نئی دہلی: لوک سبھا میں ”ناری شکتی وندن ایکٹ“ اور حدبندی (ڈیلیمیٹیشن) کے موضوع پر جاری بحث کے دوران مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے اپوزیشن کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ موجودہ انتخابی نظام میں ”ایک ووٹ، ایک قدر“ کے آئینی اصول کی خلاف ورزی ہو رہی ہے۔ انہوں نے دلیل دی کہ ملک میں کئی ایسے پارلیمانی حلقے ہیں جہاں ووٹروں کی تعداد غیر معمولی حد تک بڑھ چکی ہے، جس کے باعث عوامی نمائندگی کا توازن بگڑ گیا ہے۔ بحث کے دوران سماجوادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو نے دہلی اور غازی آباد کی مثال دیتے ہوئے موجودہ ووٹر ڈیٹا پر سوال اٹھایا۔ ان کا کہنا تھا کہ جو اعداد و شمار پیش کیے جا رہے ہیں وہ موجودہ حقیقت سے کم ہیں اور ان علاقوں میں ووٹروں کی تعداد کہیں زیادہ ہو سکتی ہے، جس سے نشستوں اور آبادی کے درمیان عدم توازن واضح ہوتا ہے۔
اکھلیش یادو کے اس بیان پر امت شاہ نے طنزیہ انداز میں جواب دیتے ہوئے کہا کہ وہ دراصل حکومت کے مؤقف کو مضبوط کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کو شاید یہ سمجھ نہیں آ رہا کہ وہ اپنے حق میں بول رہے ہیں یا مخالفت میں۔ شاہ نے واضح کیا کہ یہی عدم توازن حدبندی کی ضرورت کو اجاگر کرتا ہے۔ وزیر داخلہ نے ایوان کے سامنے تفصیلی اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں 127 سے زائد لوک سبھا نشستیں ایسی ہیں جہاں 20 لاکھ سے زیادہ ووٹرز ہیں۔ انہوں نے بنگلورو نارتھ، بنگلورو ساؤتھ، ملکاجگیری اور غازی آباد جیسے حلقوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہاں ووٹروں کی تعداد 27 لاکھ سے 29 لاکھ کے درمیان ہے۔ اسی طرح شمال مغربی دہلی میں بھی تقریباً 27 لاکھ ووٹرز موجود ہیں۔
امت شاہ نے مزید کہا کہ بعض حلقوں میں ووٹروں کی تعداد 49 لاکھ تک پہنچ چکی ہے، جو جمہوری نظام کے لیے ایک سنگین مسئلہ ہے۔ ان کے مطابق ایک ہی رکن پارلیمنٹ کے لیے اتنی بڑی تعداد کے ووٹروں کی نمائندگی کرنا نہایت مشکل ہو جاتا ہے، جس سے عوامی مسائل کو مؤثر طریقے سے ایوان تک پہنچانا ممکن نہیں رہتا۔ انہوں نے کہا کہ دوسری جانب کئی ایسے حلقے بھی ہیں جہاں ووٹروں کی تعداد محض 6 لاکھ کے قریب ہے، جس سے واضح ہوتا ہے کہ نمائندگی میں شدید عدم توازن موجود ہے۔ امت شاہ نے زور دے کر کہا کہ یہ صورتحال آئین کے بنیادی اصول ”ایک شخص، ایک ووٹ، ایک قدر“ کے خلاف ہے، جسے درست کرنا ضروری ہے۔
وزیر داخلہ نے وضاحت کی کہ حدبندی کا مقصد نہ صرف نشستوں کی ازسرنو تقسیم کرنا ہے بلکہ لوک سبھا کی نشستوں کی تعداد میں اضافہ بھی کیا جا سکتا ہے تاکہ ہر ووٹر کو برابر نمائندگی مل سکے۔ انہوں نے کہا کہ جب نئی حدبندی ہوگی تو ووٹروں کے تناسب کے مطابق نشستیں بڑھائی جائیں گی، جس سے جمہوری نظام مزید مضبوط ہوگا۔ انہوں نے اپوزیشن پر الزام عائد کیا کہ وہ سیاسی وجوہات کی بنا پر حدبندی کی مخالفت کر رہی ہے، حالانکہ یہ ایک انتظامی اور آئینی ضرورت ہے۔ امت شاہ نے کہا کہ اس عمل سے نہ صرف ووٹروں کا احترام بڑھے گا بلکہ عوامی نمائندگی بھی زیادہ مؤثر ہو جائے گی۔ بحث کے دوران حکمراں جماعت کے اراکین نے میزیں بجا کر امت شاہ کی حمایت کی، جبکہ اپوزیشن نے اپنے تحفظات برقرار رکھے۔ تاہم یہ واضح ہو گیا کہ حدبندی اور نمائندگی کا مسئلہ آنے والے وقت میں قومی سیاست کا ایک اہم موضوع بننے والا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
2026 کے نوبیل انعامات کے شیڈول کے مطابق پیر کو میڈیسن کے انعام کا اعلان…
مشترکہ پریس بیان میں وزیراعظم نریندر مودی نے ہندوستان اور سوئٹزرلینڈ کے درمیان بڑھتے ہوئے…
وزیراعظم نریندر مودی اور سوئٹزرلینڈ کے صدر گائے پارمیلن نے پیر کے روز نئی دہلی…
وزیر خزانہ نے ستمبر 2025 میں نافذ کیے گئے شرحوں کو معقول بنانے کے عمل…
سوئس صدر پارمیلن نے کہا کہ ان کا ہندوستان دورہ دونوں ممالک کے درمیان قائم…
سابق رکن پارلیمنٹ نے کہا کہ لڑکیوں کی کارکردگی اتنی اچھی نہیں رہی۔ میرا خیال…