ہرِی دوار کے مانسا دیوی مندر میں بھگدڑ کی اطلاع موصول ہوئی ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ اس افسوسناک واقعے میں اب تک 6عقیدت مند وں کی موت ہوچکی ہے ، جب کہ کئی دیگر شدید زخمی ہیں۔ جائے وقوعہ پر پھنسے لوگوں کو نکالنے کا کام تیزی سے جاری ہے۔ پولیس اس وقت زخمیوں کو محفوظ طریقے سے اسپتال پہنچانے اورامدادی کارروائیوں میں مصروف ہے۔
اس واقعے پر گڑھوال ڈویژن کے کمشنر وِنے شنکر پانڈے نے اے این آئی کو بتایا کہ ہرِی دوارکے مانسا دیوی مندرمیں بھاری بھیڑجمع ہونے کے بعد بھگدڑ مچ گئی۔ اس بھگدڑ میں 6 افراد کی موت ہو چکی ہے۔ اب تک جو اطلاعات موصول ہوئی ہیں، ان کے مطابق یہ واقعہ مندر کی سیڑھیوں پر پیش آیا۔
ابھی تک یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ بھگدڑ کی اصل وجہ کیا تھی۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی زخمیوں کو قریبی اسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا، جہاں ان کا علاج جاری ہے۔
اتوار کا دن ہونے کے باعث مندر میں عام دنوں کی نسبت زیادہ بھیڑ تھی۔ صبح سے ہی عقیدت مند ماتا کے درشن کے لیے قطاروں میں کھڑے تھے۔ اسی دوران یہ حادثہ پیش آیا۔ اتوار ہونے کی وجہ سے عقیدت مندوں کی تعداد بہت زیادہ تھی۔ لوگ جلدی درشن کرنا چاہتے تھے، جس کی وجہ سے دھکا مکی شروع ہوئی، جو بعد میں بھگدڑ میں تبدیل ہو گئی۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ انتظامیہ اس وقت واقعے کی مکمل تحقیقات میں مصروف ہے تاکہ معلوم ہو سکے کہ اصل وجہ کیا تھی۔
اس افسوسناک واقعے پر اُتراکھنڈ کے وزیر اعلیٰ پُشکر سنگھ دھامی نے گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم “ایکس” پر ایک پوسٹ میں کہا:”ہرِی دوار واقع مانسا دیوی مندر راستے میں بھگدڑ مچنے کی خبر انتہائی افسوسناک ہے۔ مقامی پولیس اور دیگر امدادی ٹیمیں موقع پر پہنچ کر ریسکیو اور ریلیف کے کاموں میں مصروف ہیں۔ میں مقامی انتظامیہ سے مسلسل رابطے میں ہوں اور حالات پر نظر رکھے ہوئے ہوں۔ ماں رانی سے تمام عقیدت مندوں کی خیریت کے لیے پراتھنا کرتا ہوں۔”
بھارت ایکسپریس اردو
وزیر اعظم نریندر مودی کے 25 سالہ عوامی خدمت کے سفر کے موقع پر 17…
یورپی کمیشن کی صدر نے سعودی عرب کے خلاف حوثی حملے کی مذمت کرتے ہوئے…
سیریز کا آخری مقابلہ 17 ستمبر کو اسی میدان پر کھیلا جائے گا۔ ٹاس ہار…
وزارت خارجہ نے کہا، وزیر اعظم نریندر مودی نے شی جن پنگ سے ملاقات میں…
یو پی آئی، ڈیٹا پروٹیکشن قانون اور سیمی کنڈکٹر مشن کے ذریعے بھارت ڈیجیٹل خودمختاری…
نئے کسٹمز معاہدے سے کلیئرنس میں تاخیر کم ہونے کی امید، اے ای او پروگرام…