نئی دہلی: وزیراعظم نریندرمودی نے اتوار کے روز اپنے ماہانہ ریڈیو پروگرام من کی بات کی 130ویں قسط میں خطاب کرتے ہوئے اسٹارٹ اپ انڈیا اقدام کی دسویں سالگرہ کا ذکر کیا اور کہا کہ یہ ماحولیاتی نظام 2016 میں 500 سے بھی کم اسٹارٹ اپس سے بڑھ کر آج دو لاکھ سے زائد تسلیم شدہ اداروں تک پہنچ چکا ہے۔ سوشل میڈیا پر 2016 کی یادوں کو تازہ کرنے کے رجحان کا حوالہ دیتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ وہ بھی ملک کے ساتھ ایک یاد شیئر کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ جنوری 2016 میں نوجوانوں اور بھارت کے مستقبل کے لیے ایک جرات مندانہ مگر ضروری سفر کا آغاز ہوا، جسے آج دنیا اسٹارٹ اپ انڈیا کے نام سے جانتی ہے۔
’’اصل ہیرو بھارت کے نوجوان اختراع کار ہیں‘‘
وزیر اعظم مودی نے کہا کہ دس سال پہلے اس مہم کو شروع کرتے وقت بہت سے لوگوں کو اس کی اہمیت کا اندازہ نہیں تھا، مگر اس سفر کے اصل ہیرو وہ نوجوان ہیں جنہوں نے اپنی کمفرٹ زون سے باہر نکل کر تاریخ رقم کی۔ پی ایم مودی نے کہا کہ آج بھارت دنیا کا تیسرا سب سے بڑا اسٹارٹ اپ ایکو سسٹم بن چکا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بھارتی اسٹارٹ اپس اب اے آئی، خلائی ٹیکنالوجی، نیوکلیئر انرجی، سیمی کنڈکٹرز، موبیلیٹی، گرین ہائیڈروجن اور بایوٹیک جیسے شعبوں میں کام کر رہے ہیں، جن کا دس سال پہلے تصور بھی مشکل تھا۔
معیشت کی تیز رفتار ترقی اور معیار کی ذمہ داری
وزیر اعظم نے کہا کہ بھارت کی معیشت تیزی سے ترقی کر رہی ہے اور دنیا کی نظریں بھارت پر ہیں۔ ایسے وقت میں سب سے بڑی ذمہ داری معیار (کوالٹی) پر توجہ دینا ہے۔ انہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ ’’چلتا ہے‘‘ یا ’’ہو جائے گا‘‘ کا دور ختم ہو چکا ہے۔ پی ایم مودی نے عوام سے اپیل کی کہ ہر شعبے میں معیار کو اولین ترجیح دی جائے۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی مصنوعات چاہے وہ ٹیکسٹائل ہوں، ٹیکنالوجی، الیکٹرانکس یا پیکجنگ—دنیا میں اعلیٰ معیار کی پہچان بننی چاہئیں۔
زیرو ڈیفیکٹ، زیرو ایفیکٹ کا ویژن
وزیراعظم نے لال قلعہ سے دیے گئے اپنے نعرے ’’زیرو ڈیفیکٹ، زیرو ایفیکٹ‘‘ کو دہراتے ہوئے کہا کہ معیار سے وابستگی ہی بھارت کو وکست بھارت بنانے کی رفتار تیز کرے گی۔ سال کی پہلی من کی بات میں وزیر اعظم نے آئندہ یوم جمہوریہ، قومی ووٹرز ڈے، بھجن اور کیرتن کی ثقافتی اہمیت اور اے آئی امپیکٹ سمٹ میں بھارت کے کردار پر بھی روشنی ڈالی۔
اسٹارٹ اپ انڈیا: روزگار دینے والوں کا بھارت
واضح رہے کہ اسٹارٹ اپ انڈیا کا آغاز 16 جنوری 2016 کو ایک قومی پروگرام کے طور پر کیا گیا تھا، جس کا مقصد اختراع کو فروغ دینا، کاروبار کو آسان بنانا اور بھارت کو روزگار تلاش کرنے والوں کے بجائے روزگار دینے والوں کا ملک بنانا ہے۔ وزیر اعظم دفتر کے مطابق، گزشتہ ایک دہائی میں اسٹارٹ اپ انڈیا بھارت کی معاشی اور اختراعی ساخت کا مضبوط ستون بن چکا ہے۔ اس دوران ملک بھر میں دو لاکھ سے زائد اسٹارٹ اپس کو تسلیم کیا گیا ہے، جو روزگار، اختراع پر مبنی ترقی اور گھریلو ویلیو چین کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
تقریباً 16 سال بعد اس مقابلے میں ہندوستان کو ملا تمغہ، سیما کماری نے 32:50.05…
معروف اداکار مشتاق خان 24 ستمبر کو ممبئی میں انتقال کر گئے۔ ممبئی کے ناناوتی…
کم عمری کی شادی جیسے سماجی مسئلے پر بننے والے مقبول ٹی وی سیریل نے…
بی جے پی کی 4 یاترائیں 117 اسمبلی حلقوں سے گزرتے ہوئے جالندھر میں ہوں…
بہار قانون ساز کونسل انتخابات کے لیے جن سوراج نے 3 امیدواروں کے ناموں کا…
نئی دہلی کے تین مورتی حائفہ چوک پر حائفہ فتح کی 108ویں سالانہ یادگاری تقریب…