نئی دہلی :لوک سبھا میں گزشتہ دو دنوں سے خواتین ریزرویشن بل پر زبردست بحث دیکھنے کو ملی، جہاں حکومت کی بھرپور کوششوں کے باوجود بل منظور نہیں ہو سکا اور اپوزیشن کے سخت مؤقف کے باعث حکومت کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔حکومت کی جانب سے بل کو منظور کرانے کی ذمہ داری بنیادی طور پر امت شاہ نے سنبھال رکھی تھی۔ اس دوران نریندر مودی نے بھی اپوزیشن کو منانے کی کوشش کی اور اکھلیش یادو کو اپنا “دوست” قرار دیا۔ تاہم، حکومت کی تمام کوششوں کے باوجود اپوزیشن اپنے موقف پر قائم رہی۔
ووٹنگ میں حکومت کو شکست
خواتین ریزرویشن سے متعلق بل پر ہوئی ووٹنگ میں کل 528 ارکان نے حصہ لیا۔
بل کی منظوری کے لیے دو تہائی اکثریت یعنی 352 ووٹ درکار تھے، لیکن حکومت مطلوبہ اکثریت حاصل نہیں کر سکی اور بل مسترد ہو گیا۔
آگے کا راستہ کیا؟
حکومت کے پاس اب ان بلوں کو منظور کرانے کے لیے Joint Session of Parliament کا راستہ باقی رہ گیا ہے۔
اس کے علاوہ خواتین ریزرویشن سے متعلق ایک قانون پہلے ہی منظور ہو چکا ہے، جس کے تحت یہ قانون 2034 کے انتخابات میں نافذ ہونا ہے۔ موجودہ بل خواتین ریزرویشن کو پانچ سال پہلے نافذ کرنے کی کوشش تھی، جو ناکام ہو گئی، تاہم اصل قانون برقرار ہے۔
کن بلوں پر ہوئی ووٹنگ؟
خواتین ریزرویشن سے متعلق تین اہم بلوں پر ووٹنگ ہوئی:
اس طرح اپوزیشن کی متحدہ حکمت عملی نے حکومت کو بڑا سیاسی جھٹکا دیا۔
بھارت ایکسپریس اردو
برازیل کے صدارتی انتخابات میں لولا دا سلوا کو 51.79 فیصد درست ووٹ ملے، جبکہ…
منتظمین کے مطابق، اچھی فلم بنانے کے لیے جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ انسانی احساسات اور…
ایشا نے اپنے بھائی اور ریلائنس جیئو کے چیئرمین آکاش امبانی کی محنت کا بھی…
بھارت کی صدارت میں 12ویں برکس پارلیمانی کانفرنس کا انعقاد نئی دہلی میں پارلیمنٹ ہاؤس…
پاکستان نے یکم ستمبر کو ایس سی او سربراہانِ مملکت کی کونسل کی 2026-27 کی…
والٹز کی تقریر کے دوران کیوبا کے وزیر خارجہ برونو روڈریگیز پریلا آگے بڑھے اور…