نئی دہلی: جامعہ ملیہ اسلامیہ میں طلبہ یونین کی بحالی کے مطالبے کو لے کر طلبہ کا احتجاج بدھ کو 17ویں روز بھی جاری رہا۔ یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے طلبہ یونین کے آئین کو منظوری ملنے کے 15 دن کے اندر انتخابات کرانے کا فیصلہ کیے جانے کے باوجود طلبہ نے اپنا احتجاج ختم کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ اس تعطل کے درمیان یونیورسٹی انتظامیہ نے بدھ کو ٹوٹی ہوئی کھڑکیوں کی تصاویر جاری کرتے ہوئے الزام لگایا کہ طلبہ نے زبردستی کیمپس کے کچھ حصوں میں داخل ہو کر نگرانی کے کیمروں اور یونیورسٹی کی دیگر املاک کو نقصان پہنچایا۔انتظامیہ نے مبینہ نقصان کے سلسلے میں کی جانے والی کارروائی کے بارے میں کوئی واضح معلومات نہیں دیں۔ احتجاج کرنے والے طلبہ کا کہنا ہے کہ انتظامیہ کو طلبہ یونین کے انتخابات کے لیے ایک مقررہ تاریخ کا اعلان کرنا چاہیے۔ جامعہ میں 2006 سے طلبہ یونین کے انتخابات نہیں ہوئے ہیں۔ طلبہ کا یہ بھی مطالبہ ہے کہ یونین کے آئین کو منظوری دینے کے لیے وقت کی حد مقرر کی جائے۔
انتظامیہ کے حکم کے باوجود احتجاج ختم نہیں
یونیورسٹی انتظامیہ نے پیر کو ایک حکم جاری کرتے ہوئے کہا تھا کہ طلبہ یونین کے آئین کو منظوری ملنے کے 15 دن کے اندر انتخابات کرائے جائیں گے۔ اس کے باوجود طلبہ کا احتجاج جاری ہے۔ حکم نامے میں احتجاج کے دوران طلبہ کو جاری کیے گئے معطلی کے احکامات اور وجہ بتاؤ نوٹس بھی منسوخ کر دیے گئے۔ اس کے علاوہ احتجاج کے دوران سکیورٹی اہلکاروں کے رویے کی جانچ کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دینے کی گنجائش بھی رکھی گئی۔ طلبہ کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ ان کے مطالبات پورے کرنے کے لیے کافی نہیں ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ جب آئین کو منظوری دینے کے لیے کوئی مقررہ مدت طے نہیں کی گئی تو انتخابات کرانے کی یقین دہانی پر کیسے عمل ہوگا۔غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال پر بیٹھے طلبہ میں شامل ریحان خان نے پیر کو کہا تھا، ’’ہمارا پہلا مطالبہ تھا کہ طلبہ یونین کے انتخابات بحال کیے جائیں اور انتخابی تاریخوں کا اعلان کیا جائے۔‘‘ اس معاملے پر چار طلبہ غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال پر بیٹھے ہیں۔
#WATCH | Delhi: Outside visuals from Jamia Millia Islamia, where students continue their protest over various demands. LoP, Lok Sabha, Rahul Gandhi is expected to visit the university today https://t.co/7qmibH4cmM
— ANI (@ANI) October 28, 2026
طلبہ سے عوامی معافی مانگنے کو کہا گیا
یونیورسٹی کے حکم نامے میں یہ بھی کہا گیا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ انتظامیہ کے خلاف احتجاج کے دوران دیے گئے مبینہ ہتک آمیز بیانات، اقدامات اور سوشل میڈیا پوسٹس کے لیے ایک پریس کانفرنس میں عوامی طور پر معافی مانگنے پر رضامند ہوئے ہیں۔حکم نامے کے مطابق، ایسی پوسٹس کو فوری طور پر ہٹانے کی ہدایت دی گئی اور کہا گیا کہ حکم جاری ہونے کے بعد احتجاج ختم کر دیا جائے گا۔ پیر کو کیمپس میں سکیورٹی بڑھائے جانے کے دوران احتجاج کرنے والے طلبہ اور نیم فوجی دستوں کے اہلکاروں کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئی تھیں۔
آن لائن کلاسوں کے بعد طلبہ کو کیمپس میں داخل ہونے سے روکا گیا
Delhi: Heavy security has been deployed at Jamia Millia Islamia University, with a large number of Delhi Police and paramilitary personnel stationed at Gate No. 4, where two students have been detained by the police. Additionally, a large deployment of paramilitary forces has been stationed at Gate No. 7
— IANS (@ians_india) October 28, 2026
کشیدگی کے پیش نظر یونیورسٹی انتظامیہ نے تمام کورسز کی کلاسیں آن لائن کر دی ہیں۔ اس کے بعد انتظامیہ کے خلاف نعرے لگانے والے طلبہ کو پولیس اہلکاروں نے یونیورسٹی میں داخل ہونے سے روک دیا۔پیر کو جامعہ نگر کے سیدا منزل میں جامعہ کلیکٹو کی جانب سے منعقدہ پریس کانفرنس میں سابق طلبہ، یونیورسٹی کے بانی خاندانوں کے ارکان، فن کاروں، وکلا اور طلبہ نمائندوں نے احتجاج کرنے والوں سے یکجہتی کا اظہار کیا۔ انہوں نے کیمپس میں جمہوری سرگرمیوں کے لیے جگہ بحال کرنے کا مطالبہ کیا۔پریس کانفرنس میں نیشنل اسٹوڈنٹس یونین آف انڈیا (این ایس یو آئی)، آل انڈیا اسٹوڈنٹس فیڈریشن (اے آئی ایس ایف)، اسٹوڈنٹس فیڈریشن آف انڈیا (ایس ایف آئی)، آل انڈیا ڈیموکریٹک اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن (اے آئی ڈی ایس او)، آل انڈیا اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن (آئسا) اور دِشا کے نمائندوں نے بھی طلبہ کے مطالبات کی حمایت کی۔ان نمائندوں نے انتظامیہ اور احتجاج کرنے والے طلبہ کے درمیان بامعنی بات چیت کی ضرورت پر زور دیا، تاکہ طلبہ یونین کے انتخابات اور کیمپس میں جمہوری سرگرمیوں کی بحالی سے متعلق تعطل کو ختم کیا جا سکے۔
بھارت ایکسپریس اردو
بہار قانون ساز کونسل کے پٹنہ گریجویٹ حلقے کے انتخاب میں جن سوراج کے امیدوار…
مالی سال 2027 کی پہلی ششماہی، یعنی اپریل سے ستمبر کے دوران، کمپنی کی آمدنی…
وزیر اعظم نریندر مودی کے پارلیمانی حلقے وارانسی میں سماج وادی پارٹی نے ٹیچر حلقے…
برازیل کے صدارتی انتخابات میں لولا دا سلوا کو 51.79 فیصد درست ووٹ ملے، جبکہ…
منتظمین کے مطابق، اچھی فلم بنانے کے لیے جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ انسانی احساسات اور…
ایشا نے اپنے بھائی اور ریلائنس جیئو کے چیئرمین آکاش امبانی کی محنت کا بھی…