جینتی کے موقع پر وزارت داخلہ نے ایڈوائزری جاری کی، دہلی اور بنگال میں نیم فوجی دستے تعینات
Hanuman Jayanti Shobha Yatra: رام نومی کے موقع پر ملک بھر میں بھڑکنے والے تشدد کے پیش نظر ہنومان جینتی کے موقع پر وزارت داخلہ نے ایک ایڈوائزری جاری کی ہے۔وزارت داخلہ نے کہا کہ ملک میں جہاں بھی دفعہ 144 نافذ ہے، ان علاقوں میں جلوس نکالنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔ جمعرات کو ملک کے کئی مقامات پر ہنومان جینتی کے موقع پر جلوس نکالے جائیں گے۔ جس کو لے کر مرکزی حکومت بھی اس پر نظریں جمائے ہوئے ہے۔ ساتھ ہی ریاستی حکومتیں بھی اس بارے میں چوکنا ہیں اور بڑی تعداد میں پولیس فورس کو تعینات کیا گیا ہے۔
بہار کے ساتھ دہلی بھی شامل ہے جہاں گزشتہ سال ہنومان جینتی پر جہانگیر پوری علاقے میں تشدد ہوا تھا۔ بنگال کے ہگلی میں ماضی میں پتھراؤ اور آتش زنی کے واقعات کے پیش نظر، پولیس نے رات کے وقت علاقے کے ماحول کا جائزہ لینے کے لیے فلیگ مارچ کیا۔
دہلی کے جہانگیر پوری میں بھی سیکورٹی سخت کر دی گئی ہے اور پولیس کی ٹیم فلیگ مارچ کر رہی ہے۔ دو ہندو تنظیموں نے گزشتہ روز دہلی پولیس سے جہانگیرپوری سے جلوس نکالنے کی اجازت مانگی تھی لیکن پولیس نے انہیں اجازت دینے سے انکار کر دیا تھا۔ دہلی پولیس کی ٹیم جہانگیر پوری کے تمام حساس مقامات پر گشت کر رہی ہے۔
گزشتہ سال 2022 میں دہلی کے جہانگیر پوری میں ہنومان جینتی کے موقع پر دو گرپووں کے درمیان تشدد کےواقعات ہوئے تھے، جس کے بعد دہلی پولیس کو رام نومی اور ہنومان جینتی پر شوبھا یاترا نکالنے کی اجازت نہیں دی گئی تھی، لیکن بعد میں اجازت مل گئی۔
وزارت داخلہ نے ٹویٹ کیا کہ- “وزارت کی جانب سے ہنومان جینتی پر ایڈوائزری جاری کرتے ہوئے، ریاستی حکومتوں سے امن و امان برقرار رکھنے، تہوار کے پرامن انعقاد اور معاشرے میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو خراب کرنے والوں کی نگرانی کو یقینی بنانے کے لیے کہا گیا ہے۔ ریاست کو ایسے ہر عناصر پر نظر رکھنی چاہیے، جس کی وجہ سے فرقہ وارانہ ہم آہنگی میں خلل پڑنے کا خدشہ ہو۔ دارالحکومت دہلی میں بھی ہنومان جینتی کے موقع پر جہانگیر پوری علاقے میں پولیس فورس کی بھاری تعیناتی کی گئی ہے۔
رام نومی کے موقع پر بنگال میں جلوس کے دوران تشدد بھڑک اٹھا تھا ۔ کئی گاڑیوں کوآگ لگادی گئی اور پتھراؤ کے واقعات بھی رونما ہوئے ۔ اس کے پیش نظر کلکتہ ہائی کورٹ نے ریاست میں نیم فوجی دستوں کو تعینات کرنے کی ہدایات دی ہیں۔ عدالت کے حکم کے بعد مرکزی وزارت داخلہ نے فوری اقدامات کرتے ہوئے ہنومان جینتی کے موقع پر مغربی بنگال میں ریاستی پولیس کے ساتھ ساتھ نیم فوجی دستوں کو بھی تعینات کیا گیا ہے۔
وزیر داخلہ کے ترجمان نے بدھ کی شام ٹویٹ کیا، “مغربی بنگال میں ہنومان جینتی کے موقع پر امن و امان کو برقرار رکھنے میں ریاستی پولیس کی مدد کے لیے مرکزی مسلح پولیس فورسز کو تعینات کیا گیا ہے۔ سی ایم ممتا بنرجی نے تین انتہائی حساس علاقوں میں مرکزی سیکورٹی فورسز کی ایک ایک کمپنی کو تعینات کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ حالانکہ انہوں نے یہ قدم کلکتہ ہائی کورٹ کے حکم کے بعد یہ فیصلہ لیا ہے ۔
پارٹی مخالف سرگرمیوں اور ایم ایل سی انتخابات میں باغیانہ رویہ اختیار کرنے کے الزامات…
یہ مظاہرہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب جاری خصوصی جامع نظرثانی (ایس آئی آر)…
پروفیسر جیفری سیکس نے اڈانی گروپ کو ہندوستان میں تبدیلی اور ترقی کا ایک اہم…
مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ بی جے پی کی ملک گیر مہم ’لوک تنتر بچاؤ،…
ڈاکٹر پریتی اڈانی نے کہا کہ اڈانی گروپ ہندوستان کے 2047 تک ترقی یافتہ ملک…
مرکزی وزیر مملکت رام داس اٹھاولے نے کانگریس لیڈر راہل گاندھی اور انڈیا اتحاد پر…