صنعت کار گوتم اڈانی نے خواتین کے عالمی دن کے موقع پر ایک ذاتی خط کے ذریعے صنفی مساوات اور خواتین کو بااختیار بنانے کے تئیں اپنے عزم کا اظہار کیا۔ Linkedin.com پر شیئر کیے گئے اپنے پیغام میں انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ خواتین کو مساوی مواقع ملنے چاہئیں، اور وہ کسی بھی شعبے میں اپنی صلاحیتوں کو مکمل طور پر بروئے کار لا سکتی ہیں۔یہ خط میں ان کی زندگی کے مختلف زاویہ سے جڑا ہواہے ، جس میں ایک بیٹے، ایک شوہر، ایک دادا اور ایک تاجر کے طور پر ان کے تجربات شامل ہیں۔
گوتم اڈانی نے اپنے بچپن کے تجربات شیئر کیے اور بتایا کہ کس طرح ان کی والدہ نے اپنے خاندان کو مضبوط کرنے کے لیے مشکلات پر قابوپایا اور گھر میں قائدانہ رول ادا کیا۔ اس کے بعد انہوں نے اپنی بیوی پریتی کے تعاون کی تعریف کی، جو اڈانی فاؤنڈیشن کے ذریعے لاکھوں خواتین اور بچوں کی زندگیاں بدل رہی ہیں۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ان کے پوتے پوتیاں، جو اب بغیر کسی امتیاز کے خواب دیکھتی ہیں، کس طرح اس تبدیلی کی علامت ہیں۔
اڈانی نے اپنے سفر میں ایک اہم موڑ کے بارے میں بات کی جب انہوں نے اپنی کمپنی کے پورٹ پروجیکٹس میں خواتین کی کمی دیکھی۔ اس تجربے نے انہیں یہ سمجھنے میں مدد کی کہ خواتین کو ان شعبوں میں مواقع کیوں نہیں ملتے، جن پر روایتی طور پر مردوں کا قبضہ ہے۔ اس کے بعد انہوں نے کمپنی کے اندر مساوی مواقع اور خواتین کی قیادت کو فروغ دینے کا عزم کیا۔
آج اڈانی گروپ کے بہت سے پروجیکٹوں میں خواتین کی قیادت والی ٹیمیں ٹیکنالوجی اور اختراع سے متعلق بہت سے اہم کاموں کو سنبھال رہی ہیں۔ قابل ذکر بات یہ ہےکہ اڈانی فاؤنڈیشن نے ’بٹر فلائی ایفیکٹ‘ کے نام سے ایک پہل شروع کی ہے، جس کا مقصد خواتین کو ان کی زندگی کے مختلف مراحل میں مدد فراہم کرنا ہے۔ اس کے تحت خواتین کو تعلیم، صحت اور پائیدار معاش جیسے اہم شعبوں میں بااختیار بنایا جا رہا ہے۔
گوتم اڈانی نے یہ بھی کہا کہ ان کے لیے خواتین کا عالمی دن صرف ایک تاریخ نہیں ہے، بلکہ یہ یاد دلانے کا موقع ہے کہ خواتین معاشرے کی ریڑھ کی ہڈی ہیں اور انہیں ہر شعبے میں برابری کا مقام ملنا چاہیے۔ انہوں نے اپنے پوتے پوتیوں سے وعدہ کیا کہ وہ ایک ایسا معاشرہ بنائیں گے، جہاں خواتین کو اپنی جگہ کے لیے جدوجہد نہیں کرنی پڑے گی ،کیونکہ وہ جگہ ان کے لیے پہلے سے ہی مخصوص ہوگی۔
خواتین کو بااختیار بنانے کے بارے میں اپنے وژن کا اشتراک کرتے ہوئے، انہوں نے یہ بھی کہا کہ خواتین کو ان کی قیادت کے مواقع کے لیے حوصلہ افزائی کرنا صرف ایک سماجی ذمہ داری نہیں ہے، بلکہ ایک انسانی ضرورت ہے۔
اڈانی نے اپنے پوتے پوتیوں اور مجموعی طور پر معاشرے کے ہر فرد سے صنفی مساوات کے لیے کام کرنے کی اپیل کی اور اس بات کو یقینی بنانے کا وعدہ کیا کہ ہر لڑکی اور عورت کو وہ مواقع ملے، جن کے وہ مستحق ہیں۔
بھارت ایکسپریس
علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اسٹوڈنٹس یونین کے سابق صدراورسپریم کورٹ کے ایڈوکیٹ زیڈ کے فیضان…
تقریب کے آغاز میں ڈاکٹر محمد اکمل نے تعارفی کلمات پیش کرتے ہوئے جامعہ ملیہ…
راہل گاندھی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ میں دعویٰ کیا کہ…
ٹی ایم سی رکن پارلیمنٹ سوگت رائے نے ایس آر ایف ٹی آئی میں ہوئی…
عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال نے پرویش ورما کی گرفتاری کا مطالبہ…
ایران امریکہ کشیدگی: آئی آر جی سی نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکہ نے…