قومی

US military analyst calls ‘Operation Sindoor’ a decisive victory: امریکی فوجی تجزیہ کار نے ’آپریشن سندور‘ کو فیصلہ کن فتح قرار دیا، کہا- ہندوستان نے محدود وقت میں ہدف کیا حاصل

نئی دہلی: سابق امریکی فوجی، مصنف اور فوجی تجزیہ کار جان اسپینسر نے ’آپریشن سندور‘ کو ہندوستان کی بڑی فتح قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چار دنوں کی منصوبہ بند کارروائی کے دوران ’آپریشن سندور‘ نے نہ صرف اپنے تزویراتی مقاصد حاصل کیے بلکہ ان سے بھی آگے نکل گئے۔

جان اسپینسر نے اپنے ’ایکس‘ اکاؤنٹ پر بھارتی فوج کی کارروائی کے حوالے سے ایک پوسٹ لکھی ہے۔ انہوں نے کہا، ’’صرف چار دن کی درست فوجی کارروائی کے بعد، یہ معروضی طور پر واضح ہے کہ ہندوستان ایک بڑی فتح حاصل کی ہے۔ جس میں دہشت گردوں کے بنیادی ڈھانچے کو تباہ کرنا، فوجی برتری کا مظاہرہ کرنا، ڈیٹرنس کو بحال کرنا اور ایک نئی قومی سلامتی کے نئے نظریے کی نقاب کشائی کرنا جیسی اہم چیزیں شامل رہیں۔‘‘

 

جان نے کہا کہ ’آپریشن سندور‘ فی الحال ایک حساس موقوف پر آ گیا ہے، جسے کچھ لوگ جنگ بندی بھی کہہ سکتے ہیں۔ لیکن فوجی حکام نے جان بوجھ کر اس اصطلاح سے گریز کیا ہے۔ جنگی نقطہ نظر سے، یہ محض ایک وقفہ نہیں ہے، بلکہ واضح فوجی فتح کے بعد ایک اسٹریٹجک ٹھہراؤ ہے۔ بھارت نے آپریشن سندور کو مکمل طور پر ختم قرار نہیں دیا ہے۔

پہلگام واقعے کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے لکھا کہ بھارت پر 22 اپریل 2025 کو حملہ ہوا، جب جموں و کشمیر کے پہلگام میں 26 بھارتی شہری مارے گئے، جن میں زیادہ تر ہندو سیاح تھے۔ پاکستان میں قائم لشکر طیبہ (ایل ای ٹی) کی شاخ ٹی آر ایف نے ذمہ داری قبول کی اور اسے پاکستان کی انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) کی حمایت حاصل تھی۔ دہائیوں سے یہی صورت حال چلی آ رہی ہے۔ لیکن اس بار بھارت نے انتظار نہیں کیا۔ اس نے نہ تو بین الاقوامی ثالثی کی اپیل کی اور نہ ہی کوئی سفارتی نوٹ جاری کیا۔ بھارت نے لڑاکا طیارے تعینات کیے اور 7 مئی کو ’آپریشن سندور‘ شروع کیا، جو ایک تیز اور درست فوجی آپریشن تھا۔

جان اسپینسر نے کہا کہ آپریشن سندور کے تحت ہندوستانی فضائیہ نے پاکستان میں دہشت گردوں کے نو ٹھکانوں پر حملہ کیا، جن میں جیش محمد، لشکر طیبہ کے ہیڈکوارٹر اور آپریشنل مراکز شامل ہیں۔ پیغام واضح تھا کہ پاکستانی سرزمین سے کیے گئے دہشت گردانہ حملے اب جنگی کارروائیوں میں شمار کیے جائیں گے۔ ساتھ ہی، وزیر اعظم نریندر مودی نے نئی پالیسی کو واضح کیا کہ بھارت کسی بھی جوہری بلیک میلنگ کو برداشت نہیں کرے گا۔ بھارت جوہری بلیک میلنگ کی آڑ میں تیار کیے جا رہے دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر درست اور فیصلہ کن حملہ کرے گا۔ یہ صرف انتقامی کارروائی نہیں تھی بلکہ ایک اسٹریٹجک پالیسی کی نقاب کشائی تھی۔ پی ایم مودی نے واضح کیا کہ دہشت گردی اور بات چیت ایک ساتھ نہیں چل سکتے۔ پانی اور خون ایک ساتھ نہیں بہہ سکتے۔

بھارت ایکسپریس۔

Md Hammad

Recent Posts

WPL 2027 Auction: کون ہیں 15 سالہ اوما کاشوی؟ ڈبلیو پی ایل نیلامی میں فروخت ہونے والی سب سے کم عمر کھلاڑی بنیں

اوما بلے اور گیند دونوں سے ٹیم کے لیے اہم کردار ادا کرنے کی صلاحیت…

1 hour ago

Jamia Protest: جامعہ ملیہ اسلامیہ کا بڑا فیصلہ، 12 جنوری تک کیمپس بند، آن لائن ہوں گی کلاسیں، گھر بیٹھے ہوں گے سمسٹر امتحانات

کیمپس کے حالات اور طلبہ کی حفاظت کو مدنظر رکھتے ہوئے جامعہ ملیہ اسلامیہ نے…

2 hours ago