وقف ایکٹ میں حالیہ ترامیم کے آئینی جواز کو چیلنج کرنے والی عرضیوں پر جمعرات کو سپریم کورٹ میں دوسرے دن بھی سماعت جاری رہی۔ چیف جسٹس آف انڈیا (CJI) جسٹس سنجیو کھنہ، جسٹس سنجے کمار اور جسٹس کے وی وشواناتھن کی بنچ نے مرکزی حکومت کو جواب داخل کرنے کے لیے سات دن کا وقت دیا ہے۔ حکومت نے عدالت کو یقین دلایا کہ اس مدت کے دوران کوئی ڈی نوٹیفکیشن یا نئی تقرری نہیں کی جائے گی۔ اگلی سماعت 5 مئی کو ہوگی۔
اس کے بعد وقف قانون پر مسلسل سیاسی رد عمل آ رہا ہے۔ اس سلسلے میں عام آدمی پارٹی کے راجیہ سبھا ممبر پارلیمنٹ سنجے سنگھ نے مرکزی نریندر مودی حکومت کو نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘X’ پر لکھا، “وقف ترمیمی بل مکمل طور پر غیر آئینی ہے، میں نے یہ بات جے پی سی کے سامنے اور ایوان میں اٹھائی تھی، مودی حکومت کے پاس ان سوالوں کا کوئی جواب نہیں ہے جو سپریم کورٹ نے مرکزی حکومت سے پوچھے ہیں۔ اب بھی وقت ہے، اس حقیقت کو قبول کر لیں کہ یہ ملک بابا صاحب کے لکھے ہوئے آئین سے چلے گا نہ کہ مودی کے فرمان سے”۔
ساتھ ہی سپریم کورٹ میں ہونے والی سماعت پر حکمراں اور اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے مختلف ردعمل سامنے آرہے ہیں۔ اپوزیشن کے ردعمل پر سنجے سنگھ نے لکھا، “”مودی کے حامی اب سپریم کورٹ کو دھمکانے میں لگ گئے ہیں۔۔ بی جے پی نہ تو آئین کا احترام کرتی ہے اورنہ ہی عدالت کا۔ مودی جی کے منصوبوں کو دھچکا لگا ہے۔ بی جے پی مذہبی املاک پر قبضہ کرکے اپنے دوستوں کو دینا چاہتی ہے۔ انہوں نے کاشی میں 300 سے زیادہ مندروں کو گرایا اوراپنے دوستوں کو
کاروبار کرنے کے لیے زمینیں دیں۔”
سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے سپریم کورٹ میں کیا کہا
آپ کو بتا دیں کہ جمعرات کو سپریم کورٹ میں سماعت کے دوران سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے عدالت سے کہا کہ یہ ایسا مسئلہ نہیں ہے، جس کا فیصلہ کسی بھی حصے کو دیکھ کر کیا جا سکے۔ اس کے لیے پورے قانون اور تاریخ کو بھی دیکھنا ہوگا۔ یہ قانون کئی لاکھ تجاویز پر غور کرنے کے بعد منظور کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر عدالت کوئی حکم جاری کرے گی تو اس کا بہت زیادہ اثر پڑے گا۔
انہوں نے جواب داخل کرنے کے لیے ایک ہفتے کی مہلت مانگی، جسے عدالت نے قبول کرلیا۔ اس کے بعد سی جے آئی نے کہا کہ عدالت چاہتی ہے کہ کوئی فریق متاثر نہ ہو۔ سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے کہا کہ اگر آپ ‘وقف بائے یوزر’ کے بارے میں کچھ کہنا چاہتے ہیں تو اس کے لیے ہماری بات سنیں۔ انہوں نے یقین دلایا کہ وقف بورڈ میں ایک ہفتہ تک کوئی تقرر ی نہیں ہوگی۔
سپریم کورٹ نے سالیسٹر جنرل تشار مہتا سے پوچھا کہ کیا وہ یہ یقین دہانی کرا سکتے ہیں کہ 1995 کے وقف ایکٹ کے تحت رجسٹرڈ وقف املاک کو ڈی نوٹیفائی نہیں کیا جائے گا؟ سالیسٹر جنرل نے بھی عدالت کو اس کی یقین دہانی کرائی۔ ایک عبوری حکم میں عدالت عظمیٰ نے سماعت کی اگلی تاریخ 5 مئی مقرر کی اور کہا کہ سالیسٹر جنرل نے کہا ہے کہ مرکزی حکومت سات دنوں کے اندر اپنا جواب داخل کرنا چاہتی ہے۔ وہ عدالت کو یقین دلاتے ہیں کہ وقف ایکٹ کی ترمیم شدہ دفعہ 9 اور 14 کے تحت کونسل اور بورڈ میں کوئی تقرری نہیں کی جائے گی۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس کے سی ایم ڈی اور ایڈیٹر اِن چیف اپیندر رائے کی میزبانی میں…
الیکشن کمیشن آف انڈیا (ای سی آئی) نے ووٹر لسٹ کی خصوصی گہری نظرثانی (ایس…
ممبئی کے وکرولی ریلوے اسٹیشن پر ایک نوجوان کی بہادری کا ویڈیو سوشل میڈیا پر…
اندریش کمار نے سونیا گاندھی کی کتاب پر اٹھائے سوالات، راہل گاندھی پر بھی تنقید،…
سمراٹ چودھری نے مرکز اور ریاست کے درمیان بہتر تال میل کو بہار کی ترقی…
وزیر اعظم نریندر مودی نے ہفتہ کے روز دیوالی سے پہلے اہل وطن کو روشنی…