سیاست

Farmer Protest: سی ایم مان کی کسانوں سے بات چیت ناکام، کسانوں کا 5 مارچ سے غیرمعینہ مدت کا دھرنا

پنجاب کے وزیر اعلی بھگونت مان اور متحدہ کسان مورچہ (ایس کے ایم) کے درمیان پیر کو ہونے والی ملاقات بے نتیجہ رہی۔میٹنگ میں کسی بھی مطالبے پر اتفاق رائے نہیں ہو سکا۔ کسانوں کا الزام ہے کہ وزیر اعلیٰ مان میٹنگ کو درمیان میں چھوڑ کر چلے گئے، جس کی وجہ سے کسانوں میں غصہ بڑھ گیا ہے۔ اس کے بعد ایس کے ایم نے 5 مارچ سے چندی گڑھ میں کسانوں کے قرض معافی اسکیم سمیت مختلف مطالبات کو لے کر غیر معینہ مدت کے دھرنے کا اعلان کیا ہے۔

چندی گڑھ میں وزیر اعلیٰ اور کسانوں کے درمیان ہونے والی ملاقات کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا، لیکن دونوں پارٹیوں کے درمیان کشیدگی بڑھ گئی، کسانوں نے وزیر اعلیٰ مان پر الزام لگایا کہ وہ میٹنگ کے درمیان میں ہی چلے گئے اور مبینہ طور پر انہیں دھمکانے کی کوشش کی۔ میٹنگ کے بعد ایس کے ایم کے لیڈران بشمول جوگندر سنگھ اوگرہان اور بلبیر سنگھ راجیوال نے عدم اطمینان کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے کہ کسی وزیر اعلیٰ نے میٹنگ کے دوران کسانوں کو براہ راست دھمکی دینے کی کوشش کی ہے۔

بی کے یو ایکتا اوگرہان کے صدر جوگندر سنگھ اوگرہن نے کہا کہ انہوں نے (سی ایم مان) ہمارے مطالبات  کونہیں سنا  اور میٹنگ سے واک آؤٹ کر گئے۔ ایک اور کسان رہنما بلبیر سنگھ راجیوال نے کہا کہ جب وزیر اعلیٰ دو گھنٹے سے بھی کم وقت تک جاری رہنے والی میٹنگ سے واک آؤٹ کر گئے ، تب کسان اپنے 18 میں سے صرف آٹھ مطالبات ان کے سامنے رکھا۔ وزیر اعلیٰ مان نے ریاست کی معیشت پر منفی اثرات کا حوالہ دیتے ہوئے کسانوں سے سڑکیں بلاک کرنے اور احتجاج نہ کرنے کی اپیل کی تھی۔

5 مارچ کو جو کرنا ہو ہے وہ کریں

کسان رہنماؤں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ مان نے یکم جون سے پہلے دھان کی خریداری کے مطالبے سے اتفاق کیا۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ دیگر اہم معاملات پر انہوں نے (پنجاب کے وزیر اعلیٰ) نے مبینہ طور پر کوئی عہد کرنے کی کوشش نہیں کی۔ جب کسان رہنماؤں نے اپنے مطالبات پر اصرار کیا تو وزیر اعلیٰ مایوس ہو گئے اور ان سے کہا کہ 5 مارچ کو جو کرنا ہے کر لو۔ کسان رہنماؤں نے سی ایم مان پر تاخیری حربے اپنانے اور کسانوں کے خدشات کو مؤثر طریقے سے حل کرنے میں ناکام ہونے کا الزام لگایا۔

انہوں نے الزام لگایا کہ ریاستی حکومت کوئی حل پیش کرنے کے بجائے ان کی تحریک کو دبانے کی کوشش کر رہی ہے۔ SKM کے پاس ایک 18 نکاتی یادداشت ہے، جس میں نئی ​​فارم پالیسی کے تحت ان کے مفادات کا تحفظ کرنے کے علاوہ کم از کم امدادی قیمت (MSP) کی گارنٹی، کسانوں کے قرض کی معافی کی اسکیم کا تعارف شامل ہے۔ اب 5 مارچ کو پورے پنجاب کے کسان تحریک میں شامل ہوں گے۔

بھارت ایکسپریس

Abu Danish Rehman

Recent Posts

Jantar Mantar protests: جنتر منتر پر مظاہرے کے دوران سی آئی ایس ایف جوان پر چاقو سے حملہ، دہلی پولیس نے درج کی ایف آئی آر

چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کے مطالبے پر احتجاج کے دوران واقعہ، نامعلوم…

42 minutes ago

India-Switzerland Partnership: بھارت-سوئٹزرلینڈ شراکت داری کو نئی رفتار، مائیگریشن سے ٹیکنالوجی اور اسٹارٹ اپس تک 5 اہم معاہدے طے

سوئس صدر گائے پرمیلن کے دورۂ ہند کے دوران دونوں ممالک کے درمیان پانچ اہم…

2 hours ago

Nobel Prize in Medicine 2026: کارل ڈائسروتھ، پیٹر ہیگیمن اور جارج ناگل مشترکہ طور پر طب کے نوبل اعزاز سے سرفراز

2026 کے نوبیل انعامات کے شیڈول کے مطابق پیر کو میڈیسن کے انعام کا اعلان…

2 hours ago