سیاست

Leh Violence: لداخ تشدد کے بعد حکومت کا بڑا اعلان، مظاہرین کی رہائی اور مذاکرات کے لیے تیار، سونم وانگ چک کی اہلیہ نے صدر کو لکھا جذباتی خط

لداخ کے ضلع لیہہ میں حالیہ پرتشدد واقعات کے بعد حکومت نے پہلا باضابطہ بیان جاری کر دیا ہے۔ اس بیان میں عوامی اعتماد کی بحالی کے لیے ایک جامع پالیسی کا اعلان کیا گیا ہے، جس میں زمین، ملازمتوں اور مقامی شناخت کے تحفظ کی واضح ضمانت دی گئی ہے۔
معروف ماحولیاتی کارکن اور سماجی رہنما سونم وانگ چک کی اہلیہ گیتانجلی جے انگمو نے ان کی رہائی کے لیے صدر جمہوریہ دروپدی مرمو کو ایک تین صفحات پر مشتمل خط لکھا ہے۔ اس خط میں انہوں نے صدر سے فوری مداخلت کی اپیل کی ہے۔
NSA کے تحت جیل بھیجا گیا
سونم وانگ چک کو 24 ستمبر کو لیہہ میں ہوئی پرتشدد جھڑپوں کے بعد 26 ستمبر کو نیشنل سیکورٹی ایکٹ (NSA) کے تحت گرفتار کر کے راجستھان کی جودھپور جیل بھیجا گیا تھا۔ وہ اس وقت سے حراست میں ہیں۔
حکومت نے کہا: “بات چیت کے لیے تیار ہیں”
حکومت نے واضح کیا ہے کہ وہ لداخ کے عوام کی ضروریات اور امیدوں کو پورا کرنے کے لیے پرعزم ہے اور جلد ہی مذاکرات کا آغاز کیا جائے گا۔ حکومت نے عوام کو یقین دلایا ہے کہ ان کے وسائل، روزگار، زمین اور ثقافتی شناخت کی حفاظت کی جائے گی۔
مظاہرین کی رہائی کا اعلان
لداخ کے چیف سیکریٹری پون کوتوال نے بتایا کہ حکومت نے عدالت کے حکم کے بعد تمام گرفتار مظاہرین کو رہا کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ:40 مظاہرین کو 24 ستمبر کو تشدد اور آتش زنی کے الزامات میں گرفتار کیا گیا تھا،ان میں سے 30 افراد کو پہلے ہی رہا کیا جا چکا ہے،باقی 10 افراد کو بھی جلد چھوڑ دیا جائے گا۔
چیف سیکریٹری نے کہا کہ حکومت مذاکرات کے ذریعے مسئلے کا حل چاہتی ہے اور عوامی جذبات کا احترام کرتی ہے۔
“تشدد سیاسی مفاد کے لیے بھڑکایا گیا”
اپنے بیان میں حکومت نے معروف سماجی کارکن سونم وانگ چک کا براہ راست نام تو نہیں لیا، لیکن اشارہ دیا کہ کچھ افراد نے ذاتی یا سیاسی مفاد کے لیے عوام کو گمراہ کیا، جس سے حالات بگڑ گئے۔
چیف سیکریٹری نے کہا:”اگر وقت پر بھوک ہڑتال ختم کر دی جاتی، تو شاید 24 ستمبر کی پرتشدد صورتحال سے بچا جا سکتا تھا۔”انہوں نے مزید کہا کہ حکومت پہلے سے بات چیت کے ذریعے حل نکالنے کی کوشش کر رہی تھی، مگر کچھ عناصر نے اسے ناکام بنانے کی سازش کی۔
یاد رہے کہ لداخ میں عوام زمین کے تحفظ، مقامی روزگار، اور علاقائی خودمختاری جیسے مطالبات کو لے کر سراپا احتجاج تھے۔ مظاہرہ 24 ستمبر کو پرتشدد ہو گیا تھا، جس میں سرکاری املاک کو نقصان پہنچا اور متعدد افراد زخمی ہوئے۔
حکومت کے اس تازہ اعلان کو اعتماد سازی کی ایک بڑی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ اب سب کی نظریں اس بات پر ہیں کہ آیا یہ مذاکرات کا عمل واقعی کوئی پائیدار حل نکال پائے گا یا نہیں۔

بھارت ایکسپریس اردو

Abu Danish Rehman

Recent Posts

INDIA Alliance Rally: ’عوامی مواخذے‘ کے بعد اتوار کو رام لیلا میدان میں ’انڈیا‘ اتحاد کی عظیم ریلی

چیف الیکشن کمشنر (سی ای سی) گیانیش کمار کے خلاف اپوزیشن اتحاد ’انڈیا‘ کی جانب…

20 minutes ago

نیشنل کانفرنس میں بغاوت کے آثار، عمرعبداللہ کے لئے بڑا جھٹکا، 15 سے زائد اراکین اسمبلی کی خفیہ میٹنگ

خفیہ میٹنگ کی اطلاعات کے بعد کوئی بھی رکن اسمبلی کھل کرکیمرے کے سامنے قیادت کے…

2 hours ago

جو ہمیں دوسرے درجے کا شہری بنانا چاہتے ہیں، وہ دراصل ملک کے دشمن ہیں: مولانا محمود مدنی نے کیوں کہی یہ بڑی بات؟

جمعیۃ علماء ہند کی مجلسِ منتظمہ کے دو روزہ اجلاس میں ملک کی موجودہ صورت…

2 hours ago

Guwahati GMCH: کیا کینسر کے علاج میں آئے گی بڑی پیش رفت؟ آسام میں ملک کا پہلا سرکاری پروٹون بیم تھراپی مرکز قائم کرنے کی تیاری

آسام کے گوہاٹی میڈیکل کالج (جی ایم سی ایچ) میں ہندوستان کا پہلا سرکاری اور…

3 hours ago

Gold-Silver Rate: سونا اور چاندی کی قیمتیں 12 ماہ کی کم ترین سطح پر، بڑی گراوٹ سے بازار میں ہلچل،کیا یہی ہے خریداری کا صحیح وقت؟

کموڈیٹی مارکیٹ میں زبردست فروخت کے دباؤ کے باعث سونے اور چاندی کی قیمتوں میں…

3 hours ago