بین الاقوامی

South Korea Political Conflict: جنوبی کوریا کے صدر یون کی رہائی کے فیصلے پر بڑھا سیاسی تنازعہ، حکمران اور اپوزیشن جماعتیں آمنے سامنے

سیول: جنوبی کوریا کے صدر یون سک یول کو نظر بندی سے رہا کرنے کے عدالتی فیصلے پر ہفتے کے روز حکمراں اور اپوزیشن جماعتوں کے درمیان گرما گرم بحث ہوئی۔ اس سے ملک میں سیاسی تقسیم مزید گہرا ہو گئی۔ حکمران پیپلز پاور پارٹی (پی پی پی) نے جنوبی سیول میں سپریم پراسیکیوٹرز کے دفتر کے سامنے ایک احتجاجی مظاہرہ کیا۔ مظاہرین نے یون کی حراست کو ’غیر قانونی‘ قرار دیتے ہوئے ان کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا۔

پی پی پی کے عبوری لیڈر کوون ینگ سی نے کہا کہ عدالت کی جانب سے ان کی رہائی کے فیصلے کے 20 گھنٹے بعد بھی وہ صدر کو حراست میں رکھے ہوئے ہیں۔ انہوں نے استغاثہ سے ’اپوزیشن پارٹی کی دھمکیوں کے سامنے نہ جھکنے‘ کی اپیل کی۔ پیپلز پارٹی کے 35 ارکان اسمبلی احتجاج میں شامل ہوئے۔

یونہاپ نیوز ایجنسی کے مطابق، پارٹی فلور لیڈر کوون سیونگ ڈونگ نے خبردار کیا کہ اگر صدر کو رہا نہ کیا گیا تو پارٹی استغاثہ کے خلاف ’غیر قانونی حراست‘ کے لیے شکایت درج کرائے گی۔

اس دوران، مرکزی اپوزیشن ڈیموکریٹک پارٹی (DP) نے پراسیکیوٹرز سے اسی پراسیکیوشن آفس کے قریب ایک ریلی کے دوران عدالت کے فیصلے کے خلاف اپیل کرنے کا زوردار اپیل کی۔

پارٹی نے متنبہ کیا کہ ایسا نہ کرنا ’عوام کے ساتھ غداری اور بغاوت کے سرغنہ کو رعایت‘ دینا ہوگا۔ ڈی پی نے اپیل کو ایک درست قانونی عمل بتاتے ہوئے خبردار کیا کہ اس آپشن پر عمل نہ کرنا ’یون سک یول کو آزاد کرنے کے لیے ایک بہانے‘ کے طور پر دیکھا جائے گا۔ قانون کے مطابق استغاثہ کے پاس فیصلے کے خلاف اپیل کرنے کے لیے سات دن ہوتے ہیں، ورنہ یون کو رہا کر دیا جائے گا۔

جنوبی کوریا کے صدارتی دفتر نے عدالت کے مواخذہ صدر یون سک یول کو نظربندی سے رہا کرنے کے فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے۔ اس سے امید پیدا ہوئی کہ یون جلد دفتر پر واپس آجائیں گے۔ ایک بیان میں، صدر کے دفتر نے کہا کہ وہ ’صدر کی گرفتاری کو منسوخ کرنے کے فیصلے کا خیر مقدم کرتا ہے۔‘

آپ کو بتاتے چلیں کہ ایک عدالت نے صدر یون سک یول کی گرفتاری منسوخ کرنے کی درخواست کو قبول کر لیا ہے، جنہیں مواخذے کا سامنا ہے۔ اس کے ساتھ ہی انہیں جمعہ کے روز حراست سے رہا کرنے کا حکم دیا گیا۔

یون کو سیول کے جنوب میں یویوانگ کے ایک حراستی مرکز میں رکھا گیا ہے۔ انہیں 15 جنوری کو 3 دسمبر کو مارشل لاء کے اعلان کے ذریعے بغاوت پر اکسانے کے الزام میں لایا گیا۔

گزشتہ ماہ کے آخر میں، عدالت نے 3 دسمبر کو یون کے مارشل لاء کے اعلان پر ان کے خلاف مواخذے کی سماعت مکمل کی اور جلد ہی اس پر فیصلہ سنائے گی کہ انہیں عہدے سے ہٹایا جائے یا نہیں۔ فیصلہ سنانے کے لیے سماعت کی تاریخ کا ابھی اعلان نہیں کیا گیا۔ اگر یون کو باضابطہ طور پر عہدے سے ہٹا دیا جاتا ہے تو 60 دنوں کے اندر فوری انتخابات کرائے جائیں گے۔ اگر مواخذے کو مسترد کر دیا گیا تو یون فوری طور پر اپنے فرائض دوبارہ شروع کر دیں گے۔

آپ کو بتاتے چلیں کہ صدر یون نے 3 دسمبر کی رات کو جنوبی کوریا میں ایمرجنسی مارشل لاء کا اعلان کیا تھا، لیکن پارلیمنٹ کی جانب سے اس کے خلاف ووٹ دینے کے بعد اسے منسوخ کر دیا گیا تھا۔ مارشل لاء صرف چند گھنٹے ہی رہا۔ حالانکہ، چند گھنٹوں کے لیے لگائے گئے مارشل لا نے ملکی سیاست کو ہلا کر رکھ دیا۔

بھارت ایکسپریس۔

Md Hammad

Recent Posts

Sanjay Mishra Autobiography: ’میں زیادہ پڑھا لکھا نہیں، پھر بھی لکھوں گا…‘ نیشنل ایوارڈ یافتہ سنجے مشرا لا رہے ہیں اپنی خودنوشت

’ہم سیکھتے سیکھتے رہ گئے‘ کے ذریعے اداکار سنجے مشرا اپنے ذاتی تجربات، جدوجہد اور…

20 minutes ago

JAISHANKAR SLAMS PAKISTAN AT UN: ’ایک دہشت گرد ملک مجھ سے یہ سوال پوچھ رہا ہے…‘ UNGA میں ایس جے شنکر کا پاکستان پر دوٹوک جواب، ویڈیو وائرل

نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی (UNGA) کے 81 ویں اجلاس کے دوران، وزیر…

56 minutes ago

Sikkim Rimbi Landslide: سکّم میں بارش کا قہر، ملبے کی زد میں گھر اور سڑکیں، 32 مکانات اب بھی خطرے میں

گلیشنگ ضلع کے رمبی گاؤں میں دیر رات بڑا لینڈ سلائیڈ، 2 مکانات مکمل طور…

58 minutes ago

CEC Gyanesh Kumar Dispute: انتخابی کمیشن کے وہ 2 افسر جنہوں نے فیصلوں پر اٹھائے سوال، جانیے سکھبیر سنگھ سندھو اور وویک جوشی کی پوری پروفائل

انتخابی کمیشن کے اندر فیصلوں سے متعلق اختلافات کی رپورٹ کے بعد دونوں الیکشن کمشنر…

2 hours ago