حالیہ برسوں میں آن لائن پیڈ گیمنگ (ادائیگی کے بدلے کھیلی جانے والی گیمز) ایک خاموش مگر سنگین سماجی اور معاشی مسئلہ بن چکی ہے۔ چمکدار ایپس اور اشتہارات کے پیچھے ایک پریشان کن حقیقت چھپی ہوئی ہے — لاکھوں بھارتی نوجوان گیمنگ کے نشے میں گرفتار ہو چکے ہیں، خاندان شدید مالی دباؤ کا شکار ہو رہے ہیں، اور ملک کا ڈیجیٹل نظام دھوکہ دہی اور شدت پسند عناصر کے ہاتھوں استعمال ہو رہا ہے۔
مالی سال 2025-2026 کے صرف ابتدائی چار ماہ میں، آن لائن گیمز کے لیے یو پی آئی (UPI) کے ذریعے ہونے والی ماہانہ ادائیگیاں اوسطاً 10,000 کروڑ روپے تک پہنچ گئیں۔ اپریل سے جولائی کے درمیان، آن لائن گیمنگ پر مجموعی طور پر 40,992 کروڑ روپے خرچ کیے گئے — جو کہ تمام پرسن-ٹو-مرچنٹ یو پی آئی لین دین کا تقریباً 1.5 فیصد ہے۔
مجموعی طور پر بھارت کی آن لائن گیمنگ مارکیٹ اس وقت 33,000 کروڑ روپے کی ہے، اور 2028 تک اس کے دوگنا یعنی 66,000 کروڑ روپے تک پہنچنے کا امکان ہے (PwC رپورٹ، 2024)۔ یہ صرف تفریح کا معاملہ نہیں رہا۔
نیشنل انویسٹیگیشن ایجنسی (NIA) نے آن لائن گیمنگ پلیٹ فارمز کو منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت کے لیے استعمال ہونے پر تشویش ظاہر کی ہے۔ 2023 میں پارلیمانی مالیاتی کمیٹی نے خبردار کیا کہ بغیر ضابطے کے چلنے والے گیمنگ پلیٹ فارمز انتہاپسندی کے پھیلاؤ کے ذرائع بن رہے ہیں۔ کئی پلیٹ فارمز بیرونِ ملک سے چلائے جا رہے ہیں، جو بھارتی قوانین سے بچ نکلتے ہیں، ٹیکس سے بچتے ہیں، اور یوزرکو دھوکہ دہی کا شکار بناتے ہیں۔
ایسے نازک حالات میں، وزیرِ اعظم نریندر مودی کی قیادت میں حکومت نے 20 اگست 2025 کو پارلیمنٹ میں ’’ترقی و ضابطہ برائے آن لائن گیمنگ بل، 2025‘‘ پیش کیا ہے — جو کہ آن لائن گیمنگ کے نظام کو ضابطے میں لانے، نگرانی کرنے اور اس میں اصلاحات لانے کے لیے ایک تاریخی قانون ہے۔
مودی حکومت نے ایک بار پھر دور اندیشی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایسے مسئلے پر بروقت اقدام اٹھایا ہے جو صرف معیشت ہی نہیں بلکہ ملک کی سماجی بنیادوں اور قومی سلامتی کو بھی متاثر کر رہا تھا۔ اب یہ ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ اس اصلاحاتی عمل میں حکومت کا ساتھ دیں، تاکہ بھارت کے نوجوانوں اور خاندانوں کو اس خطرناک لت اور اس کے مضر اثرات سے محفوظ رکھا جا سکے۔
بھارت ایکسپریس اردو