سیاست

Axiom-4 Space Mission: آج ہندوستان کے لیے تاریخی دن ، کیپٹن شوبھانشو شکلا کی اسپیس میں پرواز، AXIOM-4 مشن پرروانہ

ہندوستان کے گروپ کیپٹن شوبھانشو شکلا کی تاریخی خلائی پرواز کو کامیابی کے ساتھ اڑان بھری۔Axiom-4 (Ax-4) مشن کے تحت ایک انسانی خلائی جہاز کو بدھ کو ہندوستانی وقت کے مطابق دوپہر 12:00 بجے (2:31 am EST) فلوریڈا، USA میں ناسا کے کینیڈی اسپیس سینٹر کے لانچ کمپلیکس 39A سے روانہ کرنے کا منصوبہ ہے۔ اس مشن میں SpaceX کا Falcon-9 راکٹ استعمال کیا ، جو ایک نئے ڈریگن خلائی جہاز کے ذریعے چار خلابازوں کو بین الاقوامی خلائی اسٹیشن (ISS) اڑان بھری۔

ان تمام خلا بازوں نے لانچ سے قبل فلوریڈا میں قرنطینہ میں رہ کر تیاری کی ۔ مشن کے تحت، خلائی جہاز جمعرات کو IST شام 4:00 بجے (7:00 am EDT) کے قریب ISS کے ساتھ ڈاک کرنے کا منصوبہ۔

ہندوستان، پولینڈ اور ہنگری کے لیے تاریخی لمحہ

Ax-4 مشن بھارت، پولینڈ اور ہنگری کے لیے 40 سال بعد حکومت کے زیر اہتمام پہلی انسانی خلائی پرواز کی نشاندہی کرتا ہے۔ یہ دوسرا موقع ہے جب ان تینوں ممالک نے انسانی خلائی مشن میں حصہ لیا ہے، لیکن یہ پہلا موقع ہے ،جب یہ تینوں ممالک بین الاقوامی خلائی اسٹیشن (ISS) کے مشن میں حصہ لے رہے ہیں۔

راکیش شرما کی میراث اور شوبھانشو شکلا کی پرواز

گروپ کیپٹن شبھانشو شکلا کے لیے یہ مشن ونگ کمانڈر راکیش شرما کی طرف سے شروع کی گئی میراث کا حصہ ہے۔ شرما نے سوویت انٹرکوسموس پروگرام کے تحت سویوز T-11 خلائی جہاز میں 3 اپریل 1984 کو سیلوٹ 7 خلائی اسٹیشن کا سفر کیا۔

راکیش شرما نے خلا میں یوگا اور بے وزن ہونے کے تجربات کیے اور خلا سے ہندوستان کی تصاویر لیں۔ جب اس وقت کی وزیر اعظم اندرا گاندھی نے پوچھا کہ “خلا سے ہندوستان کیسا لگتا ہے؟” تو انہوں نے جواب دیا، “سارے جہاں سے اچھا” – ایک جملہ جو آج ہندوستان کی خلائی کہانی کی علامت بن گیا ہے۔

شوبھانشو شکلا نے کیا کہا؟

شوبھانشو شکلا نے ایک ویڈیو میں کہا، “میں نے بچپن میں ان کے بارے میں کتابوں میں پڑھا اور کہانیاں سنی، میں ان سے بہت متاثر ہوا، مجھے نہیں معلوم تھا کہ میری زندگی مجھے اس سمت لے جائے گی، لیکن آج میں اس مقام پر ہوں، میں خود کو بہت خوش قسمت سمجھتا ہوں کہ مجھے پہلے پائلٹ اور اب خلاباز بننے کا موقع ملا۔”

Axiom-4 مشن میں 60 سائنسی تجربات شامل ہیں، جن میں بھارت، امریکہ، پولینڈ، ہنگری، سعودی عرب، برازیل، نائجیریا، متحدہ عرب امارات اور یورپ کے کئی ممالک سمیت 31 ممالک کی نمائندگی کی گئی ہے۔ یہ اب تک کے تمام Axiom خلائی مشنوں میں سب سے زیادہ سائنسی تحقیق پر مبنی مشن ہے۔ اس کا مقصد زمین کے کم مدار (LEO) میں مائکروگرویٹی حالات میں تحقیق کو آگے بڑھانا ہے۔ اس میں خاص طور پر انسانی جسم پر اثرات، زمین کا مشاہدہ، حیاتیاتی اور مادی سائنس پر تحقیق شامل ہے۔ یہ مشن ہندوستان، پولینڈ (ای ایس اے کے ساتھ شراکت میں)، ہنگری اور امریکہ کی طرف سے سائنسی طور پر ایک اہم کوشش ہے۔

Axiom-4 مشن اسرو اور گروپ کیپٹن شکلا کے لیے صرف ایک ذاتی کامیابی نہیں ہے، بلکہ ہندوستان کے طویل مدتی خلائی وژن کی طرف ایک ٹھوس قدم ہے۔ یہ مشن 2035 تک ہندوستانی خلائی اسٹیشن قائم کرنے اور 2040 تک چاند پر ہندوستانی بھیجنے کے ہدف کی بنیاد رکھے گا۔

بھارت ایکسپریس اردو

Abu Danish Rehman

Recent Posts

Netan Yahu Crisis: اسرائیل میں نیتن یاہو کی کرسی پر خطرہ؟ عرب جماعتیں گادی آئزنکوٹ کی حمایت کے لیے تیار، لیکن رکھی بڑی شرط

اسرائیل میں نئی حکومت کی تشکیل کے سلسلے میں سیاسی سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں۔…

45 minutes ago

Prime Minister Narendra Modi: وزیر اعظم مودی نے مہابھارت کا خاص شلوک کیا شیئر، بتایا زندگی میں کامیابی حاصل کرنے کا منتر

تپسیا کا مطلب: اپنے مقصد کو حاصل کرنے کے لیے مسلسل محنت کرنا، مشکلات کا…

2 hours ago

Delhi-NCR Air Pollution: دہلی-این سی آر میں آلودگی کا قہر، کئی علاقوں میں اے کیو آئی 400 سے تجاوز، جہانگیرپوری میں 499 ریکارڈ

دہلی کا اوسط ایئر کوالٹی انڈیکس 331 درج کیا گیا، بگڑتے حالات کے پیش نظر…

2 hours ago

دہلی-این سی آرمیں کھلے عام فروخت ہورہے ہیں پٹاخے؟ سپریم کورٹ نے حکومت سے پوچھا سخت سوال

جسٹس ایم ایم سندریش نے ایڈیشنل سالیسٹر جنرل (اے ایس جی) ایشوریہ بھاٹی سے اخبار…

2 hours ago