اسٹیٹ انویسٹی گیشن ایجنسی (SIA) نے جموں کے ایس آئی اے پولیس اسٹیشن میں درج ایک اہم سرحد پار منشیات اور دہشت گردی کے مقدمے میں 11 افراد کے خلاف چارج شیٹ داخل کر دی ہے۔
جموں و کشمیر کی اسٹیٹ انویسٹی گیشن ایجنسی (SIA) نے ایک اہم سرحد پار منشیات و دہشت گردی (نارکو-ٹیرر) کیس میں 11 افراد کے خلاف چارج شیٹ داخل کر دی ہے، جن میں پاکستان میں مقیم حزب المجاہدین کا سربراہ سید محمد یوسف شاہ عرف سید صلاح الدین بھی شامل ہے۔
یہ مقدمہ سب سے پہلے 2022 میں درج کیا گیا تھا اور اس کا تعلق ایک بین الاقوامی منشیات اسمگلنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت کے نیٹ ورک سے ہے، جسے پاکستان میں موجود دہشت گرد تنظیمیں اور ان کے کارندے جموں و کشمیر میں چلا رہے تھے۔ تحقیقات کے مطابق یہ نیٹ ورک حزب المجاہدین (HM) کی فعال مدد کر رہا تھا، جو بھارت میں منشیات کی اسمگلنگ کرکے اس سے حاصل ہونے والی آمدنی دہشت گردی کی سرگرمیوں میں استعمال کرتا تھا۔
چارج شیٹ میں جموں و کشمیر کے مختلف اضلاع کے ان افراد کو نامزد کیا گیا ہے جو مبینہ طور پر منشیات کی اسمگلنگ اور تقسیم میں ملوث تھے۔ یہ ایک منظم مجرمانہ اور دہشت گرد نیٹ ورک کا حصہ تھے۔ تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ منشیات کو پاکستان سے یونین ٹیریٹری میں اسمگل کیا جا رہا تھا اور حاصل شدہ رقم کو پاکستان میں مقیم حزب المجاہدین کے دہشت گرد بشارت احمد بھٹ کی ہدایت پر ایک ملزم کے اکاؤنٹ میں جمع کروایا جا رہا تھا۔ بشارت احمد بھٹ اس وقت راولپنڈی سے کارروائیاں کر رہا ہے۔ چارج شیٹ میں جن دیگر ملزمان کو نامزد کیا گیا ہے، ان میں سید محمد یوسف شاہ عرف سید صلاح الدین، حزب المجاہدین کا سربراہ، بھی شامل ہے۔
مزید بیان میں کہا گیا ہے کہ اس گروہ نے منشیات سے حاصل ہونے والی رقم کو دہشت گردی کی سرگرمیوں کے لیے استعمال کیا۔ مقامی کورئیرز اور ہینڈلرز منشیات کی ترسیل کرتے اور سرحد پار موجود ہینڈلرز کی ہدایات پر رقوم جمع کرواتے تھے۔
بیان کے مطابق نامزد ملزمان میں شامل ہیں:
بیان میں مزید کہا گیا کہ ان تمام افراد نے ایک منظم نیٹ ورک کے تحت منشیات کی ترسیل اور دہشت گرد تنظیموں کے لیے مالی معاونت میں اہم کردار ادا کیا۔
ملزمان علاقے میں منشیات کے کاروبار کے مرکزی کردار تھے اور مبینہ طور پر مقامی نوجوانوں کو منشیات سپلائی کر رہے تھے۔ ان میں سے کچھ نے دیگر افراد کو بھی منشیات فروشی میں شامل کیا تھا۔ اگرچہ ان کے پاس کوئی جائز آمدنی کا ذریعہ موجود نہیں تھا، تاہم کئی ملزمان نے منشیات کی اسمگلنگ کے ذریعے خاصی دولت اکٹھی کر لی تھی۔
تحقیقات سے اس بڑے سازش کا انکشاف ہوا ہے جس کا مقصد پاکستان کے حمایت یافتہ حزب المجاہدین کے ذریعے جموں و کشمیر میں امن و امان کو تباہ کرنا ہے، جہاں منشیات کو ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے اور کمزور طبقات کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ایس آئی اے نے کہا ہے کہ اس نیٹ ورک سے جڑے دیگر افراد کی گرفتاری کے لیے مزید تحقیقات جاری ہیں۔
یہ چارج شیٹ ایس آئی اے کی دہشت گردی کی مالی معاونت کے نظام کو ختم کرنے اور جموں و کشمیر کے سماجی و سیاسی استحکام کے تحفظ کے لیے جاری کوششوں میں ایک اہم پیش رفت ہے۔
بھارت ایکسریس اردو
اتر پردیش میں پیر کی دیر رات بڑا انتظامی ردوبدل کیا گیا۔ حکومت نے 34…
دہلی کے دیش بندھو گپتا روڈ تھانہ علاقے کے کشن گنج میں 7 سالہ بچی…
صدر جمہوریہ مختلف زمروں کے فاتحین کو دیں گی قومی فلم ایوارڈ، تقریب میں بالی…
فلم ’ہنومان انش‘ کی کامیابی کے بعد پروڈیوسر انوپریا ناگر ایودھیا پہنچیں، جہاں انہوں نے…
’ہندی میری جان 2026‘ کے دوسرے ایڈیشن میں 22 ستمبر کو انڈیا اسلامک کلچرل سینٹر…
راؤز ایونیو کورٹ کے پرانے حکم کو منسوخ کرکے معاملہ دوبارہ مجسٹریٹ عدالت بھیجا گیا،…