امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے فرنیچر کی درآمد پر ٹیرف لگانے کی نئی تجویز پیش کی ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ اگلے 50 دنوں میں اس پر تحقیقات مکمل ہوگی، جس کے بعد فیصلہ کیا جائے گا کہ دیگر ممالک سے امریکہ آنے والے فرنیچر پر کتنا ڈیوٹی عائد کی جائے۔ ٹرمپ کا ماننا ہے کہ یہ اقدام امریکی صنعت کو دوبارہ مضبوط کرے گا اور پیداوار کو ملک کے اندر واپس لائے گا۔
ٹرمپ فرنیچر کی درآمد پر ٹیرف کیوں لگانا چاہتے ہیں؟
اپنے بیان میں ٹرمپ نے خاص طور پر نارتھ کیرولینا، ساؤتھ کیرولینااور مشی گن جیسے ریاستوں کا ذکر کیا، جو کبھی فرنیچر صنعت کے بڑے مراکز تھے۔ لیکن سستے مزدور اور کم لاگتِ پیداوار کے باعث زیادہ تر کمپنیاں اپنا کام بیرونِ ملک لے گئیں۔ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ نئے ٹیرف کے بعد کمپنیاں ایک بار پھر امریکہ میں ہی پیداوار کرنے پر مجبور ہوں گی۔
ٹرمپ کے اعلان کا شیئر مارکیٹ پر اثر
اس اعلان کا اثر براہِ راست امریکی اسٹاک مارکیٹ میں نظر آیا۔ معروف فرنیچر اور ہوم گڈز کمپنیوں جیسے Wayfair، RH اور Williams-Sonoma کے شیئرز میں کمی دیکھی گئی، جب کہ La-Z-Boy جیسی امریکی مینوفیکچرنگ کمپنی، جو زیادہ تر فرنیچر امریکہ میں ہی بناتی ہے، کے شیئرز میں اضافہ ہوا۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اگر ٹیرف نافذ ہوا تو بیرونی مصنوعات مہنگی ہو جائیں گی اور ملکی کمپنیوں کو فائدہ ملے گا۔
ٹرمپ انتظامیہ تحقیقات کر رہی ہے
امریکی محکمہ تجارت اس وقت اس معاملے کی جانچ کر رہا ہے۔ یہ جانچ “ٹریڈ ایکسپینشن ایکٹ 1962” کی دفعہ 232 کے تحت ہو رہی ہے، جو امریکی حکومت کو ان مصنوعات پر ٹیرف لگانے کی اجازت دیتی ہے جو قومی سلامتی کے لیے اہم سمجھی جائیں۔ تاہم، ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ یہ ٹیرف موجودہ ڈیوٹی کے علاوہ ہوگا یا اس کی جگہ لے گا۔
امریکہ میں کبھی فرنیچر انڈسٹری 12 لاکھ افراد کو روزگار دیتی تھی
ایک وقت تھا جب امریکی فرنیچر انڈسٹری بہت مضبوط تھی۔ 1979 میں اس شعبے میں تقریباً 12 لاکھ افراد کام کرتے تھے۔ 2023 تک یہ تعداد کم ہو کر صرف 3.4 لاکھ رہ گئی ہے۔ اس زوال کی بڑی وجہ سستا بیرونی پیداوار اور بڑے پیمانے پر آؤٹ سورسنگ کو مانا جاتا ہے۔ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ نئے ٹیرف سے نہ صرف ملکی صنعت کو فروغ ملے گا بلکہ ہزاروں لوگوں کے لیے روزگار بھی واپس آئے گا۔
کیا بھارت پر بھی اثر پڑے گا؟
فرنیچر کی درآمد پر ٹیرف لگانے کی تجویز ٹرمپ انتظامیہ کی وسیع تر حکمت عملی کا حصہ ہے۔ حکومت پہلے ہی دیگر مصنوعات پر بھی ٹیرف لگانے پر غور کر رہی ہے، جن میں تانبا، سیمی کنڈکٹرز، اور ادویات (فارماسیوٹیکلز) شامل ہیں۔ اس پالیسی کا مقصد ملکی پیداوار کو فروغ دینا، غیر ملکی انحصار کو کم کرنا، اور امریکہ میں صنعت و روزگار کو دوبارہ مضبوط کرنا ہے۔ قابلِ ذکر ہے کہ ٹرمپ کے اس اعلان کا اثر بھارت پر بھی پڑنے والا ہے، کیونکہ بھارت امریکہ کو بڑی مقدار میں فرنیچر ایکسپورٹ کرتا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
رپورٹس کے مطابق گولڈی برار اور لارنس بشنوئی کے درمیان اب اختلافات پیدا ہو چکے…
علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اسٹوڈنٹس یونین کے سابق صدراورسپریم کورٹ کے ایڈوکیٹ زیڈ کے فیضان…
تقریب کے آغاز میں ڈاکٹر محمد اکمل نے تعارفی کلمات پیش کرتے ہوئے جامعہ ملیہ…
راہل گاندھی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ میں دعویٰ کیا کہ…
ٹی ایم سی رکن پارلیمنٹ سوگت رائے نے ایس آر ایف ٹی آئی میں ہوئی…
عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال نے پرویش ورما کی گرفتاری کا مطالبہ…