امریکہ کی سابق وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن نے ایک حیران کن اعلان کیا ہے۔ انہوں نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو نوبیل امن انعام دیے جانے کی حمایت کی ہے — لیکن ایک شرط کے ساتھ۔ انہوں نے کہا ہے کہ اگر ٹرمپ یوکرین کے کسی بھی علاقے کو روس کے حوالے کیے بغیر جنگ بندی کروا دیتے ہیں، تو وہ بلا جھجک انہیں نوبیل امن انعام کے لیے نامزد کرنے کو تیار ہوں گی۔
ہیلری کلنٹن نے یہ بات الاسکا کے شہر انکریج میں روسی صدر ولادیمیر پوتن اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اہم ملاقات سے چند گھنٹے پہلے ’ریجنگ موڈریٹس‘ نامی پروگرام میں گفتگو کے دوران کہی۔
انہوں نے کہا:”اگر ڈونلڈ ٹرمپ واقعی اس بھیانک جنگ کا اختتام یوکرین کی جغرافیائی حیثیت میں کسی تبدیلی کے بغیر کروا سکیں، تو میں یقینی طور پر ان کا نام نوبیل امن انعام کے لیے نامزد کر سکتی ہوں۔”
ہیلری کلنٹن نے مزید کہا کہ ٹرمپ کسی دوست سے نہیں بلکہ ایک ایسے دشمن سے ملنے جا رہے ہیں جو امریکہ اور مغربی اتحاد کی تباہی دیکھنا چاہتا ہے۔
ہیلری کلنٹن اور ڈونلڈ ٹرمپ ایک دوسرے کے سیاسی حریف رہے ہیں۔ دونوں کے درمیان سیاسی مقابلہ 2016 کے امریکی صدارتی انتخابات سے شروع ہوا تھا، جس میں ٹرمپ نے ہیلری کلنٹن کو شکست دی تھی۔ اس انتخابی مہم کے دوران کلنٹن نے پپوتن جیسے آمر حکمرانوں کی طرف ٹرمپ کی جھکاؤ کی سخت مذمت کی تھی، جب کہ ٹرمپ نے بھی کلنٹن کا مذاق اڑایا تھا اور وزیر خارجہ کے طور پر ان کی کارکردگی پر سوالات اٹھائے تھے۔
سیاسی اختلافات کے باوجود ہیلری کلنٹن کی طرف سے ٹرمپ کو نوبیل انعام کی مشروط حمایت یہ ظاہر کرتی ہے کہ وہ اس اقدام کو امریکہ کی فتح کے طور پر دیکھتی ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے روس-یوکرین جنگ کو جلد ختم کرنے کا وعدہ کیا ہے۔
قابل ذکر بات یہ ہے کہ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جنگ ختم کرنے کے لیے روس کی شرط یوکرین کے کچھ علاقوں پر دعویٰ اور مغربی پابندیوں کا خاتمہ ہے۔ جب کہ یوکرینی صدر وولودیمیر زیلنسکی نے کسی بھی علاقائی رعایت کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔ اس صورتحال میں روس-یوکرین جنگ بندی آسان نظر نہیں آتی۔
جمعہ کو الاسکا میں ہونے والی سربراہی ملاقات کے بعد صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ولادیمیرپوتن نے کہا کہ بات چیت مثبت رہی ہے اور ہم یوکرین جنگ کو ختم کرنے کے قریب پہنچ چکے ہیں، لیکن فوری جنگ بندی کا اعلان نہیں کیا گیا۔
فاکس نیوز سے بات کرتے ہوئے ٹرمپ نے کسی ٹھوس معاہدے کی تردید کی اور کہا کہ ہماری ملاقات بہت اچھی رہی۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ اس ملاقات کی تفصیلات یورپی رہنماؤں سے بھی شیئر کریں گے۔ روسی صدر پوتن نے بھی اس ملاقات کو تعمیری اور قابل احترام قرار دیا۔
بھارت ایکسپریس اردو
اداکارہ نے فلم کے ہدایت کار ابھشیک پاٹھک کی بھی تعریف کی۔ انہوں نے کہا،…
طیارہ بینن سے لاگوس کے لیے معمول کے مشن پر روانہ ہوا تھا، اسی دوران…
انڈیا اتحاد کے ارکان پارلیمنٹ نے پارلیمنٹ کے مکر دوار سے مارچ شروع کیا تھا۔…
احتجاج کے دوران انڈیا اتحاد کے لیڈران نے الیکشن کمیشن پر ووٹر لسٹ میں گڑبڑی…
دہلی پولیس نے حال ہی میں سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ شیئر کی، جس کے…
عام آدمی پارٹی، ڈی ایم کے اور بی جے ڈی کے انڈیا بلاک کی جانب…