قومی

Famous poet Tahir Faraz passes away: الوداع ’کاشفِ محبت‘: مشہور شاعر طاہر فراز کا ممبئی میں انتقال

ادبی دنیا کے مشہور و معروف شاعر طاہر فراز مختصر علالت کے بعد اپنے مالک حقیقی سے جا ملے۔ اردو شاعری کی دنیا میں طاہر فراز کو ایک ایسی آواز کے طور پر یاد رکھا جائے گا جس نے بلند آہنگ کے بجائے ٹھہراؤ، نرمی اور احساس کو اختیار کیا۔ ان کی شاعری میں محبت، درد اور انسانی رشتوں کی لطیف پرچھائیاں نمایاں طور پر جھلکتی ہیں۔ طاہر فراز اُن شاعروں میں شامل تھے جن کے اشعار اسٹیج سے زیادہ دلوں میں جگہ بناتے تھے۔ ان کا کلام عام قاری کی زندگی سے براہِ راست مکالمہ کرتا ہے اور اسی سادگی میں گہری معنویت پوشیدہ ہے۔ اردو ادب میں ان کی خدمات آنے والی نسلوں کے لیے طویل عرصے تک ترغیب اور رہنمائی کا ذریعہ بنی رہیں گی۔

ادبی سفر اور پہچان

طاہر فراز نے اپنی غزلوں کے ذریعے محبت، فلسفہ اور انسانی جذبات کو بے حد خوبصورتی سے بیان کیا۔ ان کی مشہور غزلوں کو جگجیت سنگھ جیسے عظیم گلوکاروں نے اپنی آواز دی، جس کی وجہ سے انہیں ہر گھر میں پہچان ملی۔ ان کے سب سے مقبول اشعار میں سے ایک آج بھی لوگوں کی زبانی ہے:

“بہت عجیب ہے یہ بندشِ محبت بھی، کوئی کسی کو نہ پائے تو مر بھی جاتا ہے۔”

رامپور میں غم کی لہر

ان کے انتقال کی خبر ملتے ہی ان کے آبائی شہر رامپور میں غم کی فضا چھا گئی ہے۔ ادبی حلقوں سے وابستہ افراد کا کہنا ہے کہ طاہر فراز نے رامپور کی شاندار شاعری کی روایت کو پوری دنیا میں متعارف کروایا۔ ان کے جانے سے جو خلا پیدا ہوا ہے، اسے پُر کرنا ناممکن ہے۔

بین الاقوامی سطح پر مشاعروں کی جان

طاہر فراز نہ صرف بھارت بلکہ بین الاقوامی سطح پر مشاعروں کی جان مانے جاتے تھے۔ ان کی سادگی اور دل کو چھو لینے والے ترنم نے انہیں کروڑوں شائقین کے درمیان بے حد مقبول بنایا تھا۔

آخری الوداع

خاندانی ذرائع کے مطابق، طاہر فراز کو اتوار کے روز ظہر کی نماز کے بعد ممبئی میں ہی سپرِدِ خاک کیا جائے گا۔ سوشل میڈیا پر بھی ملک و بیرونِ ملک کے بڑے شعراء اور ان کے مداحوں نے انہیں جذباتی خراجِ عقیدت پیش کیا ہے۔

ان کی ایک مشہور غزل –

جب مرے ہونٹوں پہ میری تشنگی رہ جائے گی

تیری آنکھوں میں بھی تھوڑی سی نمی رہ جائے گی

سر پھرا جھونکا ہوا کا توڑ دے گا شاخ کو

پھول بننے کی تمنا میں کلی رہ جائے گی

ختم ہو جائے گا جس دن بھی تمہارا انتظار

گھر کے دروازے پہ دستک چیختی رہ جائے گی

کیا خبر تھی آئے گا اک روز ایسا وقت بھی

میری گویائی ترا منہ دیکھتی رہ جائے گی

وقت رخصت آئے گا اور ختم ہوگا یہ سفر

میرے دل کی بات میرے دل میں ہی رہ جائے گی

بھارت ایکسپریس اردو۔

Abul Kalam

Recent Posts

Seema Kumari Claims Asian Games: ایشین گیمز میں سیما کماری نے 10,000 میٹر دوڑ میں کانسے کا تمغہ جیتا، وزیر اعظم مودی نے سراہا

تقریباً 16 سال بعد اس مقابلے میں ہندوستان کو ملا تمغہ، سیما کماری نے 32:50.05…

59 minutes ago

Mushtaq Khan Passed Away: ’ویلکم‘ فیم اداکار مشتاق خان کا انتقال، 56 سال کی عمر میں کینسر سے ہار گئے زندگی کی جنگ

معروف اداکار مشتاق خان 24 ستمبر کو ممبئی میں انتقال کر گئے۔ ممبئی کے ناناوتی…

2 hours ago

Nasha Mukt Punjab Yatra: نشہ مکت پنجاب یاترا، 30 ستمبر کو جالندھر میں امت شاہ کریں گے اختتامی پروگرام سے خطاب

بی جے پی کی 4 یاترائیں 117 اسمبلی حلقوں سے گزرتے ہوئے جالندھر میں ہوں…

3 hours ago

PK Party Announces Bihar MLC: پی کے کا بڑا قدم، نیرج کمار کے خلاف جن سوراج نے اتارا امیدوار، اننت سنگھ کی بھی حمایت

بہار قانون ساز کونسل انتخابات کے لیے جن سوراج نے 3 امیدواروں کے ناموں کا…

4 hours ago