قلمکار : نریندر مودی، وزیراعظم ، حکومت ہند
کچھ دن پہلے، ہم نے اپنے ایک سینئر ترین لیڈر، جناب وجے کمار ملہوترا جی کو کھو دیا۔ انہوں نے ایک طویل اور کامیاب زندگی گزاری، لیکن اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ انہوں نے انتھک محنت، عزم اور خدمت کی زندگی گزاری۔ ان کی زندگی کی ایک جھلک ہر کسی کو آر ایس ایس، جن سنگھ اور بی جے پی کے بنیادی اخلاقیات کو سمجھنے میں معاون ثابت ہوگی…مشکلات کے دوران ہمت، اپنی ذات سے بالاتر ہو کرخدمت کرنا اور قومی اور ثقافتی اقدار کے تئیں گہری وابستگی۔
وی کے ملہوترا جی کے خاندان کو تقسیم کی ہولناکیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ صدمے اور نقل مکانی نے نہ تو انکے اندر تلخی پیدا کی اور نہ ہی انہیں صرف اپنی ذات تک محدودکرسکی۔ اس کے بجائے، انہوں نے خود کو دوسروں کی خدمت میں غرق کر دیا۔ انہیں اپنا مقصد حیات آر ایس ایس اور جن سنگھ میں نظر آیا۔ وہ واقعی بہت مشکل حالات تھے۔ ملہوترا جی نے خودکو سماجی کاموں کے لے وقف کر دیا، ہزاروں بے گھر خاندانوں کی مدد کی، جنہوں نے اپنا سب کچھ کھو دیا تھا، انکی زندگیوں کو دوبارہ تعمیر کیا ۔ یہی جن سنگھ کے رہنما اصول تھے۔ ان دنوں ان کے ساتھی کارکنوں میں مدن لال کھورانہ جی اور کیدار ناتھ ساہنی جی شامل تھے۔ ایسے لوگ اور بے شمار دوسرے افراد بے لوث خدمت کے علمبردار تھے ، جس کی بازگشت دہلی کے لوگوں کو سنائی دیتی تھی۔
یہ بات سب جانتے ہیں کہ 1967 کے لوک سبھا اور مختلف ریاستوں کے اسمبلی انتخابات اس وقت کی سب سے طاقتور سیاسی جماعت کانگریس کے لئے چونکا دینے والے تھے۔ ایک غیر معروف الیکشن جو ہوا وہ دہلی میٹرو پولیٹن کونسل کا پہلا الیکشن تھا۔ قومی راجدھانی میں جن سنگھ نے شاندار جیت حاصل کی۔ جناب ایل کے اڈوانی جی کونسل کے چیئرمین بنے اور ملہوترا جی کو چیف ایگزیکٹو کونسلر کی ذمہ داری سونپی گئی، جو تقریباً وزیر اعلیٰ کے منصب کے برابر تھی۔ تب وہ صرف 36 سال کے تھے۔ انہوں نے اپنی مدت کار کا استعمال دہلی کی ضروریات کو پورا کرنے خاص طور پر بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانے اور شہری مسائل کے حل لئے کیا۔
اس ذمہ داری نے دہلی کے ساتھ ملہوترا جی کا رشتہ بھی گہرا کیا۔ جب بھی کوئی عوامی اہمیت کا مسئلہ درپش ہوتا، ملہوترا جی تماشائی نہں بلکہ ایک سرگرم حصہ دار ہوتے جو عوام کی آواز بن کر بولتے تھے۔ انہوں نے 1960 کی دہائی کے اواخر میں گائے کے تحفظ کی تحریک میں حصہ لیا جہاں وہ پولس کی زیادتی کا شکار بھی ہوئے۔ وہ ایمرجنسی مخالف تحریک میں سب سے آگے تھے۔ جب دہلی کی سڑکوں پر سکھوں کو بے دردی سے قتل کیا جا رہا تھا، وہ امن و سکون کی آواز بنے اور سکھ برادری کے ساتھ مضبوطی سے کھڑے رہے ۔ ان کا خیال تھا کہ سیاست، انتخابی کامیابی کے علاوہ، اصولوں اور لوگوں کے ساتھ ساتھ اقدار کے تحفظ کے بارے میں بھی ہے جو کہ سب سے اہم ہے۔
1960 کی دہائی کے اواخر سے، وی کے ملہوترا جی عوامی زندگی میں ایک مستقل شخصیت بنے رہے۔ بہت کم رہنما دعویٰ کر سکتے ہیں کہ وہ عوامی مصروفیت کا اتنا طویل اور غیر منقطع دورانیہ رکھتے ہیں ۔ وہ ایک انتھک کارکن، ایک بہترین منتظم اور ادارہ ساز تھے۔ وہ انتخابی سیاست اور تنظیمی سیاست کی دنیا کو یکساں طور پر آسانی کے ساتھ عبور کرنے کی حیرت انگزا صلاحیت رکھتے تھے، جن سنگھ اور بی جے پی کی دہلی یونٹ کو مستحکم قیادت فراہم کرتے تھے۔
شہری انتظامیہ ہو، ریاستی اسمبلی ہو یا پارلیمنٹ، ملہوترا جی نے ان سب کا مشاہدہ کیا تھا۔ ڈاکٹر منموہن سنگھ کے خلاف ان کی 1999 کی لوک سبھا انتخابی جیت آج بھی حامیوں اور مخالفیں دونوں کو یاد ہے۔ یہ ایک ہائی پروفائل الیکشن تھا، جہاں ان کا مقابلہ کانگریس کے ایک اہم لیڈر سے تھا۔ کانگریس نے جنوبی دہلی کی ان کی نشست پر پوری قوت جھونک دی تھی، لیکن ملہوترا جی نے کبھی بھی گفت و شنید کا معیار گرنے نہیں دیا۔ انہوں نے منفی حملوں کو نظر انداز کرتے ہوئے ایک مثبت انتخابی مہم چلائی اور 50 فیصدسے زائد ووٹ لے کر کامیابی حاصل کی! یہ جیت ملہوترا جی کے عوام سے مضبوط زمینی تعلق کی بدولت ممکن ہوئی۔ وہ کارکنوں سے قریبی روابط قائم رکھنے اور ووٹروں کی امنگوں کو سمجھنے میں ماہر تھے۔
جب ملہوترا جی پارلیمنٹ میں بولتے تھے تو ان کی بات ہمیشہ مدلل، تحقیق پر مبنی اور مؤثر ہوتی تھی۔ یو پی اے-1 کے دوران بطور حزب اختلاف کے ڈپٹی لیڈر کے، ان کا دور سیاست اور پارلیمانی جمہوریت کے طالب علموں کے لئے قیمتی اسباق لئے ہوئے ہے۔ انہوں نے یو پی اے حکومت کی نااہلی، خصوصاً بدعنوانی اور دہشت گردی کے معاملے میں اس کی مایوس کن کارکردگی پر بھرپور انداز میں تنقید کی۔ ان دنوں میں گجرات کا وزیر اعلیٰ تھا اور میری ملہوترا جی سے اکثر ملاقات ہوتی رہتی تھی۔ وہ ہمیشہ گجرات کی ترقی میں گہری دلچسپی لیتے تھے۔
سیاست وی کے ملہوترا جی کی شخصتت کا صرف ایک پہلو تھا۔ وہ ایک بہترین ماہرِ تعلم بھی تھے۔ میں نے ان کے اہلِ خانہ سے جانا کہ انہوں نے اسکول کے زمانے میں دو مرتبہ ڈبل پروموشن حاصل کی۔ انہوں نے میٹرک اور گریجویشن مقررہ وقت سے پہلے مکمل کر لی تھی۔ انہیں ہندی زبان پر اتنا عبور حاصل تھا کہ ڈاکٹر شیاما پرساد مکھرجی کی تقاریر کا ہندی ترجمہ کرنے کی ذمہ داری اکثر ان کو ہی سونپی جاتی تھی۔
ملہوترا جی کی سب سے بڑی خوبیوں میں سے ایک ادارہ ساز کے طور پر ان کا کردار تھا۔ وہ ان سرکردہ رہنماؤں میں سے تھے جنہوں نے آر ایس ایس سے متعلق کئی اداروں کی بنیاد رکھی اور ان آبیاری کی۔ ان کی کوششوں سے کئی ثقافتی، تعلیمی اور سماجی تنظیموں کو ترقی اور رہنمائی ملی۔ یہ ادارے قابلیت اور خدمت کی نرسری بن گئے، جو خود انحصاری، اقدار پر مبنی معاشرے کے نظریے کو آگے بڑھاتے ہیں۔
سیاست اور تعلیم سے ہٹ کر ملہوترا جی نے کھیلوں کی دنیا میں ایک انمٹ شناخت بنائی۔ تیر اندازی کا ان میں زبردست جنون تھا اور انہوں نے کئی دہائیوں تک تیر اندازی ایسوسی ایشن آف انڈیا کے صدر کے طور پر خدمات انجام دیں۔ ان کی قیادت میں ہندوستانی تیر اندازی کو عالمی سطح پر پہچان ملی اور انہوں نے کھلاڑیوں کو پلیٹ فارم اور مواقع فراہم کرنے کے لئے انتھک محنت کی۔ کھیلوں کی انتظامیہ میں ان کا کردار انہی خصلتوں کی عکاسی کرتا ہے جو انہوں نے عوامی زندگی میں ظاہر کیا: لگن، تنظیمی صلاحیت اور عمدہ کارکردگی کا حصول۔
جناب وی کے ملہوترا جی کا اثر صرف ان عہدوں پر ہی نہیں تھا جن پر وہ فائز تھے، بلکہ اخلاقیات میں ، انہوں نے اسے پروان چڑھایا… اپنی خدمت کو پیش کرنے، اقدار سے جڑے رہنے اور ہمت اور استقامت کے ساتھ چیلنجوں کو قبول کرنے میں وہ پارٹی کی مثالی شخصیت تھے، انہوں نے کبھی کوئی ایسی بات نہیں کی جس سے ہمارے کارکنان یا نظریے کو شرمندگی اٹھانی پڑے۔
چند روز قبل میں دہلی بی جے پی کے نئے مرکزی دفتر کے افتتاحی پروگرام میں شریک تھا، جہاں مجھے جناب وی کے ملہوترا جی کی یاد بہت شدت سے آئی۔ اس سال کے آغاز میں جب بی جے پی نے تین دہائیوں کے بعد دہلی میں حکومت بنائی تو وہ بے حد خوش تھے اور ان کی بڑی توقعات تھیں جنہیں پورا کرنے کے لئے ہم پرعزم ہیں، تاکہ اپنےعزید دارالحکومت کو ترقی کی راہ پر گامزن رکھ سکیں۔ امید ہے کہ ان کی زندگی اور کارنامےآنے والے دنوں میں عوامی خدمت کے لئے وقف نسلوں کے لئے مشعلِ راہ بنے رہیں گے۔
بھارت ایکسپریس اردو
ایشین گیمز 2026 میں بھارت کا پہلا تمغہ سُچیکا تاریال نے یقینی بنایا۔ 36 سالہ…
پاکستان کے سابق وزیر اعظم اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران…
بھارت اور اٹلی اپنے خصوصی اسٹریٹجک پارٹنرشپ کے دائرہ کار کو وسیع کر رہے ہیں۔…
بھارتی کرکٹ ٹیم کے چیف سلیکٹر اجیت اگرکر نے تقریباً 3 سال کے کامیاب دور…
فضا میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کی بڑھتی مقدار موسم، گرمی، پانی، زراعت اور آنے والے…
روس میں 18 سے 20 ستمبر تک اسٹیٹ ڈوما یعنی پارلیمنٹ کے ایوانِ زیریں کے…