سیاست

US China Slash Tariffs: امریکہ – چین نے محصولات میں کردی کمی، کیا تجارتی وار اب ہو جائے گی ختم ؟

امریکہ اور چین نے بدھ کو دنیا کی دو اقتصادی سپر پاورز کے درمیان اعلیٰ سطحی مذاکرات کے بعد اپنے باہمی ٹکراؤ کو ختم کر دیا۔ دونوں ممالک نے 90 دنوں کے لیے ایک دوسرے پر محصولات میں تقریباً 115 فیصد کمی کا اعلان کیا۔ واشنگٹن اور بیجنگ دونوں نے تجارتی جنگ کو عارضی طور پر روکنے پر اتفاق کیا، جس کی وجہ سے دنیا بھر کی منڈیوں میں افراتفری پھیلی ہوئی ہے اور سامان کی بین الاقوامی سپلائی بری طرح متاثر ہوئی ہے۔

جنیوا میں دو دن تک جاری رہنے والی بات چیت کے بعد امریکا نے چین سے درآمد کی جانے والی اشیا پر محصولات کو 145 فیصد سے کم کر کے 30 فیصد کرنے پر اتفاق کیا۔ دوسری جانب چین نے بھی ٹیرف کی شرح 125 فیصد سے کم کرکے 10 فیصد کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ٹیرف میں کمی کے بعد یہ نئی شرحیں بدھ کی آدھی رات سے واشنگٹن میں نافذ ہوگا۔ ٹیرف میں اس کمی کو دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں کمی کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔

امریکہ اور چین کے درمیان ٹیرف کی شرحوں کے اعلان سے عین قبل فاکس نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے منگل کو کہا کہ واشنگٹن نے چین کے ساتھ بہت مضبوط تجارتی معاہدہ کرنے کے لیے ایک مکمل بلیو پرنٹ تیار کر لیا ہے۔ اس میں دلچسپ بات یہ ہے کہ اس کے بعد چین کی معیشت امریکی کاروبار کے لیے کھل جائے گی۔ ٹرمپ نے مزید کہا کہ اس کے ساتھ ہم اپنی معیشت کو چینی کاروبار کے لیے کھولنے کی بھی کوشش کر رہے ہیں۔

ٹرمپ کی سخت ٹیرف پالیسی کا بڑا منفی اثر چین کی معیشت پر پڑا تھا

اس سے قبل ٹرمپ کی سخت ٹیرف پالیسی کا سب سے بڑا منفی اثر چین کی معیشت پر پڑا تھا۔ تاہم، بیجنگ نے بھی جوابی ٹیرف کو 100 فیصد تک بڑھا کر واشنگٹن کے خلاف سخت جواب دیا۔ ٹرمپ کے اس ٹیرف کی وجہ سے ان امریکی کمپنیوں کی مشکلات بڑھ گئیں، جو چین میں اپنی پیداوار کر رہی تھیں۔

کیا تجارتی جنگ ختم ہو گئی ہے؟

ایسے میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی کی وجہ اب ختم ہو گئی ہے؟ جواب ہے- نہیں، امریکہ اور چین کے درمیان  کشیدگی میں کمی کے باوجود متنازعہ مسائل بدستور برقرار ہیں۔ امریکہ کی طرف سے لگائے گئے ٹیرف کی شرح چین سے زیادہ ہے۔ واشنگٹن نے اضافی 20 فیصد چارج اس لیے لگایا ہے کیونکہ ٹرمپ نے شکایت کی تھی کہ دوا بنانے کے لیے چین سے درآمد کیے گئے کیمیکل استعمال کیے گئے تھے۔

واشنگٹن طویل عرصے سے بیجنگ پر فینٹیل کی تجارت کا الزام لگاتا رہا ہے، جس کی بیجنگ تردید کرتا ہے۔ جہاں ایک طرف امریکہ نے اس معاملے پر مزید بات چیت کا عندیہ دیا ہے وہیں دوسری طرف بیجنگ نے واشنگٹن کو خبردار کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ وہ الزامات لگانا بند کر دے۔ ایسے میں ماہرین کا خیال ہے کہ بیجنگ کی اس وارننگ کے بعد 90 دن کا ٹیرف بریک جو لگایا گیا ہے، اس مدت کے مکمل ہونے کے بعد ایک بار پھر غیر یقینی کی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے۔

بھارت ایکسریس اردو

Abu Danish Rehman

Recent Posts

Modi’s Focus on Water Education: پانی کے تحفظ پر مودی حکومت کا بڑا زور، اسکولوں کے نصاب میں شامل ہوں گے آبی انتظام سے متعلق موضوعات

نئی دہلی میں ایمپاورڈ ٹاسک فورس (ETF) کے 20ویں اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے سی…

7 hours ago

UDMA Day 2026: جامعہ ملیہ اسلامیہ میں اُڈما ڈے 2026 کا انعقاد 10 اکتوبر سے، یونانی طب، ادویہ سازی، تحقیق، تعلیم اور صحت سے وابستہ نمائندگان کی شرکت

میلے میں ڈسٹری بیوٹرز اور ایجنسیوں کو کمپنی مالکان اور سینئر نمائندگان سے براہِ راست…

8 hours ago

INDIA Alliance Protest: ایس آئی آر کے خلاف اپوزیشن کا ملک گیر احتجاج، پٹنہ میں تیجسوی کا مارچ، لکھنؤ اور بنگلورو میں بھی مظاہرے

بہار کے دارالحکومت پٹنہ میں اپوزیشن کے ’انڈیا‘ اتحاد کے لیڈروں نے سڑکوں پر اتر…

8 hours ago