سیاست

Parliament Monsoon Session Day 8 : راجیہ سبھا میں ایس جے شنکر کا اپوزیشن کو دو ٹوک جواب، کہا – 22 اپریل سے 16 جون تک وزیر اعظم مودی اور ٹرمپ کے درمیان کوئی بات چیت نہیں ہوئی تھی

راجیہ سبھا میں بدھ کے روز وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے بھارت کی خارجہ اور دفاعی پالیسی پراپوزیشن کے سوالات کا دوٹوک جواب دیا۔ جے شنکر نے کہا کہ بھارت نے طے شدہ اہداف پر درست کارروائی کی اور “آپریشن سندور” کے معاملے پر دنیا کے کسی بھی رہنما نے بھارت پر کوئی دباؤ نہیں ڈالا۔

اپوزیشن کو دو ٹوک پیغام

دراصل جب وزیر خارجہ پارلیمنٹ میں “آپریشن سندور” کے بارے میں جواب دے رہے تھے، تو اپوزیشن لیڈروں نے شور شرابہ شروع کر دیا۔ اس دوران انہوں نے اپوزیشن رہنماؤں کو ٹوکتے ہوئے کہا:“میں ان سے کہنا چاہتا ہوں کہ وہ کان کھول کر سن لیں۔ 22 اپریل سے 16 جون تک، ایک بار بھی وزیر اعظم مودی اور صدر ٹرمپ کے درمیان فون پر کوئی بات چیت نہیں ہوئی تھی۔”

انہوں نے کہا کہ امریکہ، سعودی عرب اور دیگر ممالک کے ساتھ جو بھی رابطے ہوئے، وہ مکمل طور پر شفاف تھے اور ریکارڈ میں موجود ہیں۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر شیئر کی گئی معلومات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بھارت نے واضح کیا تھا کہ اگر پاکستان جنگ بندی چاہتا ہے تو اسے ہمارے ڈی جی ایم او چینل کے ذریعے بات کرنی ہوگی۔

چین و پاکستان پر جے شنکر کا بیان

چین اور پاکستان کے حوالے سے اپوزیشن پر تنقید کرتے ہوئے جے شنکر نے کہا کہ بھارت کی سفارتی کامیابی اس بات سے ثابت ہوتی ہے کہ اگرچہ بھارت اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل (UNSC) کا مستقل رکن نہیں ہے، لیکن سلامتی کونسل کے سربراہ کا بیان بھارت کے حق میں آیا۔ روس سمیت کئی ممالک نے بھارت کی حمایت کی۔

انہوں نے اپوزیشن پر طنز کرتے ہوئے کہا:“جو لوگ ممبئی حملوں پر خاموش تھے، آج ہمیں بتا رہے ہیں۔“
آگے کہا کہ بھارتی فوج کو کسی کی مدد کی ضرورت نہیں ہے، اور اس نے خود ہی دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر کامیاب کارروائیاں کی ہیں۔ انہوں نے نور خان ایئربیس سمیت کئی دہشت گرد اور فوجی ٹھکانوں پر کی گئی تباہی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ فوج کا کریڈٹ کسی اور کو دینا، فوج کی توہین ہے۔

‘نیو نارمل’ اور ‘کانگریس نارمل’ کا موازنہ

‘نیو نارمل’ اور ‘کانگریس نارمل’ کا موازنہ کرتے ہوئے جے شنکر نے پانچ نکات پر مبنی بھارت کی نئی حکمت عملی راجیہ سبھا میں پیش کی۔ چین-پاکستان تعلقات پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کانگریس پر طنز کیا اور کہا کہ کچھ رہنما ‘اولمپکس کی کلاس روم’ میں جا کر چین کا علم حاصل کر آئے ہیں اور چینی سفیر سے ‘ٹیوشن’ لیتے ہیں۔

انہوں نے الزام لگایا کہ 2006 میں کانگریس حکومت نے ہو جنتاؤ کے دورہ کے دوران چینی کمپنیوں کو 3G اور 4G جیسے شعبوں میں مدعو کر کے ملک کی سلامتی سے سمجھوتہ کیا۔

بھارت ایکسپریس اردو

Abu Danish Rehman

Recent Posts

UP New Congress President: ارادھنا مشرا بنیں یوپی کانگریس کی نئی صدر، عمران مسعود کار گزار صدر مقرر

ارادھنا مشرا پرتاپ گڑھ کی رام پور خاص اسمبلی نشست سے کانگریس کی رکن اسمبلی…

24 minutes ago

Asian Games 2026: ایشین گیمز 2026 کی اختتامی تقریب میں نیرو ڈھانڈا ہوں گی ہندوستان کی پرچم بردار، ٹریپ شوٹر نے 2 گولڈ سمیت جیتے ہیں 3 تمغے

نیرو ڈھانڈا کی کارکردگی کے اعتراف میں انہیں اختتامی تقریب میں ہندوستانی دستے کی قیادت…

34 minutes ago