سیاست

Parliament passes online gaming bill: Key provisions, aims of legislation – what Centre said: پارلیمنٹ نے آن لائن گیمنگ بل منظور کر لیا، اہم نکات، قانون سازی کے مقاصد – مرکز نے کیا کہا

راجیہ سبھا نے جمعرات کے روز اپوزیشن کے احتجاج اور نعرہ بازی کے درمیان ’’پروموشن اینڈ ریگولیشن آف آن لائن گیمنگ بل‘‘ کو منظوری دے دی۔ یہ بل، جو پہلے ہی لوک سبھا سے منظور ہو چکا تھا، مرکزی وزیر اشونی ویشنو نے بحث اور منظوری کے لیے پیش کیا۔ویشنو نے اس بل کو ایک اہم قدم قرار دیا جو کہ تیزی سے بڑھتے ہوئے شعبے کو منظم کرنے، جدت کو فروغ دینے، اور پیسے پر مبنی گیمز سے جڑے خطرات سے نمٹنے کے لیے ضروری ہے۔

بل کے مقاصد:

یہ بل آن لائن گیمنگ کے شعبے کو فروغ دینے اور اس کو ریگولیٹ کرنے، ایک ریگولیٹری فریم ورک تیار کرنے، اور نوجوانوں و حساس طبقوں کو ان کھیلوں کے سماجی، معاشی، نفسیاتی، اور پرائیویسی سے جڑے منفی اثرات سے بچانے کے لیے بنایا گیا ہے۔

بل کیا کور کرتا ہے؟

یہ قانون پورے بھارت میں لاگو ہوگا اور ان آن لائن منی گیمنگ سروسز پر بھی لاگو ہوگا جو بھارت کے باہر سے چلائی جا رہی ہوں مگر یہاں دستیاب ہوں۔ یہ بل آن لائن گیمنگ کو تین زمروں میں تقسیم کرتا ہے:

ای-اسپورٹس

آن لائن سوشیل گیمنگ

آن لائن منی گیمنگ

ویشنو نے ان پہلوؤں کو اجاگر کرتے ہوئے کہا:”آن لائن گیمنگ ایک اہم موضوع بن چکا ہے، جو ڈیجیٹل دنیا میں ایک بڑا شعبہ بن کر ابھرا ہے۔ اس کے تین حصے ہیں: پہلا حصہ ای-اسپورٹس ہے، جہاں ٹیم بنا کر کھیلا جاتا ہے، کوآرڈینیشن اور اسٹریٹیجک سوچ سیکھی جاتی ہے۔”

انہوں نے مزید کہا:”ہمارے کھلاڑیوں نے اسپورٹس میں کئی تمغے بھی جیتے ہیں۔ اس بل میں ای-اسپورٹس کو فروغ دیا جائے گا، اس کے لیے ایک اتھارٹی بنے گی، اور اسے قانونی حیثیت دی جائے گی۔ دوسرا حصہ آن لائن سوشیل گیمز ہے جیسے سولٹیئر، شطرنج، سوڈوکو وغیرہ۔ ان گیمز کو بھی فروغ دیا جائے گا اور ان کے لیے بھی ایک اتھارٹی بنے گی۔”

وزیر نے خبردار کیا کہ ‘آن لائن منی گیم’ ایک عوامی صحت کا خطرہ بن چکا ہے۔

منی گیمنگ ایک ‘بڑا مسئلہ’ ہے: ویشنو

ویشنو نے کہا کہ آن لائن گیمز معاشرے میں خاص طور پر مڈل کلاس نوجوانوں کے لیے ایک بہت بڑا مسئلہ بن چکے ہیں:”یہ لت بن جاتی ہے اور گھروالوں کی جمع پونجی ضائع ہو جاتی ہے۔ اندازہ ہے کہ 45 کروڑ لوگ اس سے متاثر ہیں اور 20 ہزار کروڑ روپے سے زیادہ اس میں برباد ہو چکے ہیں۔ عالمی ادارۂ صحت (WHO) نے اسے گیمنگ ڈس آرڈر قرار دیا ہے۔”

انہوں نے مزید کہا:”آن لائن منی گیمنگ عوامی صحت کا خطرہ بن چکا ہے۔ اس سے نفسیاتی مسائل، مجبوری کی عادات، پرتشدد رویے جیسی بیماریاں جنم لے رہی ہیں۔ کئی خاندان برباد ہو چکے ہیں۔ اس کا ایک اور خطرناک پہلو منی لانڈرنگ ہے، اور اس کے اثرات دہشت گردی کی سرگرمیوں میں بھی دیکھے گئے ہیں۔ اس کو روکنے کی کئی کوششیں ہوئیں لیکن یہ مسئلہ بڑھتا گیا۔”

بل کیا روکتا ہے؟

یہ بل آن لائن منی گیمز اور ان سے جڑی سروسز کی پیشکش یا تشہیر، اور ان پلیٹ فارمز سے متعلق مالی لین دین کو منع کرتا ہے۔

آن لائن سوشیل گیم کیا ہے؟

“آن لائن سوشیل گیم” سے مراد ایک ایسا ڈیجیٹل کھیل ہے جو صرف تفریح یا مہارت میں بہتری کے لیے کھیلا جائے اور جس میں کوئی داؤ، شرط یا مالی فائدہ شامل نہ ہو۔ ان گیمز کے لیے سبسکرپشن یا ایکسیس فیس ہو سکتی ہے، لیکن یہ صرف تفریح کے لیے ہوتے ہیں اور انہیں نہ تو آن لائن منی گیمز سمجھا جاتا ہے اور نہ ہی ای-اسپورٹس۔

بھارت ایکسپریس اردو

Abu Danish Rehman

Recent Posts

Iran shoots down US military drone: ایران کا بڑا دعویٰ، 24 گھنٹے میں آبنائے ہرمز میں 3 امریکی ڈرون مار گرائے

ایرانی نیوز چینل پریس ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق، امریکی ڈرون کو ایران کے…

1 hour ago

Sepehran Airlines Boeing 737: اڑان کے بعد طیارے کا ٹائر ہوا ٹائر ہوا الگ، مسافروں میں خوف و ہراس

شمال مشرقی ایران کے شہر مشہد سے یہ طیارہ کرمان شاہ کے لیے روانہ ہوا…

2 hours ago

Mecca Drone Attack: مکہ کی فضائی حدود میں داخل ہوا حوثی ڈرون، باغیوں نے مکہ پر حملے سے کیا انکار

یمن میں حوثی باغیوں نے سعودی حمایت یافتہ فورسز کے خلاف لڑائی کی ایک ویڈیو…

3 hours ago

Delhi Weather Today: دہلی-این سی آر میں آج بونداباندی کے امکانات، جانئے محکمہ موسمیات کا تازہ اپ ڈیٹ

آئی ایم ڈی کے مطابق منگل (15 ستمبر) کو دہلی کے کچھ علاقوں میں بونداباندی…

3 hours ago