نئی دہلی: راجیہ سبھا کے رکن پارلیمنت اور اتر پردیش کے سابق نائب وزیر اعلیٰ ڈاکٹر دنیش شرما نے مطالبہ کیا ہے کہ شاستریہ (روایتی/کلاسیکی) اور پَورانِک (دیومالائی) موضوعات کو سرکاری اور نجی اسکولوں کے نصاب میں لازمی طور پر شامل کیا جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ شاستروں میں موجود علم اور پَورانِک کہانیوں میں چھپے اخلاقی اور ثقافتی اقدار بچوں کی زندگی میں خاص اہمیت رکھتے ہیں۔ یہ علم بچوں میں اخلاقی اور کردار سازی میں معاون ثابت ہوتا ہے اور معاشرے کی بنیادی روایات اور ثقافتی شناخت کے تحفظ میں مدد دیتا ہے۔
ڈاکٹر شرما نے کہا کہ مہابھارت، گیتا، رامائن وغیرہ کی تعلیمات نہ صرف بچوں میں اخلاقی اقدار کو فروغ دیتی ہیں بلکہ زندگی میں نظم و ضبط اور فرض شناسی کی اہمیت بھی اجاگر کرتی ہیں۔ یہ مواد بچوں میں بھارت کی شاندار ثقافت کے لیے احترام کا جذبہ پیدا کر سکتا ہے۔ طلبہ کو پَورانِک کہانیوں سے جوڑنے کے لیے خصوصی کلاسز کا اہتمام بھی کیا جا سکتا ہے۔ ایسے اقدامات ملک کے مستقبل کو بھارت کے عظیم ثقافتی ورثے سے جوڑنے کے لیے نہایت اہم ثابت ہوں گے۔
ڈاکٹر شرما نے کہا کہ آج کی تیز رفتار زندگی میں بچے ملک کے عظیم ثقافتی ورثے اور مذہبی وراثت سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔ ٹیکنالوجی کی ترقی اور جدید تعلیم بچوں کو اپنی ثقافتی جڑوں سے دور لے جا رہی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
امت شاہ کے لکھنؤ دورے اور ریاستی ایگزیکٹو کمیٹی کی میٹنگ کے بعد 2027 اور…
لکھنؤ میں بی جے پی کی ریاستی ایگزیکٹو کمیٹی کی میٹنگ کے بعد قیاس آرائیاں…
سپریم کورٹ نے اتر پردیش میں ووٹر لسٹ سے نام حذف کرانے کے لیے بڑی…
وزیر اعظم نے اپنے پیغام میں لکھا کہ یہ افسوسناک خبر سن کر انہیں گہرا…
وزیر داخلہ نے کہا ’’راہل بابا، میں آپ دونوں، یعنی آپ اور اکھلیش یادو کو…
تقریباً 90 منٹ تک جاری رہنے والے اس ڈرامے میں بنکم چندر چٹوپادھیائے کے 1882…