یوم خواتین کے موقع پر جماعت اسلامی نے خواتین ے تحفظ کا معاملہ اٹھایا۔
نئی دہلی : جماعت اسلامی ہند کی قومی سیکرٹری رحمت النساء نے بین الاقوامی یومِ خواتین کے موقع پرملک میں خواتین کے خلاف بڑھتے ہوئے جرائم پرشدید تشویش کا اظہارکیا ہے۔ جماعت اسلامی ہند کے مرکز میں منعقد ہونے والی ماہانہ پریس کانفرنس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے رحمت النساء نے کہا کہ نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو(این سی آربی) کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق 2022 میں ہرایک لاکھ خواتین میں 51 خواتین مختلف جرائم درج کا شکار ہوئیں جبکہ ملک میں ہر16 منٹ میں آبروریزی کا ایک واقعہ رپورٹ ہوتا ہے۔ یہ صورتحال انتہائی تشویشناک اورناقابل قبول ہے۔ قتل کے ساتھ آبروریزی یا اجتماعی آبروریزی کے مقدمات میں سزا کی شرح 69.4 فیصد ہے، لیکن دیگرزنا بالجبرکے مقدمات میں یہ شرح کم ہوکر 27.4 فیصد رہ جاتی ہے، جو ہمارے نظامِ عدل کی ناکامی کوظاہرکرتی ہے۔ حالیہ واقعات، جیسے کولکاتا میں ایک میڈیکل ڈاکٹر کے ساتھ زیادتی اورقتل اورپونے میں بس میں ایک خاتون کے ساتھ زیادتی، ہمارے ملک میں خواتین کی سلامتی کی نازک حالت کو آشکار کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ مرکزی وزیررکشا کھڑسے کی بیٹی کے ساتھ ہونے والی چھیڑخانی کا واقعہ ظاہرکرتا ہے کہ عام خواتین تو درکنار، وی آئی پیزبھی محفوظ نہیں ہیں۔ رحمت النساء نے اس بحران کے اخلاقی پہلو پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ “چھیڑخانی اور بدتمیزی کے ہزاروں غیر رپورٹ شدہ کیسز معاشرے میں گہرے اخلاقی زوال کی نشاندہی کرتے ہیں۔ جماعت اسلامی ہند یہ سمجھتی ہے کہ حقیقی ترقی خواتین کی حفاظت، عزت، اور ان کے جائز حقوق کے تحفظ میں مضمر ہے۔ قوانین کا مؤثر نفاذ ضروری ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ سماجی اصلاح بھی لازمی ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ‘تم میں سب سے بہتر وہ ہے جس کے اخلاق سب سے اچھے ہوں’ ہم حکومت، تعلیمی اداروں اور سول سوسائٹی سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ خواتین کے احترام کے ماحول کو فروغ دیں اور علامتی اقدامات سے آگے بڑھ کر خواتین کو ان کا جائز مقام دلانے کے لیے ٹھوس اقدامات کریں۔”
جماعت اسلامی ہند نے وقف ترمیمی بل پرمایوسی کا اظہارکیا
جماعت اسلامی ہند کے نائب امیر پروفیسر سلیم انجینئر نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وقف ترمیمی بل 2024 پر جوائنٹ پارلیمانی کمیٹی (جے پی سی) کے جانبدارانہ رویے پر اپنی مایوسی کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا، “وسیع پیمانے پر عوامی مخالفت، لاکھوں اعتراضات اور تحفظات کے باوجود یہ بل آگے بڑھا دیا گیا، جس سے مشاورتی عمل کو بے معنی بنا دیا گیا ہے۔ یہ بل وقف ایکٹ 1995 میں بڑی تبدیلیاں کرتا ہے اور وقف جائیدادوں کے انتظام میں حکومت کی مداخلت کو بڑھاتا ہے۔ ہم یہ واضح کرنا چاہتے ہیں کہ وقف جائیدادیں حکومت کی ملکیت نہیں بلکہ مذہبی امانتیں ہیں۔ وقف کے نظام کو کمزور کرنے یا اس پر ریاستی کنٹرول بڑھانے کی کوئی بھی کوشش ناقابل قبول ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ اس بل کو واپس لے اور موجودہ وقف قوانین کے مؤثر نفاذ پر توجہ دے تاکہ مسلم ورثے اور اداروں کے تحفظ کویقینی بنایا جا سکے۔ ہم ان نام نہاد سیکولر جماعتوں سے بھی مایوس ہیں جنہوں نے پارلیمنٹ میں اس بل کی حمایت کی۔ ہم آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ (اے آئی ایم پی ایل بی) اور دیگر مسلم تنظیموں کی جانب سے اس قانون کو آئینی، قانونی، جمہوری اور پُرامن طریقے سے چیلنج کرنے کی حمایت کرتے ہیں۔ ہم آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کی جانب سے 13 مارچ کوجنترمنتر پر احتجاج کی کال کی مکمل تائید کرتے ہیں اور تمام انصاف پسند شہریوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ بڑی تعداد میں اس احتجاج میں شریک ہوں۔”
ہندوستان میں بڑھتی ہوئی معاشی عدم مساوات پرسوال
پروفیسر سلیم انجینئر نے “ہندوستان میں بڑھتی ہوئی معاشی عدم مساوات” کے موضوع پر بات کرتے ہوئے انڈس ویلی کی سالانہ رپورٹ 2025 کا حوالہ دیا اور کہا، “یہ رپورٹ ظاہر کرتی ہے کہ ملک کی مجموعی دولت کا بڑا حصہ 10 فیصد امیر طبقے کے پاس ہے، جبکہ 50 فیصد غریب طبقہ بنیادی ضروریات کے لیے بھی جدوجہد کر رہا ہے۔ دولت سرمایہ داروں اور شہری اشرافیہ کے درمیان مرکوز ہورہی ہے جبکہ کمزور طبقات مزید کمزور ہورہے ہیں۔ انجینئر سلیم نے کہا کہ ہم حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ غربت کے خاتمے اور وسائل کی منصفانہ تقسیم کو ترجیح دے، جس کے لیے ترقی پسند ٹیکس نظام، سماجی فلاحی منصوبے اور بنیادی سہولیات تک رسائی کو یقینی بنانے کے لیے پالیسی ترامیم کی ضرورت ہے۔”
اقلیتوں کے خلاف تشدد اور فرقہ وارانہ جرائم کی مذمت
“مذہبی اقلیتوں کے خلاف بڑھتے ہوئے فرقہ وارانہ واقعات اورنفرت انگیزجرائم” کے حوالے سے جماعت اسلامی ہند کے نائب امیر انجینئر محمد سلیم نے کہا، “ہم اقلیتوں کے خلاف بڑھتے ہوئے تشدد اور فرقہ وارانہ جرائم کی شدید مذمت کرتے ہیں۔ مدھیہ پردیش میں دو افراد کی سرعام تذلیل اور پولیس حراست میں تشدد، راجستھان میں پولیس چھاپے کے دوران ایک نومولود بچی کی دردناک موت اور مہاراشٹر کے چکاہلی کُدالواڑی علاقے میں دکانوں کی منظم مسماری جیسے واقعات، ریاستی اداروں کے جانبدارانہ اور غیر انسانی رویے کو ظاہر کرتے ہیں۔ انجینئرسلیم نے مزید کہا کہ مسلمانوں کو سیاسی مقاصد کے لیے بدنام کیا جا رہا ہے۔ ہم حکومت، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور عدلیہ سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ آئین کا احترام کریں اورسب کوانصاف فراہم کریں۔ ہندوستان کے عوام کو فرقہ وارانہ تقسیم اورفسطائیت کے خطرے کے خلاف مزاحمت کرنی چاہیے۔ ‘تنوع میں وحدت’ ہمارا قومی شعار ہے، اورتمام شہریوں کوجمہوری اورآئینی اقدارکی بحالی کے لیے مل کر کام کرنا چاہئے تاکہ ایک منصفانہ معاشرہ تشکیل دیا جا سکے۔”
بھارت ایکسپریس اردو۔
پیوپلس اویرنس فورم کے صدر اور سپریم کورٹ کے سینئر ایڈوکیٹ زیڈ کے فیضان نے…
ایشین گیمز 2026 میں میرابائی چانو نے خواتین کے 49 کلوگرام ویٹ لفٹنگ مقابلے میں…
ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں امریکی صدر ڈونلڈ…
خصوصی گہری نظرثانی یعنی ایس آئی آر کو لے کر شیوسینا (یو بی ٹی) کے…
گریٹر نوئیڈا کے دیولا میں سرکاری اسکول کا معائنہ کرنے پہنچے سی جے پی ترجمان…
وزیر اعظم نریندر مودی نے بدھ کو کابینہ کے ارکان کے ساتھ ’چنتن شِور‘ کا…