الہ آباد ہائی کورٹ نے جمعہ کے روز کانگریس رہنما اور لوک سبھا میں قائدِ حزب اختلاف راہل گاندھی کی طرف سے دائر کردہ نظرثانی کی عرضی کو خارج کر دیا۔ یہ عرضی وارانسی کے اسپیشل جج (ایم پی-ایم ایل اے) کے اس فیصلے کے خلاف تھی، جس میں راہل گاندھی کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کی درخواست پر دوبارہ سماعت کے لیے معاملہ اے سی جے ایم (ایڈیشنل چیف جوڈیشل مجسٹریٹ) کو بھیجنے کا حکم دیا گیا تھا۔
پس منظر:
یہ معاملہ ستمبر 2024 کا ہے، جب راہل گاندھی نے امریکہ میں ایک تقریب کے دوران مبینہ طور پر کہا تھا کہ “بھارت میں سکھوں کے لیے ماحول سازگار نہیں ہے”۔ اس بیان کو اشتعال انگیز اور تقسیم کرنے والا قرار دیا گیا، اور ملک بھر میں احتجاج شروع ہو گئے۔
مقدمے کی تفصیل
وارانسی کے رہائشی ناگیشور مشرا نے اس بیان کے خلاف سارناتھ تھانے میں ایف آئی آر درج کرانے کی کوشش کی، لیکن پولیس نے انکار کر دیا۔ اس کے بعد انہوں نے عدالت میں عرضی دائر کی، جو 28 نومبر 2024 کو مسترد کر دی گئی۔ عدالت نے کہا کہ چونکہ تقریر امریکہ میں دی گئی تھی، اس لیے یہ معاملہ اس کی عملداری (جورسڈکشن) سے باہر ہے۔
ناگیشور مشرا نے اس فیصلے کو چیلنج کرتے ہوئے سیشنز کورٹ میں نظرثانی کی عرضی دائر کی، جو 21 جولائی 2025 کو منظور کر لی گئی، اور عدالت نے اے سی جے ایم کو مقدمہ دوبارہ سننے کا حکم دیا۔
راہل گاندھی کی جانب سے دلیل
راہل گاندھی نے الہ آباد ہائی کورٹ میں عرضی دائر کرتے ہوئے کہا کہ سیشنز کورٹ کا فیصلہ “غلط، غیر قانونی اور دائرہ اختیار سے باہر” ہے۔ ان کے وکیل، سینئر ایڈووکیٹ گوپال چترویدی نے کہا:عرضی میں اس بیان کی تاریخ کا ذکر نہیں ہے۔
جب تک پورا بیان واضح نہ ہو، اس کا سیاق و سباق نہیں سمجھا جا سکتا۔
نچلی عدالتوں نے یہ بھی نہیں دیکھا کہ آیا یہ معاملہ بادی النظر (prima facie) جرم بنتا ہے یا نہیں۔
ریاست کی جانب سے دلیل
ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل منیش گوئل نے کہا: یہ معاملہ اپوزیشن لیڈر کے ذریعے غیر ملکی سرزمین پر دیے گئے بیان کا ہے، جو بھارت کے خلاف ہے، اور یہ تفتیش کا معاملہ ہے۔
یہ تسلیم کیا گیا ہے کہ راہل گاندھی نے یہ بیان دیا۔
چونکہ ابھی تک کوئی ایف آئی آر درج نہیں ہوئی، اس لیے مجسٹریٹ ہی فیصلہ کریں گے کہ مقدمہ درج کیا جائے یا نہیں۔
ہائی کورٹ کا فیصلہ
جسٹس سمیر جین نے 3 ستمبر کو سماعت کے بعد فیصلہ محفوظ رکھا تھا، اور عبوری حکم میں اسپیشل جج کے فیصلے پر روک لگا دی تھی۔
لیکن اب ہائی کورٹ نے راہل گاندھی کی نظرثانی کی عرضی کو مسترد کرتے ہوئے اسپیشل جج کے فیصلے کو بحال رکھا ہے، یعنی اے سی جے ایم عدالت میں اس کیس کی دوبارہ سماعت ہوگی۔
بھارت ایکسپریس اردو
یمنا ایکسپریس وے پر سلیپر بس میں آگ لگنے سے 9 مسافروں کی موت، متعدد…
ووشو میں روشیبینا دیوی نے سلور جبکہ روئنگ کے مینز ڈبل اسکلز مقابلے میں ستنم…
’اڈانی آروگیہ مندر‘ میں جدید میڈیکل کالج، جدید تحقیق اور طبی نگہداشت کی سہولیات ہوں…
پی ایچ ڈی سی سی آئی کے سیمینار میں لیبر کوڈز کے عملی نفاذ، اجرت،…
اپوزیشن کی جانب سے گرفتاری کا مطالبہ، 2023 کے قانون کی دفعہ 16 میں انتخابی…
’ڈِس بیٹل‘ کے دوران ریتی تیواری اور قاضی توقیر کے درمیان شدید جھڑپ، ریتی کی…