علاقائی

Mirzapur Thermal Energy: مرزا پور میں لگائے جانے والے تھرمل پاور پلانٹ کے حوالے سے ’’عوامی سماعت‘‘ کا انعقاد، رکن اسمبلی رما شنکر سنگھ نے کہا-ضلع کی ہوگی ترقی

مرزا پور صدر تحصیل کے تحت ددری خورد گاؤں میں اڈانی گروپ کی طرف سے بنائے جانے والے کوئلے پر مبنی 1600 میگاواٹ کے الٹرا سپر کریٹیکل تھرمل پاور پلانٹ کے قیام کے لیے ماحولیاتی منظوری سے متعلق ایک عوامی سماعت کا اہتمام کیا گیا۔ اتر پردیش آلودگی کنٹرول بورڈ کے زیراہتمام منعقدہ اس پروگرام میں مقامی دیہاتیوں، علاقائی رہائشیوں ، عوامی نمائندوں اور معززین نے شرکت کی۔

سابق وزیر اور مڑیہان کے ایم ایل اے رماشنکر سنگھ پٹیل نے بھی اس عوامی سماعت میں حصہ لیا۔ انھوں نے کہا کہ اس پاور پلانٹ کے قیام سے نہ صرف علاقے میں روزگار کے مواقع بڑھیں گے بلکہ یہ ضلع کی مجموعی ترقی کا باعث بنے گا۔ انھوں نے اس منصوبے کو خطے کے لیے ایک اہم قدم قرار دیا۔ اس پروگرام میں ایڈیشنل ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ شیو پرساد شکلا، علاقائی ماحولیات افسر سون بھدرا، اڈانی گروپ کے نمائندے اور ضلع کے دیگر سرکردہ لوگ موجود تھے۔ مقامی باشندوں نے اس منصوبے کا خیرمقدم کیا اور جوش و خروش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ پلانٹ ضلع کی ہمہ گیر ترقی میں مددگار ثابت ہوگا۔

ماحولیاتی اثرات پر بحث

اس عوامی سماعت کے دوران ماحولیاتی اثرات اور منصوبے سے متعلق مختلف پہلوؤں پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔ مقامی لوگوں نے زور دیا کہ یہ منصوبہ خطے کی اقتصادی ترقی کے ساتھ ساتھ انفراسٹرکچر کی ترقی میں بھی معاون ثابت ہوگا۔ یہ تھرمل پاور پلانٹ الٹرا سپر کریٹیکل ٹیکنالوجی پر مبنی ہو گا، جو توانائی کی پیداوار میں کارکردگی بڑھانے کے ساتھ ساتھ ماحولیاتی اثرات کو کم کرنے میں مددگار سمجھا جاتا ہے۔

اس پروجیکٹ کے لیے ماحولیاتی معیارات کی تعمیل کو یقینی بنانے کے لیے اتر پردیش آلودگی کنٹرول بورڈ کی جانب سے سخت اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ اس تقریب سے علاقے کے لوگوں میں ترقی کی نئی امیدیں پیدا ہوئی ہیں اور خیال کیا جا رہا ہے کہ یہ منصوبہ مرزا پور کے صنعتی اور اقتصادی منظر نامے کو ایک نئی جہت دے گا۔

بھارت ایکسپریس اردو

Bharat Express

Recent Posts

India v Afghanistan Second T20: دوسرا ٹی20، سنجو-ابھیشیک کی 88 رن کی طوفانی شراکت، بھارت نے افغانستان کو 7 وکٹ سے دی شکست

سیریز کا آخری مقابلہ 17 ستمبر کو اسی میدان پر کھیلا جائے گا۔ ٹاس ہار…

5 hours ago

Freedom from Enslavement to Technology: ٹیکنالوجی کی غلامی سے آزادی، کیا ہے بھارت کا ’ڈی- ویپنائزنگ ٹیکنالوجی‘ منصوبہ اور ڈی پی آئی ماڈل؟

یو پی آئی، ڈیٹا پروٹیکشن قانون اور سیمی کنڈکٹر مشن کے ذریعے بھارت ڈیجیٹل خودمختاری…

7 hours ago