سیاست

Congress leader Rashid Alvi: ’’ساورکر کوئی مذہبی آدمی نہیں تھے‘‘، کانگریس لیڈر راشد علوی نے دیا سخت بیان

کانگریس لیڈر راشد علوی نے ہفتہ کو آئی اے این ایس سے بات کرتے ہوئے وقف املاک، لو جہاد، مغربی بنگال میں تشدد کے واقعے اور ہندی زبان کو لے کر جاری تنازعوں سے متعلق بات کرتے ہوئے اہم بیانات دیے ہیں۔ انھوں نے ساورکر کے حوالے سے اے آئی ایم آئی ایم کے سربراہ اسدالدین اویسی کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ’’ساورکر کوئی مذہبی شخص نہیں تھا۔ بی جے پی کو ساورکر کے کھانے پینے کی عادت ہضم نہیں ہوپائے گی۔ لیکن آج کی تاریخ میں تاریخ کے وہ صفحات دوبارہ کھولنے کی ضرورت نہیں ہے۔‘‘

وقف قانون پر حکومت کو بنایا نشانہ

آئی اے این ایس سے بات کرتے ہوئے راشد علوی نے وقف ترمیمی بل پر بھی بات کی۔ انھوں نے اسد الدین اویسی کے اس کے بیان کی حمایت کی کہ حکومت وقف قانون میں ترمیم کرکے مساجد اور درگاہوں کی جائیدادیں چھیننے کی کوشش کر رہ ہے۔ راشد علوی نے اس پر مزید کہا کہ ’’حکومت وقف املاک پر قبضہ کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ یہ غیر آئینی اور بدقسمتی کی بات ہے۔ جب ہندوستان تقسیم ہوا تو بہت سے لوگوں نے مسلم لیگ کو ووٹ دیا اور وہ پاکستان چلے گئے۔ لیکن کانگریس نے ہمیشہ ہندو مسلم اتحاد کی بات کی ہے اور مولانا ابوالکلام آزاد اور جواہر لعل نہرو نے مسلمانوں سے وعدہ کیا تھا کہ ہندوستان میں سب کو مساوی حقوق حاصل ہوں گے۔‘‘

’لو جہاد‘ کے الزامات پر بھی دیا جواب

کرناٹک میں ایک نرس کے قتل کے بعد بی جے پی لیڈر بسواراج بومئی کے ذریعے اسے ’لو جہاد‘ کا معاملہ قرار دے کر ریاست کی کانگریس حکومت کو نشانہ بنانے پر راشد علوی نے سخت الفاظ میں رد عمل دیا۔ انھوں نے کہا کہ ’’بی جے پی کو اپنے الزامات کی حمایت میں ثبوت فراہم کرنے چاہئیں۔ اگر ان کے پاس کوئی ثبوت نہیں تو ان کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے۔ انھیں ’لوجہاد‘ کا اصل مطلب بھی بتایا جانا چاہیے۔‘‘

مغربی بنگال میں تشدد کے لیے حکومت ہے ذمہ دار

مغربی بنگال کے بیربھوم ضلع میں دو گروپوں کے درمیان تشدد کے بعد انٹرنیٹ خدمات بند کیے جانے پر تبصرہ کرتے ہوئے کانگریس لیڈر مسٹر علوی نے کہا ’’اس طرح کے واقعات افسوس ناک ہیں اور حکومت کو اس کی ذمہ داری قبول کرنی چاہیے۔ اتر پردیش میں بھی بی جے پی نے فرقہ وارانہ ماحول کو خراب کرنے کی کوشش کی، لیکن لوگوں کی سمجھ داری کی وجہ سے ہولی اور جمعہ کی نمازیں پرامن رہیں۔‘‘

ہمیں تمام زبانوں کا احترام کرنا چاہیے

جنوبی ہند میں ہندی زبان کو لے کر جاری تنازعے پر بھی مسٹر علوی نے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ انھوں نے آندھرا پردیش کے نائب وزیر اعلیٰ پون کلیان کے اس بیان پر کہ ہندو کو سب پر مسلط کرنے کی ضرورت نہیں ہے، ردعمل دیتے ہوئے کہا ’’جو ہندی کی مخالفت کرتا ہے وہ بھی سیاست کر رہا ہے اور ہندی کو سب پر مسلط کرنے کی بات کرتا ہے وہ بھی سیاست کر رہا ہے۔ ہمیں تمام زبانوں کا احترام کرنا چاہیے۔ شمالی ہندوستان کے لوگوں کو جنوبی ہند کی زبانیں سیکھنی چاہئیں اور جنوبی ہندوستان کے لوگوں کو شمال ہند کی زبانیں۔

بھارت ایکسپریس اردو

Ghulam Mohammad

Recent Posts

UP New Congress President: ارادھنا مشرا بنیں یوپی کانگریس کی نئی صدر، عمران مسعود کار گزار صدر مقرر

ارادھنا مشرا پرتاپ گڑھ کی رام پور خاص اسمبلی نشست سے کانگریس کی رکن اسمبلی…

4 hours ago

Asian Games 2026: ایشین گیمز 2026 کی اختتامی تقریب میں نیرو ڈھانڈا ہوں گی ہندوستان کی پرچم بردار، ٹریپ شوٹر نے 2 گولڈ سمیت جیتے ہیں 3 تمغے

نیرو ڈھانڈا کی کارکردگی کے اعتراف میں انہیں اختتامی تقریب میں ہندوستانی دستے کی قیادت…

5 hours ago