اس سیٹ پر کانگریس اور بی جے پی کے درمیان جیت اور ہار کا فرق صرف 32 ووٹوں کا ،سابق مرکزی وزیر کے بیٹے کو ملی شکست
ہریانہ اسمبلی انتخابات کے نتائج میں چونکا دینے والے اعداد و شمار سامنے آئے ہیں۔ 2019 میں کنگ میکر رہے دشینت چوٹالہ کو اوچنا کلاں سے کراری شکت کا سامنا کرنا پڑا ہے، وہ پانچویں نمبر پر ۔
اس سیٹ پر کانگریس اور بی جے پی کے درمیان جیت اور ہار کا فرق صرف 32 ووٹوں کا تھا۔ یہاں بی جے پی کے دیویندر اتری نے جیت حاصل کی۔ انہیں 48968 ووٹ ملے۔ وہیں کانگریس کے برجیندر سنگھ کو 48936 ووٹ ملے۔ سابق مرکزی وزیر بیرندر سنگھ کے بیٹے برجیندر سنگھ نے لوک سبھا انتخابات سے قبل بی جے پی چھوڑ کر کانگریس میں شمولیت اختیار کرلی۔
آزاد امیدوار وریندر گھوگھڑیا تیسرے نمبر پر رہے۔ انہیں 31456 ووٹ ملے۔ آزاد امیدوار وکاس کو 13458 ووٹ ملے۔ وہیں دشینت چوٹالہ کو 7950 ووٹ ملے۔
گزشتہ چند انتخابات کے نتائج
دشینت چوٹالہ نے 2019 کے انتخابات میں اس سیٹ سے کامیابی حاصل کی تھی۔ انہیں 92,504 ووٹ ملے۔ تب دشینت چوٹالہ نے بی جے پی امیدوار پریم لتا سنگھ کو شکست دی تھی۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ 2014 کے انتخابات میں بی جے پی کی پریم لتا سنگھ نے جیت حاصل کی تھی۔ انہوں نے دشینت چوٹالہ کو شکست دی تھی۔ اوم پرکاش چوٹالہ نے 2009 میں اس سیٹ سے کامیابی حاصل کی تھی۔ انہوں نے بیرندر سنگھ کو شکست دی تھی۔ بیرندر سنگھ 2005 میں اس سیٹ سے ایم ایل اے منتخب ہوئے تھے۔
بھار ت ایکسپریس
راجدھانی دہلی میں مہاکوی گوپال داس نیرج کی یاد میں ’کارواں گیتوں کا… نیرج‘ پروگرام…
دہلی کے ماولنکر ہال میں منعقد پینٹنگ نمائش ’ڈسکور دی پاور آف ایکسپریشن‘ میں بھارت…
بھارت ایکسپریس نیوز نیٹ ورک، مہاکوی گوپال داس نیرج فاؤنڈیشن ٹرسٹ اور سونوی ایونٹس ممبئی…
مرکزی وزیر داخلہ و تعاون امت شاہ نے 2029 کے آخر تک پورے بھارت کو…
اسرائیلی وزیر اعظم نے 174 مسافروں کی جان بچانے والے بھارتی پائلٹ کی بہادری کو…
پنڈت دین دیال آڈیٹوریم میں منعقد ’وکست گجرات سے وکست بھارت‘ کے عنوان سے اس…