امریکی شہر لاس اینجلس خطرناک دور سے گزر رہا ہے۔ شہر میں رات بھر تشدد کا سلسلہ جاری ہے۔ مظاہرین نے ایپل کے شوروم کو لوٹ لیا۔ کئی مقامات پر آتش زنی کی وارداتیں ہوئی ہیں اور لوگ پرتشدد مظاہروں پر تلے ہوئے ہیں۔ شہر میں تشدد کے پیش نظر میئر کیرن باس نے لاس اینجلس کے کئی علاقوں میں کرفیو نافذ کر دیا ہے۔میئر کیرن باس نے کہا کہ کرفیو رات 8 بجے سے صبح 6 بجے تک نافذ رہے گا اور کئی دنوں تک نافذ رہ سکتا ہے۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ انہوں نے کہا کہ کرفیو کا اطلاق علاقے میں رہنے اور کام کرنے والے لوگوں پر نہیں ہوگا۔
رپورٹ کے مطابق پیر کی رات نقاب پوش شرپسندوں نے وہاں ایک ایپل اسٹور کو لوٹ لیا۔
سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہوئی ہے، جس میں کئی نقاب پوش افراد کو ایپل اسٹور میں گھستے اور گیجٹس لوٹتے دیکھا جا سکتا ہے۔ پولیس کے پہنچتے ہی کئی لوگوں کو اسٹور سے بھاگتے ہوئے دیکھا گیا۔لاس اینجلس کی میئر کیرن باس نے ایک پوسٹ میں لکھا اور تشدد کی مذمت کی۔ انہوں نے لکھا، ” میں واضح کر دوں، شہر کے مرکز میں توڑ پھوڑ کرنے والے یا دکانوں کو لوٹنے والے کو ہماری تارکین وطن کی کمیونٹیز کی کوئی پرواہ نہیں ہے۔” “آ پ کو جوابدہ ٹھرایا جائے گا ۔”
اس سے قبل مظاہرین نے لاس اینجلس میں کئی کاروں کو آگ لگا دی۔ شہر کی صورتحال بدستور نازک ہے۔قابل ذکر بات یہ ہے کہ صدر ٹرمپ نے لاس اینجلس میں مزید 2000 نیشنل گارڈز اور 700 میرینز کی تعیناتی کا حکم دیا ہے۔ 2000 نیشنل گارڈز پہلے ہی یہاں تعینات ہیں۔اس کے بعد اس شہر میں فوجیوں کی تعداد میں مزید اضافہ ہونے والا ہے۔کیلیفورنیا کے گورنر گیون نیوزوم ٹرمپ کے اس اقدام کی شدید مخالفت کر رہے ہیں۔ گیون کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کیلیفورنیا کے گورنر کے حقوق کو کچل رہے ہیں۔
لاس اینجلس میں تشدد کیوں ہو رہا ہے؟
آپ کو بتاتے چلیں کہ لاس اینجلس گزشتہ تین دنوں سے احتجاج اور تشدد کی لپیٹ میں ہے۔ یہ تشدد یہاں ٹرمپ انتظامیہ کے خلاف ہو رہا ہے جو غیر قانونی تارکین وطن کی گرفتاری شروع کئے جانے کے خلاف ہو رہا ہے ۔غیر قانونی تارکین وطن کے خلاف کام کرنے والی امریکی ایجنسی آئی سی ای نے کہا ہے کہ اس نے ایک جگہ سے 40 سے زائد مشتبہ غیر قانونی تارکین وطن کو گرفتار کیا ہے۔ آئی سی ای کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے، انہوں نے کہا کہ جمعہ کو آئی سی ای اور دیگر ایجنسیوں نے گریٹر ایل اے کے علاقے میں 77 دیگر افراد کو گرفتار کیا۔
غیر قانونی تارکین وطن کے خلاف کارروائی ٹرمپ کا انتخابی وعدہ
غیر قانونی تارکین وطن کے خلاف کارروائی ٹرمپ کا انتخابی وعدہ رہا ہے۔ اب وہ اس مشن پر سختی سے کام کر رہے ہیں۔ کئی دہائیوں میں یہ پہلا موقع ہے ،جب کسی صدر نے ریاست کی درخواست کے بغیر فوج بھیجی ہو۔ یہ امریکہ میں ایک بڑا مسئلہ بن گیا ہے۔ گیون، جو ٹرمپ کے سیاسی دھارے کے مخالف ہیں،ان کا تعلق ڈیموکریٹ پارٹی سے ہے، جب کہ ٹرمپ خود ریپبلکن ہیں۔آپ کو بتاتے چلیں کہ لاس اینجلس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سخت امیگریشن پالیسیوں اور امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (آئی سی ای) کے چھاپوں کے خلاف احتجاج کیا جا رہا ہے۔ 6-7 جون کو شروع ہونے والے چھاپوں میں فیشن ڈسٹرکٹ، کامپٹن اور ہوم ڈپو جیسے علاقوں سے 118 غیر قانونی تارکین وطن کو حراست میں لیا گیا۔ اس سے لاطینی کمیونٹی میں غم و غصہ پھیل گیا ،جس کے بعد ہزاروں لوگ سڑکوں پر نکل آئے۔ مظاہرین نے 101 فری وے کو بلاک کر دیا، گاڑیوں کو آگ لگا دی اور سرکاری عمارتوں پر حملہ کیا۔
پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں میں آنسو گیس، ربڑ کی گولیوں اور فلیش بینگ گرینیڈز کا استعمال کیا گیا۔ ٹرمپ انتظامیہ نے صورتحال پر قابو پانے کے لیے 2000 نیشنل گارڈ اور 700 میرینز کو تعینات کیا، جسے گورنر گیون نیوزوم نے “اشتعال انگیز” اقدام قرار دیا۔ گیون نیوزوم نے کہا کہ یہ عوامی تحفظ کا معاملہ نہیں ہے، یہ ایک خطرناک صدر کی انا کو سکون پہنچانے کا معاملہ ہے۔ ساتھ ہی ٹرمپ نے میئر کیرن باس اور نیوسم پر عوامی تحفظ کو خطرے میں ڈالنے کا الزام لگایا ہے۔
بھار ت ایکسپریس اردو
ایشین گیمز 2026 کے اسکواش مکسڈ ڈبلز مقابلے میں جوشنا چناپا اور ویلون سینتھل کمار…
آئچی-ناگویا ایشین گیمز 2026 میں بھارتی ایتھلیٹ ساون برنوَال نے مردوں کی میراتھن میں چاندی…
50 میٹر رائفل 3 پوزیشن ٹیم مقابلے میں تلوتمہ سین، وِدرشا کے ونود اور آشی…
آئچی-ناگویا ایشین گیمز 2026 میں بھارت کے تمغوں کی تعداد 30 ہوگئی، 4 گولڈ، 12…
مہاراشٹر میں ووٹر لسٹ کی خصوصی نظرثانی کے خلاف ایم این ایس اور شیوسینا (یو…
مشاق خان کی آخری رسومات میں بڑے فلمی ستاروں کی عدم شرکت پر رضا مراد…