سیاست

Dispute Over Rahul Gandhi Poster: یوپی میں کانگریس دفتر کے باہر راہل گاندھی کے رام کے پوسٹر نے سیاسی گلیاروں میں مچا دی ہلچل

لکھنؤ — اتر پردیش کی راجدھانی لکھنؤ میں دسہرے کے موقع پر کانگریس دفتر کے باہر لگے ایک انوکھے اور متنازع پوسٹر نے سیاسی گلیاروں میں ہلچل مچا دی ہے۔ یہ پوسٹر کانگریس کارکن آریان مشرا کی جانب سے لگایا گیا، جس میں پارٹی کے سینئر رہنما راہل گاندھی کو “بھگوان رام” کے طور پر دکھایا گیا ہے۔

پوسٹر میں راہل گاندھی کو ہاتھ میں تیر کمان لیے ہوئے راون پر نشانہ سادھتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ خاص بات یہ ہے کہ راون کے دس سروں پر موجودہ سیاسی و سماجی مسائل درج کیے گئے ہیں، جن میں “مہنگائی، جنگل راج، بدعنوانی، ای ڈی، ووٹ چوری، الیکشن کمیشن، سی بی آئی، بے روزگاری، پیپر لیک، اور تاناشاہی” جیسے الفاظ شامل ہیں۔

کانگریس دفتر کے باہر پوسٹر بن گیا تنازع کا سبب

پوسٹر میں کانگریس کے ریاستی صدر اجے رائے کو “لکشمن” کے روپ میں دکھایا گیا ہے، جو راہل گاندھی کے ساتھ کھڑے نظر آتے ہیں۔ پارٹی کارکنوں کا کہنا ہے کہ یہ پوسٹر علامتی طور پر بی جے پی حکومت کی پالیسیوں کے خلاف عوامی غصے کی عکاسی کرتا ہے۔ جس طرح بھگوان رام نے راون کا ودھ کرکے “دھرم کی جیت” یقینی بنائی تھی، ویسے ہی کانگریس عوامی مسائل کو ختم کرکے تبدیلی لے کر آئے گی۔

راہل گاندھی کو بتایا گیا  “آج کا رام”

پوسٹر لگانے والے آریان مشرا نے کہا کہ “راہل گاندھی ہی آج کے اصلی رام ہیں”، جو مہنگائی، بے روزگاری اور سیاسی تاناشاہی جیسے راون سے لڑ رہے ہیں۔ ان کے مطابق کانگریس ہی واحد طاقت ہے، جو موجودہ “سیاسی  تاناشاہی” کو ختم کر سکتی ہے۔

مذہبی علامتوں کا سیاسی استعمال، اپوزیشن میں گونج

دسہرے جیسے مذہبی تہوار پر ایسے سیاسی پوسٹر لگانے کو لے کر مخالف جماعتوں کی جانب سے شدید ردعمل آنے کے امکانات ہیں۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ کانگریس حامیوں کا کہنا ہے کہ اس قسم کے علامتی پوسٹر عوام تک سیدھا پیغام پہنچاتے ہیں اور پارٹی کے نظریے کو مضبوطی سے پیش کرتے ہیں۔

لکھنؤ میں لگا یہ پوسٹر جہاں مذہب اور سیاست کے امتزاج کی ایک مثال بنا، وہیں کانگریس کی جارحانہ حکمت عملی اور راہل گاندھی کے سیاسی نظریے کو بھی عوام کے سامنے واضح کرتا دکھائی دیا ہے۔

سیاسی منظرنامے پر اثر

چونکہ انتخابات قریب ہیں، اس طرح کی سیاسی منظر نہ صرف پارٹی کی موجودگی کو نمایاں کرتی ہیں، بلکہ بی جے پی کے خلاف کھل کر محاذ آرائی کا بھی اشارہ دیتی ہیں۔ کانگریس کے اس جارحانہ انداز نے ایک بار پھر راہل گاندھی کو مرکزِ بحث میں لا کھڑا کیا ہے — اس بار بطور “سیاسی رام”۔

بھارت ایکسپریس اردو

Abu Danish Rehman

Recent Posts

JMI Student Union Elections Will Held In 2027: جامعہ ملیہ اسلامیہ میں 2027 میں ہوں گے طلبہ یونین کے انتخابات، یونیورسٹی کا بڑا فیصلہ

طلبہ کی تحریک کے درمیان انتظامیہ نے جاری کیا حکم، 15 مئی 2027 تک طلبہ…

15 minutes ago

Indian Shooter Asian Games Gold Medal: راہی سرنوبت: این سی سی سے آغاز، عالمی سطح پر کی تاریخ رقم، ہندوستان کی بنیں گولڈن گرل

36ویں سالگرہ پر ہندوستان کی اسٹار نشانے باز کی متاثر کن کہانی، کامن ویلتھ گیمز،…

38 minutes ago

Cuba US Sanctions: کیوبا کے حق میں بھارت کا اہم موقف، امریکی پابندیاں ختم کرنے کی قرارداد کی حمایت میں 130 ممالک نےدیا  ووٹ

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں امریکہ کی اقتصادی اور تجارتی پابندیاں ختم کرنے کی…

1 hour ago

Diljit Dosanjh Concert: دلجیت دوسانجھ کے کنسرٹ کے لیے دہلی میٹرو کی خصوصی تیاری، 30 اکتوبر کو رات 12 بجے تک چلیں گی ٹرینیں

جواہر لعل نہرو اسٹیڈیم میں ’اورا انڈیا ٹور 2026‘ کے دوران 70 ہزار سے زائد…

2 hours ago

Saharanpur Lighting: سہارنپور میں آسمانی بجلی گرنے سے مسجد کے مینار کا گنبد تباہ، جل گئے کئی الیکٹرانک آلات

اتر پردیش کے گنگوہ علاقے کے گاؤں گجران میں واقع مسجد پر آسمانی بجلی گرنے…

3 hours ago