سیاست

PM Modi Meets Maldives’ Former President Mohamed Nasheed: وزیر اعظم مودی نے نشید کے بھارت-مالدیپ تعلقات کو مضبوط بنانے کے لیے ان کے دیرینہ کردار کو سراہا

وزیراعظم مودی نے اس شراکت داری کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ مالدیپ بھارت کی “پڑوسی اول” (Neighbourhood First) پالیسی اور وسیع تر “مہا ساگر” وژن کا ایک اہم ستون ہے۔ایکس پر ایک پوسٹ میں وزیراعظم مودی نے کہا:”مالدیپ کے سابق صدر جناب محمد نشید سے ملاقات کی۔ وہ ہمیشہ بھارت-مالدیپ دوستی کے مضبوط حامی رہے ہیں۔ ہم نے بات کی کہ کس طرح مالدیپ ہماری ‘Neighbourhood First’ پالیسی اور مہا ساگر وژن کا ایک قیمتی ستون رہے گا۔ بھارت استعداد کار بڑھانے اور ترقیاتی تعاون کے ذریعے مالدیپ کی حمایت جاری رکھے گا۔”

پارلیمانی روابط کو مضبوط کرنا

اسی روز وزیر اعظم مودی نے مالدیپ کی پارلیمنٹ، پیپلز مجلس کے اسپیکرعبدالرعیم عبداللہ سے بھی ملاقات کی۔اس ملاقات میں دونوں ممالک کے دیرینہ دوستانہ تعلقات اور بڑھتے ہوئے پارلیمانی تعاون پر بات چیت ہوئی۔وزیر اعظم مودی نے 20ویں مجلس میں بھارت-مالدیپ پارلیمانی دوستی گروپ کے قیام کو دوطرفہ تعلقات کے لیے ایک خوش آئند قدم قرار دیا۔

ایکس پر انہوں نے لکھا:”جناب عبدالرعیم عبداللہ، اسپیکر پیپلز مجلس سے ملاقات کی۔ بھارت-مالدیپ کی گہری دوستی پر بات ہوئی، خاص طور پر دونوں ممالک کی پارلیمنٹس کے درمیان قریبی تعلقات پر 20ویں مجلس میں بھارت-مالدیپ پارلیمانی دوستی گروپ کا قیام دو طرفہ تعلقات کے لیے خوش آئند قدم ہے۔ بھارت مالدیپ میں استعداد کار بڑھانے کی حمایت جاری رکھے گا۔”

مالدیپ کے نائب صدر سے ملاقات

وزیراعظم مودی نے مالدیپ کے نائب صدر محمد لطیف سے بھی ملاقات کی، جہاں دونوں رہنماؤں نے بھارت-مالدیپ شراکت داری کے کلیدی ستونوں پر تبادلہ خیال کیا۔ملاقات میں بنیادی ڈھانچے، ٹیکنالوجی، موسمیاتی تبدیلی اور توانائی جیسے شعبوں میں تعاون پر بات ہوئی، جو دونوں ممالک کے عوام کے لیے بے حد فائدہ مند ہے۔قابل ذکر بات یہ ہے کہ  وزیر اعظم مودی نے ایکس پر لکھا:”نائب صدر عزت مآب محمد لطیف سے بہت اچھی ملاقات ہوئی۔ ہماری بات چیت بھارت-مالدیپ دوستی کے اہم ستونوں پر مرکوز رہی۔ دونوں ممالک بنیادی ڈھانچے، ٹیکنالوجی، موسمیاتی تبدیلی، توانائی اور دیگر شعبوں میں قریبی تعاون جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ہم آنے والے برسوں میں اس شراکت داری کو مزید گہرا کرنے کے منتظر ہیں۔”

سفارتی تعلقات کے 60 سال

وزیراعظم مودی کا موجودہ دورہ مالدیپ میں ان کا تیسرا سرکاری دورہ ہے اور صدر محمد معیظو کے نومبر 2023 میں عہدہ سنبھالنے کے بعد کسی بھی بھارتی سربراہِ حکومت کا پہلا دورہ ہے۔جمعہ کے روز پہنچنے والے وزیر اعظم مودی کا یہ دو روزہ سرکاری دورہ ان کے برطانیہ کے سرکاری دورے کے بعد ہوا۔اس موقع پر مختلف شعبوں میں کئی معاہدوں پردستخط ہوئے، جن سے دونوں ممالک کی مضبوط شراکت داری مزید مستحکم ہوئی، جیسا کہ بھارت کی وزارتِ خارجہ نے تصدیق کی۔

ایک علامتی اقدام کے طور پر، وزیراعظم مودی اورمالدیپ کے صدر ڈاکٹر محمد معزو نے بھارت اورمالدیپ کے درمیان سفارتی تعلقات کے 60 سال مکمل ہونے کی یاد میں خصوصی ڈاک ٹکٹ جاری کیے۔یہ اقدامات مالدیپ کی سماجی و اقتصادی ترقی اور پائیدار ترقی کے لیے بھارت کے عزم کو اجاگر کرتے ہیں۔

بھارت ایکسپریس اردو

Abu Danish Rehman

Recent Posts

Rahul Gandhi Attacks on Gyanesh Kumar: ’گیانیش کمار رات کو سو نہیں پا رہے ہوں گے‘، مہاریلی میں راہل گاندھی کا چیف الیکشن کمشنر پر حملہ

راہل گاندھی نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کو براہِ راست نشانہ بنایا۔ انہوں نے…

3 hours ago

Amit Shah slams Congress: سکھ مخالف فسادات کی برسی پر ریلی نکالنا متاثرین کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف: امت شاہ

مرکزی وزیر داخلہ نے کانگریس اور راہل گاندھی کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ بی…

3 hours ago

INDIA Bloc Rally:  ‘‘جو کافر ہیں، وہ ہر روز ڈرتے ہیں…‘‘، رام لیلا میدان سے ممتا بنرجی کا خطاب

ممتا بنرجی نے کہا کہ مغربی بنگال ایس آئی آر سے متاثر ہونے والی ریاست…

4 hours ago