ملکی سیاسی و جمہوری اقدار کے لیے یہ وقت نہایت تشویشناک ہے، جب ہماری جمہوری نظام کے ایک اہم ستون — وزیر اعلیٰ کے عہدے کو زینت بخشنے والی محترمہ ریکھا گپتا پر حملہ کیا جاتا ہے۔ یہ محض ایک فرد پر حملہ نہیں بلکہ جمہوریت، آئینی اقدار اور خواتین کی عزت و وقار پر بھی حملہ ہے۔
اس بزدلانہ حملے کی پورے ملک میں سخت مذمت کی جا رہی ہے۔ سینئر رہنما جناب منوج تیواری نے اس واقعے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا:”محترمہ وزیر اعلیٰ @gupta_rekha جی پر کیا گیا حملہ انتہائی قابلِ مذمت ہے۔ یہ جمہوری اقدار پر حملہ ہے۔ قصورواروں کے خلاف سخت کارروائی ہونی چاہیے۔” — منوج تیواری
جمہوریت میں تشدد کی کوئی گنجائش نہیں
بھارت جیسے عظیم جمہوری ملک میں خیالات کا اختلاف قابلِ قبول ہے، لیکن اختلافِ رائے کا جواب تشدد سے دینا جمہوریت کی روح کو مجروح کرتا ہے۔ ریکھا گپتا جی نے ہمیشہ پرامن اور آئینی راستہ اختیار کرتے ہوئے عوام کی خدمت کی ہے۔ ان پر کیا گیا یہ حملہ نہ صرف قانون و نظم و ضبط کے لیے ایک آزمائش ہے بلکہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ ہم کس سمت جا رہے ہیں۔
قانون و انصاف کے نظام کو چیلنج
ایسے واقعات قانون و امن و امان کی صورتحال پر سنجیدہ سوالات اٹھاتے ہیں۔ عوام کو تحفظ کا یقین دلانا انتظامیہ کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ اس قسم کے واقعات سے عام شہری کا اعتماد متزلزل ہوتا ہے۔
سوسائٹی کے ہر طبقے، ہر نظریے اور ہر سیاسی جماعت کو مل کر ایسے تشدد کی مخالفت کرنی چاہیے۔ ہمیں اجتماعی طور پر یہ طے کرنا ہوگا کہ جمہوری اقدار کا تحفظ ہو اور خواتین قیادت کو ایک محفوظ ماحول فراہم کیا جائے۔
بھارت ایکسپریس اردو
اس پہل کا آغاز اس مقصد سے کیا گیا کہ پی او پی سے بنی…
وائرل ویڈیو میں خاتون سیٹی گنڈکی ندی پر بنے ایک پل پر کھڑی نظر آ…
گنیش مورتیوں کے وسرجن پر سختی کی ایک بڑی وجہ ان کی تیاری اور سجاوٹ…
خبر رساں ایجنسی اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے ایک مقامی شہری نے بتایا…
رپورٹس کے مطابق محسن رضائی نے کہا کہ ایران قطر کے رابطے میں ہے اور…
ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) کے اندرونی تنازع پر جیتن رام مانجھی نے کہا کہ…