سیاست

PM Modi’s 2003 UK Visit: وزیرِ اعظم مودی کا 2003 کا برطانیہ کا دورہ، بھُج زلزلہ میں مدد پر اوورسیز بھارتیوں کا شکریہ

ایک پُرخلوص تشکر کے جذبے کے تحت، اُس وقت کے گجرات کے وزیرِ اعلیٰ نریندر مودی نے اگست 2003 میں برطانیہ کا دورہ کیا — یہ دورہ 2001 کے تباہ کن بھُج زلزلے کے دو سال بعد کیا گیا۔یہ دورہ سیاسی نہیں بلکہ ذاتی نوعیت کا تھا — ایک مشن، جس کا مقصد بھارتی تارکینِ وطن کا شکریہ ادا کرنا تھا جنہوں نے گجرات کے بحران کے وقت بھرپور حمایت اور یکجہتی کا مظاہرہ کیا۔ویملے کانفرنس سینٹر میں ایک ہاؤس فل اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے، مودی نے تارکینِ وطن(اوورسیز بھارتیوں) کو سراہا کہ انہوں نے 6.9 شدت کے زلزلے کے بعد فوری طور پر امدادی کارروائیاں کیں، اس میں ہزاروں لوگو ں کی جان چلی گئی تھی۔

انہوں نے کہا: “آپ سب گجرات کے اصل دوست ہیں”۔ انہوں نے مزید کہا:”ہم نے موت کی گلی میں رات گزاری ہے، اور آج میں دوستی کا قرض چکانے آیا ہوں ان لوگوں کے لیے جنہوں نے ہماری مشکل گھڑی میں ہمارا ساتھ دیا۔”ان کے الفاظ نہ صرف    وہاںموجود لوگوں کے دلوں کو چھو لیا، کیونکہ یہ صرف مالی مدد کی نہیں بلکہ اُن جذباتی رشتوں کی بھی پہچان تھی جو بیرون ملک مقیم بھارتیوں کو اپنے وطن سے جوڑے رکھتے ہیں۔

تارکینِ وطن سے تعلق اور مستقبل کا وژن

اپنے دورہ برطانیہ کے دوران وزیرِ اعلیٰ مودی نے 20 اگست 2003 کو گجرات سماچار اور ایشیئن وائس کے دفتر میں “شکتی ہال” کا افتتاح بھی کیا۔ اس موقع پر انہوں نے بھارت کے روشن مستقبل کا ایک وژن پیش کیا — ایک ایسا وژن جو صلاحیت، شناخت اور قومی فخر سے جُڑا ہوا تھا۔ایک یادگار جملہ جو آج بھی ایڈیٹرز اور شرکاء کو یاد ہے، انہوں نے کہا:

“آئی ٹی، انفارمیشن ٹیکنالوجی نہیں، بلکہ انڈیا ٹوڈے ہے۔ بی ٹی، بایوٹیکنالوجی نہیں بلکہ بھارت ٹوڈے ہے۔ آئی ٹی + آئی ٹی = آئی ٹی — یعنی انفارمیشن ٹیکنالوجی اور انڈین ٹیلنٹ ہے انڈیا ٹومارو!”یہ جملہ وسیع پیمانے پر گونجا اور اُن کے اس یقین کی عکاسی کرتا ہے کہ بھارت کا عالمی مقام اُبھر رہا ہے — اور تارکین وطن اس مستقبل کو شکل دینے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔اس دورے کے دوران اُن کی ملاقات اُس وقت کے وزیرِ اعظم اٹل بہاری واجپائی سے بھی ہوئی، جو اتفاق سے اُسی وقت لندن میں موجود تھے۔

یہ ملاقات اس بات کو مزید اُجاگر کرتی ہے کہ اوورسیز بھارتیوں سے تعلقات بھارت کی سفارت کاری کا ایک اہم پہلو رہے ہیں — اور یہ سب کچھ اُس وقت ہو رہا تھا جب مودی ابھی قومی سطح پر وزیرِ اعظم نہیں بنے تھے۔مودی کا 2003 کا برطانیہ کا دورہ آج اُن کی عالمی سطح پر بھارتی تارکین وطن سے تعلقات بنانے کی حکمت عملی کا نقطۂ آغاز سمجھا جاتا ہے۔یہ دورہ اس سوچ کو مضبوط کرتا ہے کہ بھارتی ڈائسپورا صرف ایک علامتی موجودگی نہیں، بلکہ بھارت کی ترقی اور استقامت میں ایک فعال اور پُرجوش ساتھی ہے۔بھُج زلزلے کے بعد اوورسیز بھارتیوں کا شکریہ ادا کرنے کے لیے کیا گیا یہ دورہ بھارت کے “عوام سے عوام کی سفارت کاری کا ایک یادگار لمحہ بن چکا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو

Abu Danish Rehman

Recent Posts

UP New Congress President: ارادھنا مشرا بنیں یوپی کانگریس کی نئی صدر، عمران مسعود کار گزار صدر مقرر

ارادھنا مشرا پرتاپ گڑھ کی رام پور خاص اسمبلی نشست سے کانگریس کی رکن اسمبلی…

8 hours ago

Asian Games 2026: ایشین گیمز 2026 کی اختتامی تقریب میں نیرو ڈھانڈا ہوں گی ہندوستان کی پرچم بردار، ٹریپ شوٹر نے 2 گولڈ سمیت جیتے ہیں 3 تمغے

نیرو ڈھانڈا کی کارکردگی کے اعتراف میں انہیں اختتامی تقریب میں ہندوستانی دستے کی قیادت…

8 hours ago