس ایپ پر نامناسب پیغامات

متاثرہ خاتون نے بتایا کہ پولیس انسپکٹر پاپنّا انہیں مسلسل ہراساں کر رہا ہے اور واٹس ایپ پر نامناسب پیغامات بھیجتا ہے۔ اس کے مطابق انسپکٹر یہ بھی کہتا ہے کہ وہ ان سے محبت کرتا ہے۔

2016 سے ہراسانی کا سلسلہ

خاتون نے بتایا کہ 2016 میں ملزم انسپکٹر نے انہیں پوچھ گچھ کے لیے بلایا اور ان کا فون نمبر لیا۔ اس کے بعد وہ صبح و شام پیغامات بھیجنے لگا۔ خاتون نے بتایا کہ انہوں نے یہ پیغامات اپنے شوہر کو دکھائے، جس پر شوہر نے جواب نہ دینے کا مشورہ دیا۔

خاتون کے مطابق فروری 2017 میں ملزم نے نامناسب پیغامات بھیجنا شروع کر دیے۔ جب وہ ڈی سی پی کے پاس شکایت درج کرانے گئیں تو انہیں دھمکی آمیز فون کال موصول ہوئی۔

اہل خانہ کو دھمکیاں دینے کا الزام

متاثرہ خاتون نے مزید بتایا کہ ملزم ان کے شوہر کو دھمکیاں دیتا ہے کہ ان کے بچوں کو نقصان پہنچایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ تین ماہ سے پاپنّا مسلسل فون کر کے انہیں ہراساں کر رہا ہے۔

خاتون کے مطابق ملزم کہتا ہے کہ وہ ان کے گھر آ کر انہیں کھانا بنا کر کھلائے گا اور ان سے دوستی جیسا برتاؤ کرنے کو کہتا ہے۔ خاتون نے مزید الزام لگایا کہ ملزم پولیس اہلکار کھلے عام دعویٰ کرتا ہے کہ اس کی بیوی وزیر اعلیٰ سدارامیا کی رشتہ دار ہے، اس لیے اس کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہو سکتی۔

معطلی کے باوجود دوبارہ تعیناتی

متاثرہ خاتون کا کہنا ہے کہ ملزم پولیس انسپکٹر کو دو مرتبہ معطل بھی کیا جا چکا ہے، لیکن وہ جلد ہی دوبارہ اپنی ذمہ داریاں سنبھال لیتا ہے۔ معاملے کے سامنے آنے کے بعد پولیس کی جانب سے مزید تحقیقات کی جا رہی ہیں۔

بھارت ایکسپریس۔

Md Hammad

Recent Posts

India v Afghanistan Second T20: دوسرا ٹی20، سنجو-ابھیشیک کی 88 رن کی طوفانی شراکت، بھارت نے افغانستان کو 7 وکٹ سے دی شکست

سیریز کا آخری مقابلہ 17 ستمبر کو اسی میدان پر کھیلا جائے گا۔ ٹاس ہار…

6 hours ago

Freedom from Enslavement to Technology: ٹیکنالوجی کی غلامی سے آزادی، کیا ہے بھارت کا ’ڈی- ویپنائزنگ ٹیکنالوجی‘ منصوبہ اور ڈی پی آئی ماڈل؟

یو پی آئی، ڈیٹا پروٹیکشن قانون اور سیمی کنڈکٹر مشن کے ذریعے بھارت ڈیجیٹل خودمختاری…

7 hours ago