بھارت اور امریکہ کے درمیان تعلقات میں اتار چڑھاؤ ایک طویل عرصے سے دیکھنے کو ملتے رہے ہیں۔ کبھی تجارتی تنازعات، تو کبھی اسٹریٹجک شراکت داری کی خبریں سرخیوں میں رہتی ہیں۔ اسی دوران امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایک بیان دے کر سب کی توجہ اپنی طرف مبذول کرائی ہے۔ انہوں نے واضح طور پر کہا ہے کہ وہ آنے والے دنوں میں بھارت کے پی ایم نریندر مودی سے بات کریں گے۔
تجارت پر گفتگو کا اعلان
ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا کہ انہیں خوشی ہے کہ بھارت اور امریکہ دونوں ملک تجارت سے متعلق رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے مل کر کام کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا:”میں اپنے بہت اچھے دوست پی ایم مودی سے بات چیت کے لیے پُر امید ہوں۔ ہمیں کسی بڑے نتیجے تک پہنچنے میں زیادہ مشکل پیش نہیں آئے گی۔”
یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب حال ہی میں روس سے تیل خریدنے کے معاملے پر امریکہ نے بھارت پر 50 فیصد ٹیرف لگانے کا فیصلہ کیا تھا۔ اس قدم کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان تناؤ بڑھتا نظر آ رہا تھا۔
تعلقات پر ٹرمپ کا بدلا لہجہ
وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ٹرمپ نے ایک بار پھر کہا کہ بھارت اور امریکہ کے تعلقات خاص ہیں۔ انہوں نے کہا:”میں اور پی ایم مودی دوست ہیں، اور آئندہ بھی دوست ہی رہیں گے۔”
البتہ اسی گفتگو میں انہوں نے کچھ ناراضگی کا اظہار بھی کیا۔ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ انہیں پی ایم مودی کے کچھ حالیہ فیصلے پسند نہیں آئے، لیکن اس کے باوجود انہوں نے مودی کو ایک عظیم پی ایم قرار دیا۔ ماہرین ان کے اس بیان کو دونوں ممالک کے تعلقات میں ایک نئے موڑ کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔
پی ایم مودی کا ردِعمل
پی ایم نریندر مودی نے بھی امریکی صدر کی باتوں کا جواب دیا۔ ہفتے کو ایک پروگرام میں انہوں نے کہا کہ وہ ٹرمپ کے جذبات کی قدر کرتے ہیں اور بھارت-امریکہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے حامی ہیں۔ مودی کے اس مؤقف سے واضح ہے کہ بھارت بھی اس شراکت داری کو نئی سمت دینے کا خواہش مند ہے۔
تعلقات کی اہمیت کیوں؟
بھارت اور امریکہ نہ صرف تجارتی شراکت دار ہیں، بلکہ دفاع، ٹیکنالوجی اور اسٹریٹجک محاذ پر بھی قریبی تعاون رکھتے ہیں۔ روس سے تیل کی درآمد، محصولات کا تنازع، اور کچھ پالیسی اختلافات نے اگرچہ تعلقات میں کچھ تلخی پیدا کی ہے، لیکن دونوں ممالک کی کوشش یہی ہے کہ یہ تلخی زیادہ دیر تک نہ رہے۔
آگے کا راستہ
ٹرمپ کا یہ بیان اور مودی کا ردِعمل مل کر ایک مثبت ماحول بناتے دکھائی دے رہے ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ دونوں رہنماؤں کی گفتگو میں تجارتی معاملات پر اہم معاہدے ہو سکتے ہیں۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو یہ نہ صرف بھارت-امریکہ بلکہ عالمی سیاست اور معیشت کے لیے بھی ایک بڑی خبر ہوگی۔
واضح ہے کہ تعلقات میں وقتی تلخی کے باوجود، ٹرمپ اور مودی دونوں اس دوستی کو برقرار رکھنے کے لیے سنجیدہ اور پرعزم نظر آ رہے ہیں۔ آنے والے دنوں میں دونوں رہنماؤں کی ملاقات یا بات چیت تعلقات میں ایک نیا باب کھول سکتی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
۔شعیب جمائی نے دہلی کی وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا کو بھی نشانہ بنایا۔ انہوں نے…
بھارت اور ایران کے درمیان مقابلے کے پہلے ہاف میں زبردست کشمکش دیکھنے کو ملی۔…
وزیر اعظم نے کہا کہ اس اسکیم نے علاج کے اخراجات میں ریکارڈ بچت کو…
امت شاہ نے ’’ویژن ڈاکیومنٹ 2026-2029‘‘ کو منشیات کے خطرے کے خلاف جنگ میں شامل…
25 ستمبر سے موسم میں معمولی تبدیلی دیکھنے کو مل سکتی ہے۔ زیادہ سے زیادہ…
سورو داس نے کہا کہ اگر دہلی پولیس کے پاس ان کے، احتجاج یا سپریم…