سیاست

Donald Trump pleased with PM Modi’s support for Gaza plan: غزہ کی حمایت سے ڈونلڈ ٹرمپ ہوئے پی ایم مودی کے مرید، دیکھ رہی ہے دنیا اس منصوبے کو ایک گیم چینجر کے طور پر

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ غزہ میں امن بحالی کے لیے اپنی مجوزہ منصوبے پر عالمی حمایت ملنے سے پرجوش نظر آ رہے ہیں۔ وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری ایک بیان میں اس منصوبے کو جنگ سے تباہ حال غزہ  میں پائیدار امن کے لیے ٹرمپ کی “دوراندیش حکمت عملی” قرار دیا گیا ہے۔ بیان میں خاص طور پر پی ایم  نریندر مودی کی حمایت کو   اہم قرار دیا ہے، جسے اس منصوبے کی عالمی مقبولیت میں اہم سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے۔ وائٹ ہاؤس کا دعویٰ ہے کہ دنیا اس منصوبے کو ایک “گیم چینجر” کے طور پر دیکھ رہی ہے۔

وائٹ ہاؤس کا باضابطہ بیان

بدھ کے روز جاری کردہ بیان میں وائٹ ہاؤس نے کہا کہ صدر ٹرمپ کی جانب سے پیش کردہ منصوبہ کئی برسوں سے جاری تباہ کن جنگ کے بعد ایک ممکنہ فیصلہ کن موڑ فراہم کرتا ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ مختلف ممالک، بشمول مشرق وسطیٰ اور مغرب کے اہم ممالک، اس اقدام کو عالمی امن کے لیے ایک غیر معمولی پیش رفت قرار دے رہے ہیں۔

منصوبے میں فوری جنگ بندی، تمام یرغمالیوں کی محفوظ رہائی اور مسلسل انسانی امداد کی فراہمی کو مرکزی نکات کے طور پر شامل کیا گیا ہے، جب کہ اس کا حتمی مقصد غزہ کو خوشحالی اور پائیدار امن کا مظہر بنانا ہے۔

پی ایم  مودی اور عالمی رہنماؤں کی حمایت

امریکی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ پی ایم نریندر مودی نے سوشل میڈیا کے ذریعے اس منصوبے کا خیرمقدم کیا اور اسے فلسطینیوں اور اسرائیلیوں کے لیے ایک “عملی راستہ” قرار دیا جو امن، سلامتی اور ترقی کی ضمانت دیتا ہے۔  پی ایم مودی نے امید ظاہر کی کہ تمام متعلقہ فریقین اس پہل میں تعمیری کردار ادا کریں گے۔

وائٹ ہاؤس نے پی ایم  مودی کے بیان کا لنک بھی اپنے سرکاری اعلامیے میں شامل کیا، جب کہ سعودی عرب، اردن، متحدہ عرب امارات، انڈونیشیا، پاکستان، ترکی، قطر اور مصر کے وزرائے خارجہ کی جانب سے جاری کردہ مشترکہ بیان کو بھی اس حمایت کا حصہ قرار دیا گیا ہے۔

منصوبے کے اہم نکات اور عالمی اثرات

غزہ منصوبے کا بنیادی ہدف فوری جنگ بندی، تمام مغوی افراد کی بحفاظت رہائی اور انسانی امداد کی فراہمی کو یقینی بنانا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ، غزہ کی تعمیر نو اور دیرپا خوشحالی کو بھی مرکزی حیثیت دی گئی ہے۔

ٹرمپ انتظامیہ کا ماننا ہے کہ یہ منصوبہ نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ عالمی سطح پر امن، سلامتی اور استحکام کا باعث بنے گا۔

بین الاقوامی سطح پر اس منصوبے کوغزہ  تنازع کے ایک ممکنہ حل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، اور توقع کی جا رہی ہے کہ تمام فریقین اس “گیم چینجر” اقدام کی حمایت میں سامنے آئیں گے۔

بھارت ایکسپریس اردو

Abu Danish Rehman

Recent Posts

Cuba US Sanctions: کیوبا کے حق میں بھارت کا اہم موقف، امریکی پابندیاں ختم کرنے کی قرارداد کی حمایت میں 130 ممالک نےدیا  ووٹ

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں امریکہ کی اقتصادی اور تجارتی پابندیاں ختم کرنے کی…

34 minutes ago

Diljit Dosanjh Concert: دلجیت دوسانجھ کے کنسرٹ کے لیے دہلی میٹرو کی خصوصی تیاری، 30 اکتوبر کو رات 12 بجے تک چلیں گی ٹرینیں

جواہر لعل نہرو اسٹیڈیم میں ’اورا انڈیا ٹور 2026‘ کے دوران 70 ہزار سے زائد…

1 hour ago

Saharanpur Lighting: سہارنپور میں آسمانی بجلی گرنے سے مسجد کے مینار کا گنبد تباہ، جل گئے کئی الیکٹرانک آلات

اتر پردیش کے گنگوہ علاقے کے گاؤں گجران میں واقع مسجد پر آسمانی بجلی گرنے…

3 hours ago

Chandrashekhar Azad Attacks on Yogi Government: بہوجن سماج کے بچوں کو افسر نہیں، نشے کا عادی بنانا چاہتی ہے حکومت: چندر شیکھر آزاد

20 ہزار اسکول بند کیے گئے، جبکہ 20 ہزار سے زیادہ شراب کی دکانیں کھولی…

4 hours ago

PM Awas Yojna: جام نگر کے مستحقین نے کہا- پکے مکان کا خواب وزیر اعظم مودی نے کیا پورا

گجرات کے جام نگر میں اس اسکیم سے فائدہ اٹھانے والے افراد بتا رہے ہیں…

5 hours ago