بی جے پی ترجمان پروین شنکر نے تصدیق کی کہ حملہ آور جن سنوائی کے بہانے اندر آیا تھا۔بی جے پی رہنما رمیش بدھوڑی نے اس واقعے کو عوامی سماعت کو سبوتاژ کرنے کی سازش قرار دیا۔بی جے پی کے تیجندر بگا نے کہا کہ “میں اس خبر سے صدمے میں ہوں، ریکھا گپتا جی کی حفاظت اور جلد صحتیابی کی دعا کرتا ہوں۔ بج رنگ بلی آپ پر اپنی کرپا بنائے رکھیں۔”
مزید تحقیقات جاری
واقعے کی مکمل تحقیقات پولیس کی جانب سے کی جا رہی ہیں، اور حملے کی وجوہات اور پس منظر کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ وزیراعلیٰ کی سیکورٹی بڑھانے پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔ ریکھا گپتا 20 فروری 2025 کو دہلی کی وزیراعلیٰ بنیں، حملے پر سیاسی ردعمل شدید
ریکھا گپتا نے 20 فروری 2025 کو دہلی کی وزیراعلیٰ کے طور پر حلف لیا تھا۔انہوں نے دہلی اسمبلی انتخابات میں عام آدمی پارٹی (AAP) کی امیدوار وندنا کماری کو 29,595 ووٹوں کے بڑے فرق سے شکست دی تھی۔ریکھا گپتا کا پس منظر:وہ راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (RSS) سے طویل عرصے سے وابستہ رہی ہیں۔
وزیراعلیٰ بننے سے پہلے وہ:دہلی بی جے پی کی جنرل سکریٹری بی جے پی مہلا مورچہ کی قومی نائب صدر بھی رہ چکی ہیں۔
حملے پر کانگریس کا شدید ردعمل
دہلی کانگریس کے صدر دیویندر یادو نے وزیراعلیٰ ریکھا گپتا پر حملے کو “بدقسمتی” قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا:”ریکھا گپتا صرف بی جے پی کی نہیں بلکہ پوری دہلی کی وزیراعلیٰ ہیں۔ اس حملے کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔ یہ واقعہ دہلی میں خواتین کی سیکیورٹی کے انتظامات پر سنگین سوال کھڑا کرتا ہے۔اگر ایک وزیراعلیٰ محفوظ نہیں ہیں، تو ایک عام مرد یا عورت کی کیا حیثیت رہ جاتی ہے؟”
سیاسی اور سماجی سوالات ابھرنے لگے
یہ واقعہ نہ صرف قانون و نظم و نسق بلکہ سیاسی ماحول اور سیکیورٹی انتظامات پر بھی سوالیہ نشان کھڑا کرتا ہے۔تمام سیاسی جماعتیں اب وزیراعلیٰ پر حملے کو اپنے نظریات اور عوامی بیانیے کے تناظر میں پیش کر رہی ہیں۔مزید تحقیقات اور سیاسی بحثوں کے ساتھ یہ معاملہ آئندہ دنوں میں اور شدت اختیار کر سکتا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو